WPL میں دلچسپی: آئی پی ایل مالکان کی خواتین لیگ میں سرمایہ کاری کی خواہش
خواتین پریمیئر لیگ کا عروج اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی
خواتین کی کرکٹ نے گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے، خاص طور پر 2023 میں ویمنز پریمیئر لیگ (WPL) کے آغاز کے بعد سے کھیل کا نقشہ مکمل طور پر بدل گیا ہے۔ اس کے علاوہ، 2025 میں ہوم گراؤنڈ پر ہندوستان کی ورلڈ کپ میں فتح نے خواتین کرکٹ کی مقبولیت کو ایک نئے مقام پر پہنچا دیا ہے۔ اب یہ سوال ہر کسی کے ذہن میں ہے کہ کیا WPL اپنی موجودہ پانچ ٹیموں سے آگے بڑھے گی؟

پنجاب کنگز کے مالک کی خواہش
آئی پی ایل فرنچائز پنجاب کنگز کے شریک مالک موہت برمن نے حال ہی میں WPL میں اپنی دلچسپی کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بی سی سی آئی کی جانب سے خواتین کرکٹرز کو فراہم کیے گئے پلیٹ فارم کو سراہتے ہوئے کہا کہ WPL نے بہت کم وقت میں خود کو ایک اہم برانڈ کے طور پر منوایا ہے۔
موہت برمن نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ذاتی طور پر خواتین کی کرکٹ کے مستقبل کو انتہائی روشن دیکھتے ہیں اور مستقبل میں ایک ویمنز آئی پی ایل ٹیم خریدنے کے خواہشمند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی کاروباری گروپ کے لیے سرمایہ کاری کے فیصلے اسٹریٹجک ترجیحات پر منحصر ہوتے ہیں، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خواتین کرکٹ پر اعتماد کی کمی ہے۔
کیا بی سی سی آئی WPL کو توسیع دینے کا ارادہ رکھتا ہے؟
فی الحال، WPL میں پانچ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جن میں سے تین فرنچائزز کے مالکان آئی پی ایل کی ٹیمیں بھی چلاتے ہیں۔ ممبئی انڈینز اور رائل چیلنجرز بنگلورو نے اب تک دو دو مرتبہ یہ ٹائٹل اپنے نام کیا ہے، جبکہ دہلی کیپٹلز نے لیگ کے آغاز سے اب تک ہر فائنل میں جگہ بنائی ہے۔
بی سی سی آئی کے چیئرمین ارون دھومل نے واضح کیا ہے کہ فی الحال لیگ کو بڑھانے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بورڈ ابھی موجودہ ڈھانچے کو مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ بی سی سی آئی کا مقصد یہ ہے کہ پہلے موجودہ پانچ ٹیموں کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے، اس کے بعد ہی کسی نئی ٹیم کی شمولیت پر غور کیا جائے گا۔
ہندوستانی خواتین کرکٹ پر WPL کے اثرات
WPL کے قیام سے قبل بھی ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت رہی ہے اور مسلسل آئی سی سی ایونٹس کے ناک آؤٹ مراحل میں پہنچتی رہی ہے۔ تاہم، WPL نے کھلاڑیوں کو جو ایکسپوژر دیا ہے، اس نے کھیل کے معیار کو مزید بہتر بنایا ہے۔
دنیا بھر میں دیگر لیگز جیسے آسٹریلیا کی WBBL، انگلینڈ کی دی ہنڈریڈ اور اب بنگلہ دیش کی WBPL کا آغاز یہ ظاہر کرتا ہے کہ خواتین کی کرکٹ ایک عالمی تحریک بن چکی ہے۔ ہندوستانی کرکٹرز اب ان لیگز کا حصہ بن کر اپنی صلاحیتوں کو نکھار رہی ہیں، جس کا براہ راست اثر قومی ٹیم کی کارکردگی پر نظر آتا ہے۔ 2025 کے ورلڈ کپ میں دباؤ کے لمحات میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی پختگی اس بات کا ثبوت ہے کہ WPL نے انہیں بہترین تیار کیا ہے۔
مستقبل کی توقعات
اگرچہ فوری طور پر ٹیموں میں اضافے کے امکانات کم ہیں، لیکن جس تیزی سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے، اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آنے والے برسوں میں WPL ایک بہت بڑی لیگ بن کر ابھرے گی۔ کرکٹ شائقین کے لیے یہ ایک خوش آئند پہلو ہے کہ اب بڑے سرمایہ کار خواتین کے کھیل میں بھی وہی دلچسپی لے رہے ہیں جو طویل عرصے سے مردوں کے کھیل میں دیکھی جاتی رہی ہے۔ یہ سرمایہ کاری نہ صرف کھیل کو مالی طور پر مضبوط کرے گی بلکہ اگلی نسل کی خواتین کھلاڑیوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔
