“We are performing like a top-three pace attack” – Taskin Ahmed
بنگلہ دیشی فاسٹ باؤلنگ کا نیا دور
بنگلہ دیشی کرکٹ کے فاسٹ باؤلر ٹاسکن احمد کا ماننا ہے کہ ملک کا فاسٹ باؤلنگ یونٹ اب عالمی کرکٹ میں بہترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی ٹائیگرز اب اس سطح پر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ انہیں عالمی سطح پر سرفہرست تین پیس اٹیکس میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہ دعویٰ حالیہ برسوں میں بنگلہ دیشی باؤلنگ لائن اپ میں آنے والی نمایاں تبدیلیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
فاسٹ باؤلنگ میں انقلاب اور گہرائی
ٹاسکن احمد نے کورونا وائرس کی وبا کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے بعد سے ٹیم کے پیس اٹیک میں آنے والے انقلابی تبدیلیوں پر فخر کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیم کے پاس اب باؤلنگ میں اتنی گہرائی موجود ہے کہ فارم میں موجود کھلاڑیوں کو بھی کبھی کبھی ٹیم سے باہر بٹھایا جاتا ہے اور اس کے باوجود ٹیم کی کارکردگی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ٹاسکن نے کہا: ”مجھے یقین ہے کہ ہم دنیا کے ٹاپ تین فاسٹ باؤلنگ یونٹس میں شمار ہونے کے قابل ہیں۔ ہر کھلاڑی بہتر ہونے کے لیے پرعزم ہے۔ ہم مسلسل سیکھ رہے ہیں اور بہتری کی جانب گامزن ہیں، اگرچہ ابھی طویل سفر باقی ہے۔“
انہوں نے مزید کہا کہ وبا کے بعد سے ایک نیا گروپ تشکیل پایا ہے جس نے فاسٹ باؤلرز کی فٹنس اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اب چار سے پانچ باؤلرز تسلسل کے ساتھ کارکردگی دکھا رہے ہیں اور مستقبل میں مزید باصلاحیت فاسٹ باؤلرز کے سامنے آنے کی امید ہے۔
مخالف ٹیموں کے لیے ایک انتباہ
ٹاسکن کا ماننا ہے کہ اب مخالف ٹیمیں بنگلہ دیش کے خلاف پیس فرینڈلی پچز تیار کرنے سے پہلے دو بار سوچیں گی۔ انہوں نے کہا: ”آپ کبھی نہیں جانتے کہ آپ کو کس طرح کی کنڈیشنز یا وکٹ ملے گی، لیکن ہمارے باؤلنگ گروپ میں تنوع ہے۔ ہم کسی بھی قسم کی کنڈیشنز میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ٹیموں کو ہمارے خلاف سیمنگ وکٹیں تیار کرنے سے پہلے سوچنا پڑے گا۔“
نئے ٹیلنٹ اور ٹیم ورک کا اثر
ایک وقت تھا جب ٹاسکن احمد ہی بنگلہ دیشی پیس اٹیک کا سب سے اہم نام سمجھے جاتے تھے، لیکن اب ناہید رانا جیسے نوجوان تیز باؤلر نے اپنی جگہ بنا لی ہے، جبکہ مستفیض الرحمان اب بھی ٹیم کے سب سے قابل اعتماد باؤلر ہیں۔ ٹاسکن نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ کھلاڑی ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ ناہید رانا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کے بلے باز بھی ان کا سامنا کرتے ہوئے غیر آرام دہ دکھائی دیے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
ٹاسکن کا خواب ہے کہ بنگلہ دیش میں فاسٹ باؤلنگ کا کلچر اسی طرح برقرار رہے۔ انہوں نے کہا: ”ایک دن ہم میں سے کوئی بھی نہیں کھیل رہا ہوگا، لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یہ پیس باؤلنگ کا کلچر جاری رہے۔ اس بات کا عالمی کرکٹ میں اعتراف کیا جانا کہ بنگلہ دیش کا پیس اٹیک خطرناک ہے، ہمارے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہے۔“
بلاشبہ، ٹاسکن احمد اور ان کے ساتھیوں کی یہ محنت رنگ لا رہی ہے اور بنگلہ دیشی ٹیم اب دنیا بھر کی بڑی ٹیموں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
