In Press, On Field, Always Cricket
Report

Singh five-for helps Worcestershire snatch victory on final day

Ahmed Khan · · 1 min read

ور سٹر شائر کی ڈرامائی فتح: آخری دن کا کھیل

کاؤنٹی چیمپئن شپ کے حالیہ مقابلے میں وزٹ ورسٹر شائر نیو روڈ پر ایک انتہائی سنسنی خیز اور ڈرامائی اختتام دیکھنے میں آیا جہاں Singh five-for helps Worcestershire snatch victory on final day کی بدولت میزبان ٹیم نے کامیابی حاصل کی۔ یہ میچ نہ صرف گیند بازوں کے غلبے کا منہ بولتا ثبوت تھا بلکہ اس میں اسپن بولنگ کا جادو بھی سر چڑھ کر بولا۔

فاتح سنگھ کا شاندار اسپیل

میچ کے آخری دن جب گلوسٹر شائر کی ٹیم 59 رنز پر ایک وکٹ سے اپنی اننگز کا آغاز کرنے آئی تو انہیں اندازہ نہیں تھا کہ فاتح سنگھ ان کے لیے کیا طوفان لے کر آئیں گے۔ سنگھ نے اپنی کیریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے گلوسٹر شائر کے بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ سنگھ نے ٹومی بورمین کو آؤٹ کرکے دن کا آغاز کیا اور پھر مائلز ہیمنڈ کی وکٹ حاصل کرکے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔

مڈل آرڈر کا خاتمہ اور میتھیو ویٹ کا کردار

سنگھ کے ساتھ میتھیو ویٹ نے بھی شاندار معاونت کی۔ ویٹ نے 16 اوورز میں صرف 14 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ کیمرون بینکرافٹ، جنہوں نے میچ میں نصف سنچری اسکور کی تھی، ویٹ کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ اس کے بعد جیک ٹیلر اور کرسٹیئن کلارک کی وکٹیں سنگھ کے نام رہیں، جس سے گلوسٹر شائر کی پوری ٹیم 185 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

مشکل ہدف اور اعصاب کی جنگ

ورسٹر شائر کو جیت کے لیے محض 87 رنز درکار تھے، لیکن ہدف کا تعاقب آسان نہیں رہا۔ گلوسٹر شائر کے اسپنر گریم وین بورین نے اپنی شاندار بولنگ سے ورسٹر شائر کے بلے بازوں کو بری طرح پریشان کیا۔ 52 رنز پر 3 وکٹیں گرنے کے بعد میزبان ٹیم شدید دباؤ میں تھی، خاص طور پر جب کپتان بریٹ ڈی اولیویرا بھی پویلین لوٹ گئے۔ تاہم، گیرتھ روڈرک نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو فتح کی دہلیز تک پہنچایا۔

نتیجہ اور اہمیت

یہ فتح ورسٹر شائر کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل تھی کیونکہ اس نے انہیں پوائنٹس ٹیبل پر لنکاشائر سے اوپر پہنچا دیا ہے۔ ڈویژن ٹو کے اس مقابلے میں جہاں 14 وکٹیں گری، وہاں زیادہ تر کامیابی اسپنرز کے حصے میں آئی۔ فاتح سنگھ کی یہ کارکردگی آنے والے میچوں کے لیے ٹیم کا حوصلہ بڑھانے کے لیے کافی ہے۔

میچ کے اہم اعداد و شمار

  • ورسٹر شائر: 388 اور 87/5
  • گلوسٹر شائر: 289 اور 185
  • فاتح سنگھ: 74 رنز کے عوض 5 وکٹیں (دوسری اننگز)
  • میتھیو ویٹ: 14 رنز کے عوض 3 وکٹیں

کرکٹ شائقین کے لیے یہ میچ ایک یادگار تجربہ رہا، جہاں ہر لمحہ بدلتی صورتحال نے شائقین کو اپنی نشستوں سے چپکائے رکھا۔ ورسٹر شائر کی ٹیم نے ثابت کیا کہ دباؤ کے لمحات میں کس طرح پرسکون رہ کر میچ جیتا جاتا ہے۔