In Press, On Field, Always Cricket
Latest Cricket News

پرنس یادو کی ٹیم انڈیا میں شمولیت: افغانستان سیریز کے لیے حیران کن انتخاب

Ahmed Khan · · 1 min read

نوجوان فاسٹ بولر پرنس یادو کا ٹیم انڈیا میں خوابوں کا سفر

آئی پی ایل 2026 کا سیزن کئی ابھرتے ہوئے ستاروں کے لیے کامیابی کا زینہ ثابت ہوا ہے، اور ان میں سب سے نمایاں نام لکھنؤ سپر جائنٹس کے فاسٹ بولر پرنس یادو کا ہے۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق، قومی سلیکشن کمیٹی افغانستان کے خلاف آئندہ ہوم ون ڈے سیریز کے لیے اس نوجوان پیسر کو ٹیم میں شامل کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

آئی پی ایل میں شاندار کارکردگی

پرنس یادو نے آئی پی ایل 2026 کے دوران اپنی بولنگ سے سب کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے 16 وکٹیں حاصل کی ہیں، اور ان کی بولنگ اوسط 19 سے بھی کم رہی ہے۔ سب سے متاثر کن بات ان کا اکانومی ریٹ ہے، جو بیٹنگ کے لیے سازگار پچز پر بھی آٹھ رنز فی اوور سے کچھ زیادہ رہا ہے۔ خاص طور پر رائل چیلنجرز بنگلورو کے خلاف ان کی کارکردگی نے سلیکٹرز کو بہت متاثر کیا، جہاں انہوں نے وراٹ کوہلی کو صفر پر آؤٹ کیا۔ یہ کارنامہ 2016 کے بعد پہلی بار کسی بولر نے انجام دیا ہے۔

ورلڈ کپ 2027 کی تیاریوں کا آغاز

بھارتی ٹیم 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کی تیاریوں کا آغاز افغانستان کے خلاف تین میچوں کی سیریز سے کر رہی ہے۔ ورک لوڈ مینجمنٹ کے پیش نظر، امکان ہے کہ محمد سراج اور ارشدیپ سنگھ جیسے اہم فاسٹ بولرز کو آرام دیا جائے گا تاکہ وہ طویل مدتی اسائنمنٹس کے لیے تازہ دم رہ سکیں۔ اسی تناظر میں پرنس یادو جیسے نوجوان کھلاڑیوں کو آزمانا سلیکٹرز کی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

دیگر اہم کھلاڑیوں کی صورتحال

جہاں پرنس یادو کے لیے دروازے کھل رہے ہیں، وہیں ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں کی فٹنس پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کپتان روہت شرما کی ہیمسٹرنگ انجری اور ہاردک پانڈیا کے کمر کے درد کے مسائل ٹیم مینجمنٹ کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ دوسری جانب، وراٹ کوہلی مسلسل شاندار فارم میں ہیں اور ان کے افغانستان کے خلاف تمام تینوں ون ڈے میچز کھیلنے کی توقع ہے۔ جسپریت بمراہ کو اس سیریز میں آرام دیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد پیس اٹیک کی قیادت محمد سراج اور پرسدھ کرشنا کے کندھوں پر ہو سکتی ہے۔

ٹیسٹ سیریز اور دیگر چیلنجز

افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز سے قبل، 6 جون کو ملان پور میں ایک واحد ٹیسٹ میچ بھی کھیلا جائے گا۔ ٹیم انڈیا اس وقت نمبر تین پوزیشن کے لیے ایک مستحکم بلے باز کی تلاش میں ہے۔ دیودت پڈیکل کو اس کردار کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔ مزید برآں، ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے جموں و کشمیر کے فاسٹ بولر عاقب نبی بھی ٹیسٹ اسکواڈ میں جگہ بنانے کے لیے دعویدار ہیں، جنہوں نے رنجی ٹرافی میں 60 وکٹیں حاصل کی ہیں۔

آگے کی راہ

سلیکٹرز اب ایک ایسے پول کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں جہاں ہر کھلاڑی اپنی فارم اور فٹنس کے مطابق ٹیم میں جگہ بنا سکے۔ پرنس یادو کی ممکنہ شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ سلیکٹرز صرف ناموں کو نہیں بلکہ کارکردگی کو اہمیت دے رہے ہیں۔ اگر پرنس کو موقع ملتا ہے تو یہ ان کے کیریئر کے لیے ایک بہت بڑا سنگ میل ثابت ہوگا۔ کرکٹ کے شائقین اب اس بات کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں کہ حتمی اسکواڈ کا اعلان کب ہوتا ہے اور کون سے نئے چہرے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں۔