Rehan, Kelly centuries put Leicestershire in commanding position – کاؤنٹی چیمپئن شپ
لیسٹر شائر کی کاؤنٹی چیمپئن شپ میں پہلی فتح کی امیدیں روشن
روتھیسے کاؤنٹی چیمپئن شپ کے ڈویژن ون میں لیسٹر شائر اور یارکشائر کے مابین کھیلے جانے والے میچ کے دوسرے روز لیسٹر شائر نے اپنی گرفت انتہائی مضبوط کر لی ہے۔ اپٹن اسٹیل گریس روڈ پر کھیلے جا رہے اس اہم مقابلے میں لیسٹر شائر کی نظریں ڈویژن ون میں واپسی کے بعد اپنی پہلی کامیابی پر مرکوز ہیں۔ لیسٹر شائر نے اپنی پہلی اننگز میں ریحان احمد اور نک کیلی کی شاندار سنچریوں کی بدولت 453 رنز کا بڑا اسکور بورڈ پر سجایا، جس کے جواب میں یارکشائر کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں مشکلات کا شکار دکھائی دے رہی ہے۔ لیسٹر شائر کی اننگز میں رشی پٹیل نے بھی 67 رنز کی عمدہ باری کھیل کر اہم کردار ادا کیا تھا۔ یارکشائر نے دوسرے دن کے اختتام تک محض 32 رنز پر اپنے دو اہم مہرے گنوا دیے ہیں اور اسے اننگز کی شکست سے بچنے کے لیے مزید 236 رنز درکار ہیں۔
ریحان احمد اور نک کیلی کی ریکارڈ ساز شراکت داری
لیسٹر شائر کی بیٹنگ کے دوران سب سے اہم مرحلہ اس وقت آیا جب ریحان احمد اور نک کیلی نے چوتھی وکٹ کے لیے 160 رنز کی شاندار اور جارحانہ شراکت داری قائم کی۔ انگلینڈ کے نوجوان آل راؤنڈر ریحان احمد نے اپنی کلاس کا مظاہرہ کرتے ہوئے 128 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ ان کی اس اننگز میں 19 دلکش چوکے اور ایک بلند و بالا چھکا شامل تھا۔ یہ ریحان احمد کے فرسٹ کلاس کیریئر کی ساتویں سنچری تھی اور ڈویژن ون کے کسی حریف کے خلاف ان کی پہلی سنچری ہے، جو یقیناً انگلینڈ کے سلیکٹرز کی توجہ ایک بار پھر ان کی طرف مبذول کروائے گی۔ دوسری جانب، نیوزی لینڈ کے بائیں ہاتھ کے بلے باز نک کیلی نے بھی شاندار بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور 121 رنز بنائے۔ انہوں نے اپنی اننگز میں 16 چوکے اور دو چھکے لگائے۔ ان دونوں بین الاقوامی بلے بازوں نے یارکشائر کے باؤلنگ اٹیک کو بے بس کر کے رکھ دیا۔
میچ کا احوال اور بارش کی مداخلت
کھیل کے دوسرے روز کے پہلے سیشن کے دوران بارش کی وجہ سے کھیل کو 45 منٹ کے لیے روکنا پڑا، لیکن اس تعطل کے باوجود لیسٹر شائر کے بلے بازوں کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ریحان احمد اور نک کیلی نے پہلے دن کے اسکور میں 52 رنز کا اضافہ کرتے ہوئے لنچ تک اپنی شراکت کو 128 رنز تک پہنچا دیا۔ ریحان احمد نے گراؤنڈ کے چاروں اطراف شاندار شاٹس کھیلے اور محض 128 گیندوں پر 15 چوکوں کی مدد سے اپنی سنچری مکمل کی۔ دوسری طرف نک کیلی نے بھی لنچ کے فوراً بعد اپنی نصف سنچری مکمل کی اور وہ خاص طور پر کور ڈرائیوز پر انتہائی پراعتماد نظر آئے۔ یارکشائر کی پچ پر گیند بازوں کے لیے کوئی خاص مدد موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے لیسٹر شائر کے بلے بازوں کو آؤٹ کرنا انتہائی مشکل ثابت ہو رہا تھا۔
وکٹوں کا گرنا اور یارکشائر کی واپسی کی کوشش
جب لیسٹر شائر کی پوزیشن مضبوط دکھائی دے رہی تھی، تو ریحان احمد ایک غیر محتاط شاٹ کھیل کر آؤٹ ہو گئے۔ انہوں نے میتھیو ریوس کی گیند پر ان فیلڈ کو کلیئر کرنے کی کوشش کی لیکن گیند پر ان کا کنٹرول برقرار نہ رہ سکا اور سیم وائٹ مین نے کور پر ایک آسان کیچ پکڑ لیا۔ ریحان احمد کی رخصتی کے بعد لیسٹر شائر کو اگلا نقصان بن کاکس کی صورت میں اٹھانا پڑا، جنہیں پاکستان کے فاسٹ باؤلر حسن علی نے اپنی ایک خوبصورت گیند پر بولڈ کیا۔ لیسٹر شائر کا اسکور اس وقت 5 وکٹوں کے نقصان پر 329 رنز تھا۔ تاہم، نک کیلی نے دوسری جانب سے رنز بنانے کا سلسلہ جاری رکھا اور حسن علی کے ایک ہی اوور میں تین چوکے لگا کر انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں اپنی پہلی سنچری مکمل کی۔
جوئی ایویسن کی مزاحمت اور آخری وکٹوں کا زوال
نک کیلی کا ساتھ دینے کے لیے نئے بلے باز جوئی ایویسن میدان میں اترے۔ دونوں نے مل کر لیسٹر شائر کے اسکور کو 400 کے پار پہنچایا اور ٹیم کے لیے 74 رنز کا اہم اضافہ کیا۔ کیلی بالآخر ڈوم بیس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہو گئے، جنہوں نے 121 رنز کی یادگار اننگز کھیلی۔ جوئی ایویسن نے بھی ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 55 رنز بنائے، لیکن بن گرین کے ساتھ رن لینے کی غلط فہمی (کمیونیکیشن بریک ڈاؤن) کے باعث وہ رن آؤٹ ہو گئے۔ ایویسن کے آؤٹ ہوتے ہی لیسٹر شائر کا لوئر آرڈر ریت کی دیوار ثابت ہوا اور آخری چار وکٹیں محض 5 رنز کے اندر گر گئیں۔ یارکشائر کے بائیں ہاتھ کے اسپنر ڈین موریارٹی نے شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 85 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں جبکہ ڈوم بیس نے بھی دو وکٹیں اپنے نام کیں۔
یارکشائر کی دوسری اننگز میں مشکلات
لیسٹر شائر کو پہلی اننگز کی بنیاد پر 268 رنز کی بھاری برتری حاصل ہوئی تھی۔ یارکشائر کو کھیل کے آخری سیشن میں 16 اوورز کا سامنا کرنا پڑا، جو ان کے لیے ڈراونا خواب ثابت ہوا۔ لیسٹر شائر کے گیند باز جوش ڈیوے نے اپنے چوتھے اوور میں تباہ کن گیند بازی کرتے ہوئے یارکشائر کے دونوں اوپنرز ول لکسٹن اور ایڈم لیتھ کو پویلین کی راہ دکھا دی۔ لکسٹن تھرڈ سلپ اور لیتھ لیگ سلپ پر شاندار کیچز کے ذریعے آؤٹ ہوئے۔ دوسرے دن کے اختتام پر یارکشائر کا اسکور 2 وکٹوں کے نقصان پر 32 رنز تھا اور وہ اب بھی لیسٹر شائر کی پہلی اننگز کے اسکور سے 236 رنز پیچھے ہے۔ پچ اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونا شروع ہو گئی ہے، جس کی وجہ سے یارکشائر کے لیے میچ بچانا ایک مشکل چیلنج بن چکا ہے۔
لیسٹر شائر کی تاریخی واپسی کا سفر
لیسٹر شائر کی ٹیم 2025 میں ڈویژن ٹو کی چیمپیئن بن کر 22 سال کی طویل جلاوطنی کے بعد ڈویژن ون میں واپس آئی تھی۔ تاہم، ڈویژن ون کا سفر ان کے لیے آسان نہیں رہا، جہاں انہیں اپنے پہلے سات میچوں میں سے پانچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ تاحال ایک بھی میچ جیتنے میں ناکام رہے ہیں۔ پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نیچے موجود لیسٹر شائر کے لیے یہ میچ سیزن کا رخ موڑنے کا سنہری موقع ہے۔ اگر لیسٹر شائر اس میچ میں کامیابی حاصل کر لیتی ہے تو وہ ڈویژن ون میں زوال سے بچنے کی اپنی امیدوں کو زندہ رکھنے میں کامیاب ہو جائے گی۔ شائقین کرکٹ کو اب تیسرے دن کے کھیل کا بے صبری سے انتظار ہے جہاں لیسٹر شائر کی ٹیم یارکشائر کو جلد آؤٹ کر کے ایک بڑی فتح سمیٹنے کی کوشش کرے گی۔
