Thomas Rew sparkles again to loosen Warwickshire grip – سمرسیٹ کی شاندار واپسی
ٹاؤنٹن میں تھامس ریو کا جادو چل گیا: سمرسیٹ کی میچ میں حیران کن واپسی
سمرسیٹ اور واروکشائر کے درمیان کھیلے جا رہے کاؤنٹی چیمپئن شپ ڈویژن ون کے سنسنی خیز مقابلے کے تیسرے روز سمرسیٹ نے کھیل کا آغاز انتہائی نازک پوزیشن سے کیا۔ پہلی اننگز میں سمرسیٹ کے 208 رنز کے جواب میں واروکشائر نے 330 رنز بنا کر 122 رنز کی اہم برتری حاصل کر لی تھی۔ دوسری اننگز میں سمرسیٹ کی پہلی وکٹ صرف 23 رنز پر گر چکی تھی، اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ واروکشائر اس میچ پر اپنی گرفت مضبوط کر چکی ہے۔ لیکن کھیل کے تیسرے روز ٹاؤنٹن کے میدان پر سمرسیٹ کے نوجوان بلے باز نے ایک تاریخی اننگز کھیل کر میچ کا پانسہ ہی پلٹ دیا۔
ٹاؤنٹن کے کوپر ایسوسی ایٹس گراؤنڈ میں کھیلے گئے اس میچ میں Thomas Rew sparkles again to loosen Warwickshire grip اور انہوں نے کپتان کریگ اوورٹن کے ساتھ مل کر ایک ایسی شراکت داری قائم کی جس نے واروکشائر کے گیند بازوں کو بے بس کر دیا۔ دونوں بلے بازوں نے مل کر سمرسیٹ کی اننگز کو سنبھالا اور تیسرے دن کا کھیل ختم ہونے تک ٹیم کا اسکور 6 وکٹوں کے نقصان پر 341 رنز تک پہنچا دیا، جس سے سمرسیٹ کو اب 219 رنز کی قیمتی برتری حاصل ہو گئی ہے۔
تھامس ریو کی مسلسل دوسری شاندار سنچری
صرف 18 سال کی عمر میں، تھامس ریو نے اپنی شاندار بیٹنگ سے کرکٹ کی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔ انہوں نے حال ہی میں کنگز کالج ٹاؤنٹن سے اپنے اے لیول امتحانات مکمل کیے ہیں اور امتحانات کے ختم ہونے کے محض آٹھ دنوں کے اندر یہ ان کی دوسری فرسٹ کلاس سنچری ہے۔ اس سے قبل انہوں نے گزشتہ اتوار کو ٹرینٹ برج میں ناٹنگھم شائر کے خلاف اپنی پہلی سنچری اسکور کی تھی۔ اس میچ میں ریو نے 237 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 18 چوکوں کی مدد سے ناٹ آؤٹ 133 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کی پوزیشن کو مستحکم کیا۔
ریو کی بیٹنگ کی سب سے خاص بات ان کا پرسکون انداز تھا۔ صرف 17 سال کی عمر میں انگلینڈ کی انڈر 19 ٹیم کی کپتانی کرنے والے ریو نے اس میچ میں بھی کمال کی پختگی دکھائی۔ انہوں نے سیم اور اسپن دونوں کے خلاف انتہائی تکنیکی شاٹس کھیلے۔ خاص طور پر واروکشائر کے اسپنرز اور نیتھن گلکرسٹ جیسے تیز گیند بازوں کے خلاف ان کے کور ڈرائیوز اور فلک شاٹس دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے۔ ریو نے اپنی سنچری محض 171 گیندوں پر مکمل کی اور کھیل کے اختتام تک وہ وکٹ پر ڈٹے رہے۔
کریگ اوورٹن کی کپتانی باری اور ریکارڈ شراکت داری
جب سمرسیٹ کی ٹیم 148 رنز پر اپنی 6 وکٹیں گنوا چکی تھی اور اس کی مجموعی برتری صرف 26 رنز کی تھی، اس وقت کپتان کریگ اوورٹن کریز پر آئے۔ انہوں نے تھامس ریو کے ساتھ مل کر ساتویں وکٹ کے لیے 193 رنز کی ناقابل شکست شراکت داری قائم کی، جو واروکشائر کے خلاف سمرسیٹ کی تاریخ کی ساتویں وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت داری ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ کین پامر اور ہیرالڈ اسٹیفنسن کے پاس تھا جنہوں نے 1957 میں ایجبسٹن کے میدان پر 140 رنز بنائے تھے۔
اوورٹن نے 179 گیندوں کا سامنا کیا اور 11 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 89 رنز بنا کر وکٹ پر موجود ہیں۔ ان کی اس ذمہ دارانہ اننگز نے نوجوان ریو کو کھل کر کھیلنے کا موقع فراہم کیا۔ آج کا دن سمرسیٹ کے لیے تو خوش آئند رہا لیکن کریگ اوورٹن کے بڑے بھائی جیمز اوورٹن کے لیے یہ دن مایوس کن ثابت ہوا کیونکہ اسی دن انہیں انگلینڈ کی ٹیم کے ساتھ ٹیسٹ میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، ٹاؤنٹن میں موجود ان کے بھائی کریگ نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنی ٹیم کو بحران سے نکالا بلکہ ایک یادگار فتح کی امیدیں بھی روشن کر دیں۔
سمرسیٹ کی وکٹوں کا گرنا اور منو ستھار کی تباہ کن بولنگ
تیسرے دن کے کھیل کا آغاز سمرسیٹ کے لیے آسان نہ تھا کیونکہ انہیں واروکشائر کی برتری کو ختم کرنے کے لیے مزید 99 رنز درکار تھے۔ گورڈن ہرمن اور نائٹ واچر جوش شا نے محتاط انداز میں اننگز کا آغاز کیا۔ لیکن جیسے ہی بھارتی اسپنر منو ستھار کو گیند سونپی گئی، انہوں نے سمرسیٹ کے بلے بازوں کے لیے مشکلات کھڑی کر دیں۔
- گورڈن ہرمن (34 رنز): ستھار کی گیند پر ایک بڑا شاٹ کھیلنے کی کوشش میں ڈیپ مڈ وکٹ پر نیتھن گلکرسٹ کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔
- ٹام کوہلر-کیڈمور: منو ستھار کی ایک وائیڈ گیند پر آگے بڑھ کر کھیلنے کی کوشش میں اسٹمپ آؤٹ ہو گئے۔
- جوش شا (22 رنز): انہوں نے 85 گیندوں پر مزاحمتی اننگز کھیلی لیکن بالآخر ستھار کی گیند پر سلپ میں کیچ دے بیٹھے۔ اس وقت سمرسیٹ کا اسکور 80 رنز پر 4 وکٹیں تھا اور وہ اب بھی 42 رنز کے خسارے میں تھی۔
- لیوس گولڈز ورتھی: پہلی اننگز کے ٹاپ اسکورر لیوس گولڈز ورتھی نے تھامس ریو کے ساتھ مل کر لنچ سے قبل اور بعد میں 44 رنز کا قیمتی اضافہ کیا لیکن وہ ایتھن بیمبر کی ایک اندر آتی ہوئی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
- آرچی وان (7 رنز): نیتھن گلکرسٹ کی شارٹ پچ گیند کو پل کرنے کی کوشش میں وکٹ کے پیچھے لیگ سائڈ پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس وقت سمرسیٹ کی ٹیم شدید دباؤ میں تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ میچ تیسرے ہی دن ختم ہو جائے گا۔
میچ کی موجودہ صورتحال اور آخری دن کی پیش گوئی
چائے کے وقفے کے بعد کا سیشن مکمل طور پر سمرسیٹ کے نام رہا۔ اوورٹن نے اپنی نصف سنچری 87 گیندوں پر مکمل کی جبکہ دونوں بلے بازوں نے 163 گیندوں پر اپنی سنچری شراکت داری مکمل کی۔ جب اوورٹن 59 رنز پر کھیل رہے تھے، تو انہوں نے ایک موقع ملا جب جارڈن تھامسن کی گیند پر بیک ورڈ پوائنٹ پر ان کا ایک مشکل کیچ چھوٹ گیا، لیکن اس کے علاوہ دونوں بلے بازوں نے کوئی غلطی نہیں کی۔
اب جب کہ سمرسیٹ کو 219 رنز کی برتری حاصل ہو چکی ہے اور اس کی 4 وکٹیں باقی ہیں، چوتھے اور آخری دن تمام نتائج ممکن ہیں۔ سمرسیٹ کی ٹیم اپنے اسپنرز کو ایک اچھا ہدف دینے کی کوشش کرے گی تاکہ وہ چوتھے دن واروکشائر کے بلے بازوں پر دباؤ ڈال سکیں۔ دوسری طرف، واروکشائر کے گیند بازوں، بالخصوص منو ستھار جنہوں نے 80 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں، کو آخری دن جلد وکٹیں حاصل کرنا ہوں گی تاکہ ہدف کو قابو میں رکھا جا سکے۔
