آئی پی ایل 2026: آکاش سنگھ کے ‘پرچی’ جشن پر تنازع، ڈیل اسٹین اور رائیڈو برہم
آئی پی ایل 2026: آکاش سنگھ کی شاندار بولنگ اور متنازع جشن
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ہمیشہ سے ہی اپنے سنسنی خیز مقابلوں اور کھلاڑیوں کے منفرد انداز کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہے۔ تاہم، آئی پی ایل 2026 کے 59 ویں میچ میں لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) اور چنئی سپر کنگز (CSK) کے درمیان ہونے والے مقابلے نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ لکھنؤ کے ایکنا کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں ایل ایس جی کے بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز آکاش سنگھ نے اپنی کارکردگی سے زیادہ اپنے ‘ہینڈ رائٹن نوٹ’ (ہاتھ سے لکھی پرچی) والے جشن کی وجہ سے توجہ حاصل کی۔
آکاش سنگھ نے سی ایس کے کے خلاف اپنے سیزن کے پہلے ہی میچ میں تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے چنئی کے کپتان رتوراج گائیکواڑ، سنجو سیمسن اور ارویل پٹیل جیسی اہم وکٹیں حاصل کر کے اپنی ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچا دیا۔ لیکن ہر وکٹ کے بعد ان کا جشن منانے کا طریقہ کار سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا۔
پرچی پر کیا لکھا تھا؟ جشن کی تفصیلات
وکٹ لینے کے بعد آکاش سنگھ نے اپنی جیب سے ایک تہہ شدہ کاغذ نکالا اور اسے کیمرے کے سامنے لہرایا۔ اس پرچی پر لکھا تھا: “#Akki on fire – Akash knows how to take wickets in T20 game” (اکی فارم میں ہے، آکاش جانتا ہے کہ ٹی 20 میچ میں وکٹیں کیسے لی جاتی ہیں)۔
یہ رجحان پہلی بار آئی پی ایل 2025 میں دیکھا گیا تھا جب سن رائزرز حیدرآباد کے ابھیشیک شرما نے اپنی سنچری کے بعد اسی طرح کا جشن منایا تھا۔ تب سے کئی کھلاڑیوں نے اس انداز کو کاپی کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن آکاش سنگھ کا یہ عمل سابق کرکٹرز کو بالکل پسند نہیں آیا۔
ڈیل اسٹین اور امباتی رائیڈو کی شدید تنقید
جنوبی افریقہ کے سابق عظیم فاسٹ بولر ڈیل اسٹین نے آکاش سنگھ کے اس عمل پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ اسٹین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹویٹر) پر لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ان کاغذوں کو دور رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ انداز اب پرانا ہو چکا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ یہ کبھی بھی متاثر کن نہیں تھا۔
دوسری جانب، چنئی سپر کنگز کے سابق اسٹار بلے باز امباتی رائیڈو نے بھی اس معاملے پر کڑی تنقید کی۔ ایک نجی اسپورٹس چینل کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے رائیڈو نے کہا کہ کھلاڑیوں کو میدان میں اس طرح کی پرچیاں لانے کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا:
- “میرا خیال ہے کہ اس ‘چٹ بزنس’ (پرچیوں کے کام) پر فوری پابندی لگنی چاہیے، یہ سراسر بکواس ہے۔”
- “مجھے نہیں لگتا کہ کھلاڑیوں کو میدان میں کسی بھی قسم کی تحریری پرچیاں لانے کی اجازت ہونی چاہیے۔”
- “اگرچہ یہ ان کا اپنا انداز ہو سکتا ہے، لیکن بہت سے لوگوں کو یہ پسند نہیں آئے گا، یہ مضحکہ خیز اور فضول حرکت ہے۔”
آکاش سنگھ کا دفاع: ‘یہ صرف خود اعتمادی کے لیے ہے’
تنقید کے باوجود آکاش سنگھ اپنے فیصلے پر قائم نظر آئے۔ میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ اس جشن کے پیچھے کوئی منفی مقصد نہیں تھا۔ آکاش نے کہا، “یہ نوٹ مجھے صرف حوصلہ دیتا ہے۔ اس کے پیچھے کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔ جو چیز مجھے کھیل کے دوران متحرک رکھتی ہے، میں اسے جاری رکھوں گا۔” ان کا ماننا ہے کہ ہائی پریشر میچوں میں اس طرح کے پیغامات ان کے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں۔
آکاش سنگھ کا کرکٹ سفر: راجستھان سے لکھنؤ تک
آکاش سنگھ کا تعلق راجستھان کے شہر بھرت پور سے ہے۔ وہ پہلی بار 2020 کے آئی سی سی انڈر 19 ورلڈ کپ کے دوران منظر عام پر آئے تھے، جہاں ان کی سوئنگ بولنگ نے سب کو متاثر کیا تھا۔ انہوں نے اپنے آئی پی ایل کیریئر کا آغاز 2021 میں راجستھان رائلز سے کیا تھا۔
بعد ازاں، 2023 میں وہ چنئی سپر کنگز کا حصہ بنے اور 2025 کے سیزن سے قبل لکھنؤ سپر جائنٹس نے انہیں 30 لاکھ روپے میں خریدا۔ رشبھ پنت کی قیادت میں کھیلنے والی لکھنؤ کی ٹیم نے ان کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے انہیں آئی پی ایل 2026 کے لیے بھی برقرار رکھا۔
آکاش سنگھ کے اب تک کے کیریئر پر نظر ڈالی جائے تو انہوں نے 11 آئی پی ایل میچوں میں 12 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اگرچہ ان کا اکانومی ریٹ 9.22 رہا ہے، لیکن ان کی وکٹ لینے کی صلاحیت انہیں ایک خطرناک بولر بناتی ہے۔ مقامی کرکٹ میں بھی وہ 15 فرسٹ کلاس اور 30 ٹی 20 میچز کھیل چکے ہیں۔
نتیجہ: کیا آئی پی ایل انتظامیہ ایکشن لے گی؟
کرکٹ کو ‘شرافت کا کھیل’ کہا جاتا ہے اور اس طرح کے جشن اکثر روایات کے خلاف سمجھے جاتے ہیں۔ اگرچہ آئی پی ایل میں جوش و خروش کی کمی نہیں ہوتی، لیکن امباتی رائیڈو جیسے سینئر کھلاڑیوں کے مطالبات کے بعد یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا بی سی سی آئی یا آئی پی ایل گورننگ کونسل میدان میں اس طرح کی اشیاء لانے کے حوالے سے کوئی نیا قانون وضع کرتی ہے یا نہیں۔ فی الحال، آکاش سنگھ کی بولنگ اور ان کی ‘پرچی’ دونوں ہی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔
