In Press, On Field, Always Cricket
Latest Cricket News

IPL 2026: کرکٹ بورڈ کا بڑا ایکشن، اینٹی کرپشن یونٹ نے سنگین بے ضابطگیوں کی رپورٹ دیدی

Rahul Sharma · · 1 min read

آئی پی ایل 2026 پر کرپشن کے سائے: بی سی سی آئی کا سخت نوٹس

انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کی دنیا میں اس وقت ہلچل مچی ہوئی ہے جب 2026 کے سیزن کے دوران اینٹی کرپشن اینڈ سیکیورٹی یونٹ (ACSU) نے ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے۔ یہ معاملہ محض کھلاڑیوں کے نظم و ضبط تک محدود نہیں رہا بلکہ اب اس کی جڑیں کرکٹ کے تقدس اور شفافیت تک جا پہنچی ہیں۔

غیر مجاز افراد کی موجودگی اور سیکیورٹی خدشات

آئی پی ایل کے اینٹی کرپشن یونٹ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ٹیم کے ہوٹلوں، بسوں اور یہاں تک کہ ڈگ آؤٹ میں بھی ایسے افراد دیکھے گئے ہیں جنہیں وہاں موجود ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ لوگ پلیئرز اینڈ میچ آفیشلز ایریا (PMOA) میں دیکھے گئے، جو آئی پی ایل کے سخت ترین سیکیورٹی زونز میں سے ایک ہے۔

آئی پی ایل کے چیئرمین ارون دھومل نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اینٹی کرپشن یونٹ نے ایک تفصیلی رپورٹ جمع کروائی ہے جس میں ان بے ضابطگیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ دھومل کا کہنا ہے، ‘ACSU نے ان تمام واقعات کی نشاندہی کی ہے جہاں غیر مجاز افراد کو ٹیم بسوں اور ہوٹلوں میں دیکھا گیا۔ ہم فرنچائزز کو یاد دہانی کرائیں گے کہ وہ سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (SOPs) پر سختی سے عمل کریں۔’

بی سی سی آئی کی سخت وارننگ

بی سی سی آئی کے سیکرٹری دیواجیت سائیکا نے معاملے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ اب مزید غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایک ایڈوائزری جاری کی جا رہی ہے جس کے بعد کسی بھی قسم کی کوتاہی پر سخت ایکشن لیا جائے گا۔ سائیکا نے بتایا کہ کئی مواقع پر ٹیم مالکان اور آفیشلز کو بھی کھلاڑیوں کے ساتھ غیر مجاز مقامات پر گھلتے ملتے دیکھا گیا ہے، جو اینٹی کرپشن پروٹوکول کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

آئی پی ایل کے پروٹوکولز کی اہمیت

آئی پی ایل کی مقبولیت اس کی شفافیت میں مضمر ہے۔ گزشتہ سیزنز کے برعکس، اس سال ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ریاض پراگ کے ویپنگ واقعے کے بعد سے ہی بی سی سی آئی نے اپنا رویہ سخت کر لیا ہے۔ دیواجیت سائیکا کے مطابق، کھلاڑیوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ وہ ایک پیشہ ورانہ لیگ کا حصہ ہیں اور کسی بھی غیر ضروری شخص کا ان کے قریب ہونا لیگ کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مستقبل کے اقدامات

بی سی سی آئی کی جانب سے جاری کی جانے والی نئی ایڈوائزری میں درج ذیل نکات پر زور دیا جائے گا:

  • PMOA ایریا میں صرف مجاز افراد کا داخلہ۔
  • ٹیم ہوٹلز میں سیکیورٹی کی سخت نگرانی۔
  • ٹیم مالکان اور کھلاڑیوں کے درمیان غیر ضروری میل جول پر پابندی۔
  • ایس او پی (SOPs) کی مسلسل خلاف ورزی کرنے والی فرنچائزز پر بھاری جرمانے یا پابندیاں۔

کرکٹ شائقین اور ماہرین اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا یہ وارننگ لیگ کی ساکھ کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی یا یہ بے ضابطگیاں ٹورنامنٹ کے بقیہ حصے میں مزید تنازعات کو جنم دیں گی۔ بی سی سی آئی کے لیے اب یہ چیلنج ہے کہ وہ اپنی ساکھ کو بچانے کے لیے کتنا سخت اور بروقت فیصلہ کرتی ہے۔

آئی پی ایل 2026 اب ایک نازک موڑ پر ہے، اور کرکٹ بورڈ کا اگلا اقدام یہ طے کرے گا کہ آیا لیگ اپنی شفافیت برقرار رکھ پاتی ہے یا اسے مزید کسی بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔