‘You’re delaying my lunch’ – Williamson revels in final Lord’s bow
لارڈز کے میدان میں کین ولیمسن کا آخری الوداعی سفر
‘You’re delaying my lunch’ – Williamson revels in final Lord’s bow, یہ الفاظ اس وقت سامنے آئے جب کین ولیمسن منگل کو پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ اس دوران انہیں احساس ہوا کہ انگلینڈ کے خلاف آنے والا پہلا ٹیسٹ لارڈز میں ان کا آخری ظہور ہوگا۔ 35 سالہ اسٹار بیٹر، جنہوں نے 2013 میں یہاں اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا تھا، جمعرات کو اپنے کیریئر کا 110واں ٹیسٹ کھیلنے کے لیے میدان میں اتریں گے۔
ایک یادگار سفر کا اختتام
کین ولیمسن نے پہلی بار 2012 میں ایک پیشہ ور کھلاڑی کے طور پر لارڈز میں قدم رکھا تھا۔ ان کے چار سابقہ ٹیسٹ میچوں کے علاوہ، ان کا واحد فرسٹ کلاس میچ 2014 میں یارکشائر کے لیے تھا۔ گزشتہ موسم گرما میں، ولیمسن نے میریلیبون کرکٹ کلب (MCC) کے ساتھ ایک منفرد معاہدہ کیا تھا، جس نے انہیں مڈل سیکس اور لندن اسپرٹ کے لیے کھیلنے کا موقع دیا۔ اب جبکہ وہ اپنے کیریئر کے آخری پڑاؤ میں ہیں، وہ لارڈز میں گزارے گئے ان لمحات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔
لارڈز کی خاصیت اور ولیمسن کا نقطہ نظر
ولیمسن لارڈز کے بارے میں بات کرتے ہوئے جذباتی دکھائی دیے۔ انہوں نے کہا، یہ ہمیشہ ایک خاص ٹیسٹ ہوتا ہے۔ آپ اپنے پورے کیریئر پر نظر ڈالیں تو آپ کو یہاں کھیلنے کے بہت کم مواقع ملتے ہیں۔ جس طرح وہ اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہیں، یہ لارڈز کی خاص بات ہے۔ یہاں کی تاریخ اور لانگ روم سے گزرتے ہوئے ممبران سے ملاقات ایک منفرد تجربہ ہے۔
آنرز بورڈ پر نام کی اہمیت
اگرچہ لارڈز میں ولیمسن کی اوسط 32 رہی ہے، جو کہ ان کی مجموعی کیریئر اوسط 54.58 سے کم ہے، لیکن ان کا نام لارڈز کے آنرز بورڈ پر موجود ہے۔ یہ وہ اعزاز ہے جو سچن ٹنڈولکر اور برائن لارا جیسے عظیم کھلاڑیوں کو بھی حاصل نہ ہو سکا۔ 2015 میں انہوں نے یہاں ایک شاندار سنچری (132 رنز) اسکور کی تھی۔ اس میچ کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کرکٹ کا ایک حیرت انگیز کھیل تھا۔
مستقبل کے چیلنجز
نیوزی لینڈ کے موجودہ اسکواڈ میں چھ کھلاڑی ایسے ہیں جو 2022 میں لارڈز میں کھیلے تھے۔ ٹم ساؤتھی، جو اس وقت انگلینڈ کے بولنگ کنسلٹنٹ ہیں، بھی وہاں موجود ہیں۔ ولیمسن اب کسی نیشنل کنٹریکٹ کے بغیر کھیل رہے ہیں اور 2027 کے بعد نیوزی لینڈ کے دوروں کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود، وہ لارڈز میں اپنے اس آخری ہفتے کا بھرپور لطف اٹھانے کے لیے پرعزم ہیں۔
نتیجہ
کین ولیمسن کے لیے لارڈز صرف ایک کرکٹ گراؤنڈ نہیں ہے، بلکہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں کی یادیں ان کے دل کے قریب ہیں۔ ‘You’re delaying my lunch’ جیسے ہلکے پھلکے جملوں کے پیچھے ایک عظیم کھلاڑی کا کرکٹ کے تئیں گہرا احترام اور جذبہ پوشیدہ ہے۔ شائقین کرکٹ اس بات پر متفق ہیں کہ لارڈز میں ولیمسن کا آخری ٹیسٹ ایک تاریخی لمحہ ثابت ہوگا۔
