‘A brand to admire but it comes at a cost’ – Moody wants SRH to invest in bowler – آئی پی ایل 2026: سن رائزرز حیدرآباد کی بیٹنگ جارحیت اور بولنگ کے مسائل
آئی پی ایل 2026: سن رائزرز حیدرآباد کا جارحانہ برانڈ اور اس کی قیمت
سن رائزرز حیدرآباد (SRH) نے آئی پی ایل 2026 کے لیگ مرحلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 14 میں سے 9 میچ جیتے اور پوائنٹس ٹیبل پر تیسری پوزیشن حاصل کی۔ ٹیم کا نیٹ رن ریٹ انہیں گجرات ٹائٹنز کے بعد کھڑا کرتا تھا، تاہم ایلیمنیٹر راؤنڈ میں باہر ہونے کے بعد ٹیم کی حکمت عملی پر بحث چھڑ گئی ہے۔
بیٹنگ بمقابلہ بولنگ: توازن کا فقدان
ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ ٹام موڈی، جنہوں نے 2016 میں ٹیم کو ٹائٹل جتوایا تھا، کا ماننا ہے کہ ایس آر ایچ کا پورا زور صرف بلے بازوں پر مرکوز ہے۔ موڈی کا کہنا ہے کہ ٹیم نے ایک ایسا برانڈ بنایا ہے جو دیکھنے میں بہت پرکشش ہے، لیکن اس کی قیمت انہیں اپنی بولنگ یونٹ کو کمزور کر کے چکانی پڑی۔ ان کے مطابق، ٹیم نے بیٹنگ یونٹ پر اتنا پیسہ خرچ کر دیا کہ ایک مضبوط بولنگ اٹیک بنانے کے لیے فنڈز کی کمی کا سامنا رہا۔
ہیڈرک کلاسن (624 رنز)، ایشان کشن (602 رنز) اور ابھیشیک شرما (563 رنز) نے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی دکھائی، لیکن بولنگ میں ایشان ملنگا اور ثاقب حسین کے علاوہ کوئی بھی مستقل کارکردگی نہ دکھا سکا۔ پرافل ہنجے اور شوانگ کمار نے صلاحیتوں کا مظاہرہ ضرور کیا، لیکن وہ ابھی تک ایک مکمل بولنگ یونٹ کے طور پر تیار نہیں دکھائی دیے۔
ماہرین کی رائے: کیا ایس آر ایچ کو مزید سمجھداری کی ضرورت ہے؟
ٹام موڈی نے رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹیم میں توازن برقرار رکھا ہے، جبکہ ایس آر ایچ کو سیلری کیپ کے اندر رہ کر ٹیم کو متوازن کرنے کی ضرورت ہے۔ امباتی رائیڈو نے بھی موڈی کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی ایل جیتنے کے لیے صرف طاقت کافی نہیں، بلکہ مختلف کنڈیشنز میں کھیل کر سمجھداری دکھانا بھی ضروری ہے۔
ٹیم مینجمنٹ کا موقف
دوسری جانب، ایس آر ایچ کے پیس بولنگ کوچ جیمز فرینکلن کا ماننا ہے کہ سیزن برا نہیں رہا۔ انہوں نے نوجوان بھارتی کھلاڑیوں کی شمولیت کو ایک مثبت پہلو قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ شوانگ، پرافل ہنجے، ثاقب حسین اور دیگر نوجوانوں کا ٹیم میں آنا ایک خوش آئند بات ہے۔ فرینکلن نے نتیش کمار ریڈی کی آل راؤنڈ کارکردگی کی بھی تعریف کی، جنہوں نے بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
مستقبل کا لائحہ عمل
اگرچہ اس سیزن میں ایس آر ایچ ایلیمنیٹر سے باہر ہو گئی، لیکن ٹیم انتظامیہ اب اگلے سیزن اور نیلامی (Auction) کی تیاریوں پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا اگلی بار ٹیم اپنی بیٹنگ کی طاقت کو برقرار رکھتے ہوئے بولنگ کے شعبے میں توازن قائم کر پاتی ہے یا نہیں۔
- بیٹنگ لائن اپ کی شاندار کارکردگی
- نوجوان بھارتی ٹیلنٹ کا ابھرنا
- بولنگ میں تجربہ کار کھلاڑیوں کی کمی
- ٹیم میں توازن لانے کی ضرورت
کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایس آر ایچ اپنی حکمت عملی میں تھوڑی سی تبدیلی لائے اور اپنی بولنگ کو بہتر بنائے تو وہ دوبارہ ٹائٹل جیتنے کی دوڑ میں شامل ہو سکتے ہیں۔
