In Press, On Field, Always Cricket
Bangladesh Cricket

Tamim Iqbal calls for constructive criticism after becoming BCB president

Ahmed Khan · · 1 min read

تمیم اقبال کا بی سی بی صدر کا عہدہ سنبھالتے ہی اصلاحی سفر کا آغاز

بنگلہ دیش کرکٹ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد، تمیم اقبال نے اپنی ترجیحات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا اور عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ بورڈ کے کاموں پر تعمیری تنقید کریں تاکہ غلطیوں کی بروقت نشاندہی ہو سکے اور انہیں درست کرنے کا موقع ملے۔

ماضی کو پس پشت ڈال کر مستقبل کی تعمیر

7 جون کو انتخابات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، تمیم اقبال نے ماضی کی تلخیوں میں پڑنے کے بجائے مستقبل پر توجہ مرکوز کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران جو کچھ ہوا وہ درست نہیں تھا، تاہم وہ کسی پر انگلی اٹھانے یا الزام تراشی کرنے کے بجائے سب کو ساتھ لے کر چلنے کے خواہشمند ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ تنہا کسی بھی ادارے کو بہتر بنانا ممکن نہیں، اس لیے انہیں تمام اسٹیک ہولڈرز کی حمایت کی ضرورت ہے۔

تعمیری تنقید: بہتری کا ایک اہم ذریعہ

تمیم اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ بی سی بی کی ساکھ کو بحال کرنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بورڈ سے کوئی غلطی ہوتی ہے، تو میڈیا کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس پر تنقید کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعمیری تنقید ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے وہ بورڈ کے امور کو صحیح سمت میں گامزن کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ چار سالوں کے دوران وہ میڈیا کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گے اور اپنے منصوبوں کو عوام کے سامنے لاتے رہیں گے۔

شفافیت اور دیانتداری کا عزم

نئے صدر نے یقین دلایا کہ ان کی پوری کوشش ہوگی کہ بورڈ کے معاملات میں شفافیت برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ نہ تو وہ اور نہ ہی ان کے ساتھی ڈائریکٹرز کوئی ایسا قدم اٹھائیں گے جو کسی تنازعہ کو جنم دے۔ ان کا کہنا تھا، “ہم مکمل دیانتداری کے ساتھ کام کرنے کی کوشش کریں گے۔ انسان ہونے کے ناطے ہم سے غلطیاں ہو سکتی ہیں، لیکن سب سے اہم چیز یہ ہے کہ ہم ان غلطیوں کو کتنی جلدی درست کر سکتے ہیں۔”

مستقبل کے چیلنجز اور اجتماعی کوششیں

بنگلہ دیشی کرکٹ کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں بورڈ کی ساکھ کی بحالی اور کھلاڑیوں کی کارکردگی میں تسلسل لانا شامل ہے۔ تمیم اقبال کی یہ نئی قیادت کرکٹ کے حلقوں میں امید کی کرن سمجھی جا رہی ہے۔ ان کا غیر روایتی اور ملنسار انداز یہ بتاتا ہے کہ وہ کرکٹ کو صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک ذمہ داری کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

  • شفافیت: بورڈ کے مالیاتی اور انتظامی معاملات میں شفافیت لانا۔
  • ساکھ کی بحالی: بین الاقوامی سطح پر بی سی بی کے وقار کو بلند کرنا۔
  • رابطہ کاری: میڈیا اور شائقین کے ساتھ مستقل مواصلات کا عمل جاری رکھنا۔
  • غلطیوں کی اصلاح: غلطیوں کو تسلیم کرنا اور انہیں فوری طور پر ٹھیک کرنے کا نظام بنانا۔

آخر میں، تمیم اقبال کا یہ عزم کہ وہ کسی بھی متنازعہ اقدام سے گریز کریں گے، بنگلہ دیش کرکٹ کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ شائقین کرکٹ کو اب اس بات کا انتظار ہے کہ وہ آنے والے وقتوں میں ان وعدوں کو عملی جامہ کیسے پہناتے ہیں۔ یہ ایک مشکل سفر ضرور ہے لیکن درست سمت میں اٹھایا گیا پہلا قدم کامیابی کی ضمانت بن سکتا ہے۔