In Press, On Field, Always Cricket
Latest Cricket News

Suryakumar Yadav breaks silence on wrist injury rumours amid IPL 2026

Rahul Sharma · · 1 min read

آئی پی ایل 2026 میں سوریہ کمار یادیو کی فٹنس کا معمہ

ممبئی انڈینز (MI) کے لیے آئی پی ایل 2026 کا سیزن مجموعی طور پر مایوس کن رہا، اور ٹیم کی خراب کارکردگی کے ساتھ ساتھ سٹار بیٹر سوریہ کمار یادیو کی انفرادی فارم بھی مداحوں کے لیے تشویش کا باعث بنی۔ اس دوران سوشل میڈیا پر یہ افواہیں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئیں کہ سوریہ کمار یادیو کلائی کی کسی سنجیدہ انجری کا شکار ہیں۔

افواہوں کی حقیقت

جب ٹیم اپنے آخری گروپ میچز کی تیاری کر رہی تھی، تو ان قیاس آرائیوں نے زور پکڑ لیا کہ سوریہ کی خراب فارم کے پیچھے ان کی کلائی کی چوٹ کارفرما ہے۔ تاہم، راجستھان رائلز کے خلاف میچ سے قبل، سوریہ کمار یادیو نے خود سامنے آکر ان تمام بے بنیاد دعووں کو مسترد کر دیا۔

تکنیکی وضاحت

سوریہ کمار یادیو نے اپنی وضاحت میں کہا کہ اگر انہیں کلائی میں واقعی کوئی تکلیف ہوتی تو وہ اپنے دستخطی ‘فلک شارٹس’ کھیلنے سے قاصر رہتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرکٹ میں فلک شارٹس کا انحصار مکمل طور پر کلائی کی حرکت اور آنکھ اور ہاتھ کے بہترین تال میل (Hand-eye coordination) پر ہوتا ہے۔ اگر کلائی میں چوٹ ہوتی تو ان شارٹس کو گراؤنڈ کے چاروں طرف کھیلنا عملی طور پر ناممکن ہوتا۔

سوریہ کا موقف

براڈکاسٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سوریہ نے کہا، ‘سب سے پہلے میں اس صورتحال کو واضح کرنا چاہتا ہوں۔ جو لوگ کلائی کی انجری کی بات کر رہے ہیں، وہ یا تو خود کو فزیو سمجھتے ہیں یا پھر انہیں کرکٹ کی کوئی سمجھ نہیں ہے۔ اگر مجھے واقعی انجری ہوتی تو میں پریکٹس اور میچوں میں جس طرح کے شارٹس کھیل رہا ہوں، وہ نہ کھیل پاتا۔’

انہوں نے مزید کہا کہ وہ ایسی بے بنیاد باتوں پر زیادہ توجہ نہیں دیتے کیونکہ یہ ان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔ ان کے مطابق، یہ غیر کنٹرول شدہ عوامل ہیں اور وہ صرف اپنے کھیل پر توجہ مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔

سخت محنت کا سفر

35 سالہ بیٹر کا یہ سیزن توقعات کے مطابق نہیں رہا، جس پر انہیں کافی تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ تاہم سوریہ نے اصرار کیا کہ انہوں نے اپنی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سال کے آغاز میں نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں وہ ‘پلیئر آف دی سیریز’ رہے اور ورلڈ کپ میں بھی ان کی کارکردگی تسلی بخش تھی۔

مستقبل کے عزم

سوریہ کمار یادیو نے اپنی گفتگو کا اختتام ایک مثبت نوٹ پر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک کرکٹر کے طور پر ان کا کام صرف سخت محنت کرنا ہے۔ کارکردگی کبھی بھی گارنٹیڈ نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا، ‘میں صرف اپنے کنٹرول میں موجود چیزوں پر توجہ دیتا ہوں۔ محنت میرے ہاتھ میں ہے، اور میں پوری کوشش کرتا ہوں۔ اگر کامیابی ملتی ہے تو بہت اچھا، اور اگر نہیں ملتی تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ ہم واپس ڈرائنگ بورڈ پر جائیں گے اور دوبارہ سخت محنت کریں گے۔ خدا دیکھ رہا ہے، دیر سویر پھل ضرور ملے گا۔’

نتیجہ

سوریہ کمار یادیو کا یہ بیان ان تمام شکوک و شبہات کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے جو ان کی فٹنس کے حوالے سے اٹھائے جا رہے تھے۔ ایک پیشہ ور کھلاڑی کے طور پر، وہ جانتے ہیں کہ کھیل میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ہیں، اور وہ اپنی اگلی اننگز کے لیے پوری طرح پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔