In Press, On Field, Always Cricket
Report

Mitchell fifty guides New Zealand’s lead past 400 – اوول ٹیسٹ

Rahul Sharma · · 1 min read

نیوزی لینڈ کا غلبہ برقرار

اوول ٹیسٹ کے چوتھے روز کی صبح نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کے خلاف اپنی برتری کو مزید وسیع کر لیا ہے۔ میچ کے چوتھے روز کے پہلے سیشن کے اختتام تک، نیوزی لینڈ کی ٹیم 445 رنز کی مجموعی برتری حاصل کر چکی ہے، جس نے انگلینڈ کے لیے جیت کی راہ انتہائی مشکل بنا دی ہے۔ اوور نائٹ اسکور 252 رنز 3 کھلاڑی آؤٹ سے آگے بڑھتے ہوئے، کیویز نے مزید 93 رنز کا اضافہ کیا اور لنچ بریک تک نیوزی لینڈ کا سکور 345 رنز 6 کھلاڑی آؤٹ تک پہنچ گیا۔

ڈیرل مچل اور مڈل آرڈر کی کارکردگی

اننگز کو سنبھالنے میں ڈیرل مچل کا کردار کلیدی رہا، جو لنچ بریک تک 66 رنز پر ناقابل شکست کھڑے تھے۔ اگرچہ انگلش فاسٹ بولر جوفر آرچر نے صبح کے سیشن میں انتہائی جارحانہ بولنگ کا مظاہرہ کیا اور دو اہم وکٹیں حاصل کیں، لیکن مچل نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیم کو مشکل وقت سے نکالا۔ مچل نے جو روٹ کے ایک ہی اوور میں تین چوکے رسید کر کے اپنی نصف سنچری مکمل کی۔

ہنری نکولز، جنہوں نے شاندار سنچری اسکور کی تھی، آرچر کا شکار بنے، تاہم تب تک وہ ٹیم کو ایک مستحکم پوزیشن پر پہنچا چکے تھے۔ ٹام بلنڈیل اور ڈیرل مچل کے درمیان 29 رنز کی شراکت داری رہی، جس کے دوران یہ جوڑی انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں 1000 رنز کی پارٹنرشپ مکمل کرنے والی نیوزی لینڈ کی پہلی جوڑی بن گئی۔

انگلش بولنگ اور آرچر کا دباؤ

جوفر آرچر نے صبح کے نو میں سے آٹھ اوورز کرائے اور مسلسل کیوی بلے بازوں کو امتحان میں ڈالا۔ آرچر کی رفتار اور درستگی نے نیوزی لینڈ کے بلے بازوں کو محتاط رہنے پر مجبور کیا۔ گلین فلپس، جو پہلی اننگز میں سنچری بنانے میں کامیاب رہے تھے، جیکب بیتھل کی گیند پر گلی میں کیچ آؤٹ ہوئے۔

لنچ سے قبل ناتھن اسمتھ نے ڈیرل مچل کا ساتھ دیا اور جارحانہ انداز اپناتے ہوئے جیکب بیتھل کے خلاف دو شاندار چھکے اور چوکے لگائے۔ انگلینڈ کی جانب سے نئی گیند لینے میں ہچکچاہٹ اور عجیب حکمت عملی نے کیوی بلے بازوں کو مزید رنز بنانے کا موقع فراہم کیا۔ میٹ فشر نے چوتھے روز کی صبح صرف دو اوورز کرائے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ناتھن اسمتھ نے اپنی بیٹنگ کو مزید نکھارا۔

نتیجہ خیز صورتحال

نیوزی لینڈ کے کپتان ٹام لیتہم اب ڈیکلیریشن کے حوالے سے فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔ دوسری جانب، انگلینڈ کے لیے صورتحال انتہائی سنگین ہے کیونکہ انہیں اب میچ جیتنے کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے سب سے بڑے چوتھی اننگز کے تعاقب کا پہاڑ سر کرنا ہوگا تاکہ وہ سیریز میں 0-2 کی ناقابل شکست برتری حاصل کر سکیں۔

اوول کی پچ پر نیوزی لینڈ کی یہ کارکردگی ان کے نظم و ضبط اور بیٹنگ لائن اپ کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ اگر انگلینڈ کو اس میچ میں واپس آنا ہے تو انہیں کرکٹ کی تاریخ کی سب سے بڑی انفرادی اور اجتماعی کاوش کرنی ہوگی، بصورت دیگر نیوزی لینڈ اس سیریز میں خود کو فاتح کے طور پر منوانے کے قریب ہے۔