Holder completes heist for West Indies after Joseph picks up five
ویسٹ انڈیز کی شاندار واپسی
کرکٹ کی دنیا میں کچھ میچ ایسے ہوتے ہیں جو شائقین کے ذہنوں پر ایک انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں، اور سبینا پارک میں کھیلا گیا یہ مقابلہ بلاشبہ ان میں سے ایک تھا۔ ویسٹ انڈیز نے ایک ایسی فتح حاصل کی جس کی مثال کم ہی ملتی ہے، جہاں سری لنکا کی ٹیم 169 رنز کے ہدف کا دفاع کرتے ہوئے 16 اوورز تک مکمل طور پر حاوی رہی۔ تاہم، آخری لمحات میں ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں نے میچ کا رخ بدل دیا۔
شمر جوزف کی تباہ کن بولنگ
اس میچ کی سب سے بڑی خاص بات شمر جوزف کی شاندار کارکردگی تھی۔ انہوں نے اپنے کیریئر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے 33 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کیں۔ جوزف نے مشکل ترین لمحات میں، خاص طور پر پاور پلے کے آخری اوور اور اننگز کے آخری اوور میں بولنگ کرتے ہوئے سری لنکن بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ ان کی اس کارکردگی نے ویسٹ انڈیز کو ایک بڑے ٹوٹل سے بچائے رکھا۔
میچ کا ڈرامائی موڑ
سری لنکا کی جانب سے ڈتھ ویلالگے نے 28 گیندوں پر 43 رنز کی اننگز کھیلی، جس سے سری لنکا 169 رنز کا ہدف دینے میں کامیاب ہوئی۔ جب ویسٹ انڈیز کی بیٹنگ شروع ہوئی تو شائی ہوپ کی جلد وکٹ گرنے کے بعد میزبان ٹیم شدید دباؤ میں آگئی۔ تاہم، شیرفین ردرفورڈ کی ناقابل شکست 54 رنز کی اننگز اور روومین پاول کے ساتھ ان کی 81 رنز کی شراکت داری نے ویسٹ انڈیز کو کھیل میں زندہ رکھا۔
جیسن ہولڈر کا جادو
میچ کے آخری لمحات میں جب ویسٹ انڈیز کو فتح کے لیے تیزی سے رنز درکار تھے، تو جیسن ہولڈر نے اپنی کلاس دکھائی۔ انہوں نے صرف 5 گیندوں پر 21 رنز بنا کر میچ کا فیصلہ ویسٹ انڈیز کے حق میں کر دیا۔ یہ ایک ایسی ‘چوری’ تھی جس کی سری لنکا کو بالکل توقع نہیں تھی۔ سری لنکا کے اسپنرز مہیش تھیکشنا، ونیندو ہسارنگا اور ڈتھ ویلالگے نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی، لیکن وہ ویسٹ انڈیز کے بلے بازوں کے آخری اوورز کے طوفان کو نہ روک سکے۔
نتیجہ اور اثرات
اس جیت کے ساتھ ہی ویسٹ انڈیز نے نہ صرف میچ جیتا بلکہ سیریز پر بھی قبضہ کر لیا۔ سری لنکا کے لیے یہ ایک ایسا سبق ہے جسے وہ طویل عرصے تک یاد رکھیں گے، کیونکہ انہوں نے حکمت عملی کے لحاظ سے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں نے دباؤ میں جس اعصابی مضبوطی کا مظاہرہ کیا، اسی کی بدولت وہ جیت کے حقدار ٹھہرے۔
- شمر جوزف: 5 وکٹیں (33 رنز)
- شیرفین ردرفورڈ: 54 ناٹ آؤٹ
- میچ کا فیصلہ: ویسٹ انڈیز 5 وکٹوں سے فاتح
یہ فتح ثابت کرتی ہے کہ کرکٹ کے کھیل میں کبھی بھی ہار نہیں ماننی چاہیے۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ان کے پاس میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت موجود ہے۔
