بھارت بمقابلہ افغانستان ٹیسٹ: دیودت پڈیکل کی ٹیم میں واپسی کا امکان
بھارت بمقابلہ افغانستان ٹیسٹ: ایک نئی حکمت عملی کی ضرورت
جون کے مہینے میں بھارت اور افغانستان کے درمیان کھیلا جانے والا واحد ٹیسٹ میچ کرکٹ شائقین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اگرچہ یہ میچ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کا حصہ نہیں ہے، لیکن یہ بھارتی ٹیم کے لیے نئے کھلاڑیوں کو آزمانے اور پرانے کھلاڑیوں کو آرام دینے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ اس اہم مقابلے کے پیش نظر، آر سی بی (RCB) کے نوجوان بلے باز دیودت پڈیکل کا نام نمبر 3 پوزیشن کے لیے شدت سے لیا جا رہا ہے۔
روی چندرن ایشون کی حمایت اور پڈیکل کا ٹیکنیکل ارتقاء
بھارتی ٹیم کے تجربہ کار اسپنر روی چندرن ایشون نے دیودت پڈیکل کی کھل کر حمایت کی ہے۔ ایشون کا ماننا ہے کہ پڈیکل کو طویل مدتی بنیادوں پر ٹیسٹ ٹیم کا حصہ ہونا چاہیے۔ اپنے یوٹیوب چینل پر بات کرتے ہوئے ایشون نے کہا کہ پڈیکل کی تکنیک میں گزشتہ چند برسوں میں زبردست بہتری آئی ہے۔ خاص طور پر اسپن کے خلاف ان کی بیٹنگ کا انداز اب بہت زیادہ فعال ہو چکا ہے۔
ایشون نے مزید کہا: ‘پہلے پڈیکل اسپنرز کو زیادہ تر بیک فٹ پر کھیلتے تھے، لیکن اب وہ سوئپ اور ریورس سوئپ جیسے شاٹس کے ساتھ ساتھ اپنے پیروں کا استعمال بھی بخوبی کرتے ہیں۔ ان کی بیٹنگ میں دنیش کارتک جیسی ایک خاص جھلک نظر آتی ہے جو انہیں ایک خطرناک بلے باز بناتی ہے۔’
سائی سدرشن کے انتخاب پر سوالات
جب سے وراٹ کوہلی اور روہت شرما نے ٹیسٹ کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کی ہے، شبمن گل کی قیادت میں بھارتی ٹیم ایک نئے دور میں داخل ہوئی ہے۔ نمبر 3 پوزیشن کے لیے سائی سدرشن کا انتخاب کافی بحث کا موضوع رہا ہے۔ روی چندرن ایشون کا خیال ہے کہ پڈیکل اس پوزیشن کے لیے زیادہ موزوں تھے، لیکن آئی پی ایل 2025 میں سائی سدرشن کی شاندار کارکردگی اور اورینج کیپ جیتنے کی وجہ سے انہیں ترجیح دی گئی۔
تاہم، ٹیسٹ کرکٹ میں سائی سدرشن کی کارکردگی کچھ خاص نہیں رہی۔ انہوں نے 11 ٹیسٹ اننگز میں صرف 302 رنز بنائے ہیں، جس سے ان کی ٹیم میں جگہ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ صورتحال دیودت پڈیکل کے لیے دوبارہ ٹیم میں واپسی کے دروازے کھول رہی ہے۔
گوتم گمبھیر کا اعتماد اور مستقبل کی حکمت عملی
اطلاعات کے مطابق، بھارتی ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر دیودت پڈیکل کی صلاحیتوں کے بڑے مداح ہیں اور وہ انہیں نمبر 3 پوزیشن پر دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ دوسری جانب، شبمن گل سائی سدرشن کی حمایت کر رہے ہیں، لیکن ان کی خراب فارم ٹیم انتظامیہ کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
دیودت پڈیکل نے حالیہ رنجی ٹرافی سیزن میں 10 اننگز میں 60.33 کی اوسط سے 543 رنز بنائے ہیں، جس میں دو سنچریاں اور ایک نصف سنچری شامل ہے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
نتیجہ
بھارت اور افغانستان کے درمیان ہونے والا یہ ٹیسٹ میچ محض ایک مقابلہ نہیں، بلکہ بھارتی ٹیم کے مستقبل کا ایک اہم پڑاؤ ہے۔ اگر دیودت پڈیکل کو موقع ملتا ہے، تو یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا وہ اپنی آئی پی ایل اور ڈومیسٹک کرکٹ والی فارم کو ٹیسٹ کرکٹ میں بھی برقرار رکھ پاتے ہیں یا نہیں۔ ٹیم کے شائقین کو امید ہے کہ سلیکٹرز پڈیکل جیسے باصلاحیت کھلاڑی پر اعتماد کا اظہار کریں گے تاکہ بھارت کی مڈل آرڈر کی مشکلات کا پائیدار حل نکالا جا سکے۔
