Harmer, Bennett turn the screw as Leicestershire struggle against Essex – ہارمر، بینیٹ نے لیسٹرشائر کو ایسیکس کے خلاف جدوجہد پر مجبور کیا: کاؤنٹی چیمپئن شپ میں چوتھی شکست کا خطرہ
روتھیزے کاؤنٹی چیمپئن شپ کے ڈویژن ون کے اہم میچ میں، لیسٹرشائر کو اپٹن اسٹیل گریس روڈ میں ایسیکس کے ہاتھوں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں انہیں فالو آن کر دیا گیا۔ میچ کے دوسرے دن کے اختتام پر، لیسٹرشائر اپنی لگاتار چوتھی شکست کے دہانے پر کھڑا ہے، کیونکہ ایسیکس کے اسپنر سائمن ہارمر اور تیز گیند باز چارلی بینیٹ نے ان کی بیٹنگ لائن اپ کو تہس نہس کر دیا۔ لیسٹرشائر 187 رنز پر آل آؤٹ ہونے کے بعد اپنی دوسری اننگز میں 51 رنز بنا چکا ہے، لیکن وہ ابھی بھی ایسیکس کے 401 رنز کے جواب میں 163 رنز کے بڑے خسارے کا شکار ہے۔
ایسیکس کی مضبوط اننگز: جارڈن کاکس کی تاریخی ڈبل سنچری
ایسیکس نے اپنی پہلی اننگز میں 401 رنز کا ایک متاثر کن مجموعہ ترتیب دیا، جس کی بنیاد جارڈن کاکس کی شاندار ڈبل سنچری پر رکھی گئی۔ کاکس نے غیر معمولی مہارت اور تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 204 رنز کی یادگار اننگز کھیلی، جو ان کے کیریئر کی تیسری ڈبل سنچری تھی۔ ان کی یہ اننگز اس وقت خاص اہمیت رکھتی ہے جب ایسیکس کو پہلے بلے بازی کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ کاکس نے پچ پر موجود چیلنجز کا بخوبی مقابلہ کیا اور اپنی ٹیم کو ایک مضبوط پوزیشن پر پہنچا دیا۔
ایسیکس کی اننگز کے آخری لمحات میں لیسٹرشائر کے بولرز نے کچھ کامیابیاں حاصل کیں، جہاں آخری سات وکٹیں صرف 63 رنز کے اضافے پر گریں۔ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب میٹ کرچلی جمعہ کے کھیل کے اختتام سے قبل 97 رنز پر آؤٹ ہو گئے، اس کے بعد نائٹ واچ مین جیمی پورٹر بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔ دوسرے دن کے آغاز میں، نوجوان لیگ اسپنر ریحان احمد، جو انگلینڈ کی ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل ہیں، نے شاندار باؤلنگ کرتے ہوئے چارلی ایلیسن اور نوح تھین کو پویلین کی راہ دکھائی۔ نئی گیند کے آتے ہی، جوش ڈیوی نے جارڈن کاکس اور شین سنیٹر کی اہم وکٹیں ایک ہی اوور میں حاصل کیں۔ کاکس، جو 200 رنز کا ہندسہ عبور کر چکے تھے، بین کوکس کے ایک عمدہ کیچ پر آؤٹ ہوئے، جبکہ سنیٹر کی آف اسٹمپ اڑ گئی۔ ایسیکس نے اگرچہ پانچ بیٹنگ پوائنٹس حاصل کرنے کا موقع گنوا دیا، لیکن ان کا 401 کا مجموعہ لیسٹرشائر کے لیے ایک مشکل ہدف ثابت ہوا۔
لیسٹرشائر کی پہلی اننگز: بلے بازوں کی ناکامی
ایسیکس کے 401 رنز کے جواب میں، لیسٹرشائر کی پوری ٹیم صرف 187 رنز پر ڈھیر ہو گئی، جس سے وہ فالو آن ہونے پر مجبور ہو گئے۔ نیوزی لینڈ کے بین الاقوامی بلے باز نک کیلی نے لیسٹرشائر کی جانب سے واحد مزاحمت کی اور 78 رنز کی دلیرانہ اننگز کھیلی، لیکن ان کے علاوہ کوئی بھی بلے باز 23 رنز سے زیادہ نہ بنا سکا۔ لیسٹرشائر کی پہلی اننگز صرف 63.2 اوورز میں اختتام پذیر ہو گئی، جو ان کی بیٹنگ کی کمزوری کو واضح کرتی ہے۔
لیسٹرشائر کی بیٹنگ لائن اپ میں پانچ اہم بلے بازوں کی غیر موجودگی نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا۔ رشی پٹیل کو جیمی پورٹر نے ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا، جبکہ شین سنیٹر نے ریحان احمد کو ایک ایسی گیند پر آؤٹ کیا جو غیر معمولی طور پر نیچی رہی۔ دوبارہ بلائے جانے والے لوئس ہل بھی ایک ایسی گیند کا شکار بنے جو انہیں پنڈلی کی اونچائی پر لگی۔ ٹیم کے لیے ڈیبیو کرنے والے 22 سالہ اوپنر شیرڈون گمس نے، جو لیسٹرشائر کی کمزور ٹیم کا حصہ تھے، اپنی پہلی فرسٹ کلاس اننگز میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثر کن کھیل پیش کیا۔ انہوں نے 21 رنز بنائے اور ایسیکس کے حملے کا تقریباً دو گھنٹے تک مقابلہ کیا۔
ہارمر اور بینیٹ کی تباہ کن باؤلنگ
ایسیکس کی جانب سے آف اسپنر سائمن ہارمر اور سیمر چارلی بینیٹ نے اپنی شاندار باؤلنگ سے لیسٹرشائر کے بلے بازوں کو بے بس کر دیا۔ دونوں گیند بازوں نے تین، تین وکٹیں حاصل کر کے لیسٹرشائر کی بیٹنگ لائن اپ کی کمر توڑ دی۔ ہارمر کو 20 اوورز کے بعد گیند تھمائی گئی اور انہوں نے فوراً ہی ایک فلائیٹڈ ڈلیوری پر شیرڈون گمس کو سلپ میں کیچ آؤٹ کر کے پہلی کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد انہوں نے جوئی ایویسن کو ایک تیز ٹرن ہونے والی گیند پر بولڈ کیا اور بین کوکس کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا۔
نک کیلی ایسیکس کے لیے واحد بڑی رکاوٹ تھے، جنہوں نے 78 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ لیکن انہیں دوسرے سرے سے کوئی خاص حمایت نہ ملی۔ ہارمر نے بین گرین کو اندرونی کنارے پر کیچ آؤٹ کرایا، جبکہ چارلی بینیٹ نے لگاتار اوورز میں دو وکٹیں حاصل کر کے لیسٹرشائر کی اننگز کا خاتمہ کیا۔ انہوں نے ٹام سکریون کو ایک بہترین ون ہینڈڈ کیچ پر آؤٹ کرایا اور پھر جوش ڈیوی کو ایک فل ٹاس پر ایکسٹرا کور پر سیدھا کیچ دے بیٹھے۔ 19 سالہ نوجوان فاسٹ باؤلر الیکس گرین نے کیلی کے ساتھ آخری وکٹ کے لیے 20 رنز کا اضافہ کیا، لیکن کیلی کی مزاحمت اس وقت ختم ہو گئی جب وہ ایک بلند کیچ پر آؤٹ ہو گئے۔
تیسرے دن کی توقعات: لیسٹرشائر کو بھاری چیلنج کا سامنا
فالو آن کا سامنا کرنے کے بعد، لیسٹرشائر نے اپنی دوسری اننگز کا آغاز کیا اور دن کے اختتام تک 13 اوورز میں بغیر کسی نقصان کے 51 رنز بنائے۔ رشی پٹیل 28 اور شیرڈون گمس 16 رنز پر ناقابل شکست ہیں۔ یہ اگرچہ ایک مثبت آغاز ہے، لیکن لیسٹرشائر کو ابھی بھی ایسیکس کی برتری کو ختم کرنے کے لیے 163 رنز درکار ہیں تاکہ وہ ایسیکس کو دوبارہ بیٹنگ پر مجبور کر سکیں۔ تیسرے دن لیسٹرشائر کے بلے بازوں کو ایک غیر معمولی کارکردگی دکھانی ہوگی تاکہ وہ اپنی ٹیم کو لگاتار چوتھی شکست سے بچا سکیں۔ ایسیکس کی بولنگ اٹیک، خاص طور پر ہارمر اور بینیٹ کی موجودگی میں، لیسٹرشائر کے لیے یہ کام مزید مشکل بنا دے گا۔
میچ کے اہم کھلاڑی اور ان کی کارکردگی:
- جارڈن کاکس (ایسیکس): 204 رنز کی شاندار ڈبل سنچری، ایسیکس کے لیے اہم بنیاد فراہم کی۔
- نک کیلی (لیسٹرشائر): 78 رنز کی مزاحمتی اننگز، لیسٹرشائر کی جانب سے واحد امید۔
- ریحان احمد (لیسٹرشائر): 4 وکٹیں حاصل کیں، لیکن بلے سے صرف 5 رنز بنا سکے۔
- سائمن ہارمر (ایسیکس): 42 رنز دے کر 3 وکٹیں، لیسٹرشائر کی بیٹنگ لائن اپ کو توڑا۔
- چارلی بینیٹ (ایسیکس): 48 رنز دے کر 3 وکٹیں، اہم بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔
- شیرڈون گمس (لیسٹرشائر): ڈیبیو پر 21 اور پھر 16 (ناٹ آؤٹ) رنز، صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔
ایسیکس اس میچ میں ایک مضبوط پوزیشن پر ہے اور وہ تیسرے دن جلد از جلد لیسٹرشائر کی باقی وکٹیں حاصل کر کے فتح حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ لیسٹرشائر کو ایک معجزے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ اس میچ میں واپسی کر سکیں اور اپنی شکستوں کا سلسلہ توڑ سکیں۔
