Robin’s 147 powers Agrani Bank to victory, Gazipur win thriller by 1 wicket – ڈی پی ایل کی تازہ ترین صورتحال
ڈھاکہ پریمیئر لیگ: سنسنی خیز اور اعصاب شکن مقابلوں کا احوال
ڈھاکہ پریمیئر لیگ (DPL) میں سنسنی خیز اور اعصاب شکن مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ حالیہ راؤنڈ میں کرکٹ کے دو بہترین میچز کھیلے گئے جنہوں نے شائقینِ کرکٹ کے دل جیت لیے۔ ایک طرف جہاں رنز کا انبار لگا، وہیں دوسری طرف گیند بازوں اور بلے بازوں کے درمیان سخت جنگ دیکھنے کو ملی۔ ان مقابلوں نے لیگ کی اہمیت اور نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو مزید نکھار کر سامنے لایا ہے۔
اگرانی بینک اور سٹی کلب کا ہائی اسکورنگ ٹکراؤ
اگرانی بینک کرکٹ کلب اور سٹی کلب کے درمیان کھیلا گیا میچ رنز سے بھرپور ثابت ہوا۔ بی کے ایس پی گراؤنڈ نمبر 3 (BKSP Ground No. 3) میں کھیلے گئے اس ہائی اسکورنگ مقابلے میں دونوں اننگز کو ملا کر مجموعی طور پر 653 رنز بنے۔ سٹی کلب نے ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 50 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 326 رنز کا ایک پہاڑ جیسا اسکور بورڈ پر سجایا۔
سٹی کلب کی اننگز کی خاص بات عبداللہ المامون کی شاندار بلے بازی تھی۔ انہوں نے صرف 145 گیندوں پر 151 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی۔ ان کا ساتھ دیتے ہوئے میزان الرحمن نے 63 گیندوں پر 58 رنز بنائے، جبکہ انام الحق انام نے بھی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے 33 گیندوں پر 44 رنز کا قیمتی حصہ ڈالا۔ اگرانی بینک کی جانب سے بولنگ میں ربیع الحاق اور سندیپ رائے نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور دونوں نے دو دو وکٹیں حاصل کیں اور حریف ٹیم کو مزید بڑا اسکور بنانے سے روکا۔
اگرانی بینک کا تعاقب اور رابن کی تاریخی سنچری
327 رنز کے بڑے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے اگرانی بینک کرکٹ کلب کو ایک مضبوط آغاز کی ضرورت تھی جو ان کے اوپنرز نے فراہم کیا۔ اوپنر شادمان اسلام نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 67 گیندوں پر 78 رنز کی اننگز کھیلی اور ٹیم کو بہترین آغاز فراہم کیا۔ ان کے بعد تجربہ کار امرول کیس نے 35 گیندوں پر 33 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی اور رنز بنانے کی رفتار کو برقرار رکھا۔
تاہم، اس پورے میچ کے اصل ہیرو محفوظ الاسلام رابن رہے، جنہوں نے وننگ اننگز کھیلی۔ رابن نے میچ کو آخر تک سنبھالا اور محض 141 گیندوں پر 147 رنز کی میچ وننگ اننگز کھیلی۔ ان کی اس شاندار اننگز نے میچ کا رخ اگرانی بینک کی طرف موڑ دیا۔ مڈل آرڈر میں ناصر حسین اور شوواگاتا ہوم نے تیز رفتار اور کارآمد کیمیوز کھیل کر رن ریٹ کو قابو میں رکھا۔ آخری لمحات میں امت حسن اور زاہد جاوید نے انتہائی پرسکون انداز میں کھیلتے ہوئے ہدف کو آخری اوور کی چوتھی گیند پر حاصل کر لیا۔ اگرانی بینک نے یہ میچ 5 وکٹوں سے اپنے نام کیا، جبکہ میچ ختم ہونے میں صرف 2 گیندیں باقی تھیں۔ سٹی کلب کی جانب سے انعام الحق عاشق نے 2 وکٹیں حاصل کیں لیکن وہ اپنی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکے۔
غازی پور گروپ کرکٹرز کی ایک وکٹ سے اعصاب شکن جیت
دوسری جانب، ڈھاکہ پریمیئر لیگ کے آٹھویں راؤنڈ میں بسندھرا اسپورٹس کمپلیکس میں ایک اور انتہائی سنسنی خیز مقابلہ دیکھنے کو ملا، جہاں غازی پور گروپ کرکٹرز نے ڈھاکہ لیپرڈز کے خلاف صرف 1 وکٹ سے یادگار فتح حاصل کی۔ اس میچ میں سنسنی اور ڈرامہ عروج پر تھا کیونکہ دونوں ٹیموں نے آخری گیند تک ہار نہیں مانی اور میدان میں سخت مقابلہ پیش کیا۔
پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ڈھاکہ لیپرڈز کی پوری ٹیم غازی پور کے بولرز کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور محض 153 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ ڈھاکہ لیپرڈز کی جانب سے شوکت علی نے مزاحمت دکھائی اور 91 گیندوں پر 67 رنز کی لڑاکا اننگز کھیلی۔ وکٹ کیپر بلے باز ذاکر حسن نے بھی 56 گیندوں پر 45 رنز بنا کر کچھ مزاحمت دکھائی، لیکن باقی کوئی بھی بلے باز غازی پور کے بولنگ اٹیک کا سامنا نہ کر سکا اور پویلین لوٹتا رہا۔
محمد روبل کی تباہ کن بولنگ اور غازی پور کا اعصاب شکن تعاقب
غازی پور گروپ کرکٹرز کے بولر محمد روبل نے تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈھاکہ لیپرڈز کی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔ انہوں نے اپنے جادوئی اسپیل میں صرف 23 رنز دے کر 6 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ ان کے علاوہ عزیز الحکیم رونی نے بھی نپی تلی بولنگ کرتے ہوئے 2 وکٹیں حاصل کیں اور حریف ٹیم کو کم اسکور پر محدود کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
154 رنز کے آسان دکھائی دینے والے ہدف کا تعاقب غازی پور گروپ کے لیے قطعی آسان ثابت نہ ہوا۔ شوبھن مورل نے 56 گیندوں پر 63 رنز کی شاندار اور مستکحم اننگز کھیل کر ٹیم کو سنبھالا دیا۔ ان کا ساتھ ایمن علی نے دیا جنہوں نے 26 گیندوں پر 31 رنز بنائے۔ تاہم، اس کے بعد ڈھاکہ لیپرڈز کے بولر معین خان نے تباہ کن بولنگ کرتے ہوئے غازی پور کی وکٹیں یکے بعد دیگرے گرانا شروع کر دیں۔ معین خان نے صرف 34 رنز دے کر 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا، جبکہ حسن مراد نے 3 وکٹیں لے کر غازی پور کی مشکلات میں شدید اضافہ کر دیا۔
لڑکھڑاتی ہوئی بیٹنگ کے باوجود غازی پور کے بلے بازوں نے ہمت نہیں ہاری۔ آخری وکٹ پر لیون اسلام نے انتہائی اعصاب شکن ماحول میں 27 گیندوں پر 14 رنز بنا کر کریز پر جمے رہے اور اپنی ٹیم کو ایک تاریخی اور یادگار 1 وکٹ سے فتح دلوا دی۔ اس طرح غازی پور نے یہ سنسنی خیز مقابلہ اپنے نام کیا اور ٹورنامنٹ میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کر لیا۔
ٹورنامنٹ کی صورتحال اور کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ
ڈھاکہ پریمیئر لیگ کے یہ دونوں میچز اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بنگلہ دیشی ڈومیسٹک کرکٹ میں کس قدر ٹیلنٹ موجود ہے۔ ایک طرف جہاں ہائی اسکورنگ میچ میں بلے بازوں نے دھوم مچائی، وہیں دوسری طرف کم اسکورنگ میچ میں بولرز کا دبدبہ رہا۔ محفوظ الاسلام رابن کی 147 رنز کی اننگز نے یہ ثابت کیا کہ ان میں دباؤ کے حالات میں لمبی اننگز کھیلنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ ان کی اننگز میں کلاسک شاٹس اور بہترین رننگ بٹوین دی وکٹ دیکھنے کو ملی۔
اسی طرح عبداللہ المامون کی 151 رنز کی شاندار باری بھی رائیگاں گئی لیکن انہوں نے اپنی تکنیک اور شاٹ سلیکشن سے تمام ماہرین کو متاثر کیا۔ دوسری طرف، غازی پور کے محمد روبل نے اپنی جادوئی سوئنگ اور بہترین لائن و لینتھ سے ڈھاکہ لیپرڈز کے بلے بازوں کو بے بس کر دیا۔ 6 وکٹیں حاصل کرنا کسی بھی فارمیٹ میں ایک بڑا کارنامہ ہے اور روبل نے یہ ثابت کیا کہ وہ آنے والے وقتوں میں قومی ٹیم کے لیے ایک بہترین اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ شائقین اب لیگ کے اگلے مرحلے کے میچز کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
