وائٹلٹی بلاسٹر: ول سمیڈ کی طوفانی بیٹنگ، سمرسیٹ کی ہیمپشائر پر بڑی جیت
سمرسیٹ بمقابلہ ہیمپشائر: وائٹلٹی بلاسٹر کا سنسنی خیز آغاز
برطانوی ڈومیسٹک کرکٹ کے سب سے بڑے میلے، وائٹلٹی بلاسٹر کا آغاز انتہائی سنسنی خیز اور دھماکے دار انداز میں ہوا ہے۔ دفاعی چیمپئن سمرسیٹ نے اپنے ہوم گراؤنڈ یعنی کوپر ایسوسی ایٹس گراؤنڈ، ٹاؤنٹن میں کھیلے گئے افتتاحی میچ میں ہیمپشائر ہاکس کو عبرت ناک شکست سے دوچار کر دیا۔ گزشتہ سال کے فائنل کی یاد تازہ کرتے ہوئے، جہاں سمرسیٹ نے ہیمپشائر کو شکست دے کر ٹرافی اٹھائی تھی، اس بار بھی ہیمپشائر کی ٹیم بدلہ لینے میں ناکام رہی۔ سمرسیٹ نے کھیل کے ہر شعبے میں حریف ٹیم کو آؤٹ کلاس کرتے ہوئے یہ میچ 7 وکٹوں سے اپنے نام کر لیا۔
ٹاس کا فیصلہ اور ہیمپشائر کی بیٹنگ لائن کا زوال
ٹاؤنٹن کی خوبصورت پچ پر سمرسیٹ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ پچ کی نمی اور فلڈ لائٹس کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا، جو کہ بعد میں بالکل درست ثابت ہوا۔ سمرسیٹ کے تیز گیند بازوں نے شروع سے ہی ہیمپشائر کے بلے بازوں کو دباؤ میں رکھا۔ کریگ اوورٹن اور جیک بال کی جوڑی نے اپنی نپی تلی گیند بازی سے ہیمپشائر کے مڈل آرڈر کو بالکل بے بس کر دیا۔
ہیمپشائر کے اوپنر ٹوبی البرٹ نے جارحانہ آغاز کرنے کی کوشش کی اور 17 گیندوں پر 23 رنز بنائے، لیکن کریگ اوورٹن نے انہیں تھامس ریو کے ہاتھوں باؤنڈری پر کیچ آؤٹ کروا کر پہلی کامیابی حاصل کی۔ اس کے بعد جوئے ویدھرلی بھی سست بیٹنگ کا شکار ہوئے اور لیوس گریگوری کی گیند پر ٹام ایبل کو کیچ دے بیٹھے۔ ہیمپشائر کی ٹیم کا اسکور 58 رنز پر 2 وکٹیں ہو چکا تھا اور انہیں ایک بڑی شراکت داری کی سخت ضرورت تھی۔
جیمز ونس کی تنہا جنگ اور مڈل آرڈر کی ناکامی
ایسے نازک وقت پر ہیمپشائر کے کپتان اور تجربہ کار کھلاڑی جیمز ونس نے ذمہ داری سنبھالی۔ انہوں نے سمرسیٹ کے گیند بازوں کے خلاف شاندار شارٹس کھیلے اور میدان کے چاروں اطراف چوکے اور چھکے لگائے۔ ونس نے محض 30 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی، جس میں 4 چوکے اور 2 چھکے شامل تھے۔ تاہم، دوسرے اینڈ پر ان کا ساتھ دینے والا کوئی نہ تھا۔ ہلٹن کارٹ رائٹ کو لیوس گولڈسورتھی نے ایک شاندار گیند پر بولڈ کیا، جبکہ ٹام پرسٹ کو بھی اوورٹن نے پویلین کی راہ دکھائی۔
میچ کا سب سے اہم موڑ اس وقت آیا جب کریگ اوورٹن نے جیمز ونس کو لیوس گریگوری کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کروایا۔ ونس 34 گیندوں پر 58 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، اور ان کے جاتے ہی ہیمپشائر کی بیٹنگ لائن ریت کی دیوار کی طرح گر گئی۔ ڈینیل سیمز اور جیک بال نے آخری اوورز میں تباہ کن بولنگ کی اور ہیمپشائر کے آخری 5 بلے بازوں کو صرف 25 رنز کے اندر آؤٹ کر دیا۔ ہیمپشائر کی پوری ٹیم 19.4 اوورز میں 158 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، جو کہ ایک آسان ہدف دکھائی دے رہا تھا۔
ول سمیڈ کی طوفانی بلے بازی اور پاور پلے کا غلبہ
159 رنز کے ہدف کے تعاقب میں سمرسیٹ کی بیٹنگ لائن نے جس جارحانہ انداز کا مظاہرہ کیا، اس نے تماشائیوں کے پیسے وصول کر دیے۔ اوپنر ول سمیڈ اور ٹام بینٹن نے پہلی ہی گیند سے ہیمپشائر کے بولرز پر دباؤ بڑھا دیا۔ دونوں نے مل کر پاور پلے کے 6 اوورز میں ریکارڈ 74 رنز بنائے اور میچ کو یکطرفہ بنا دیا۔ خاص طور پر 24 سالہ ول سمیڈ نے ناقابل یقین طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہیمپشائر کے نوجوان بولر مینی لمسڈن کو آڑے ہاتھوں لیا۔
لمسڈن کے ایک اوور میں، جس میں دو نو بالز بھی شامل تھیں، سمیڈ نے دو مسلسل فری ہٹس پر گیند کو اسٹیڈیم سے باہر پھینکا۔ اس اوور میں مجموعی طور پر 21 رنز بنے۔ ول سمیڈ نے صرف 22 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی، جو کہ ان کے کیریئر کی تیز ترین اننگز میں سے ایک تھی۔ انہوں نے مجموعی طور پر 29 گیندوں پر 59 رنز بنائے، جس میں 4 چھکے اور 6 چوکے شامل تھے۔ دوسری طرف ٹام بینٹن نے 23 گیندوں پر 30 رنز بنا کر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ دونوں کے درمیان 90 رنز کی اوپننگ شراکت داری نے سمرسیٹ کی فتح کی بنیاد رکھی۔
ریو برادران کی شراکت داری اور سمرسیٹ کی فتح
اگرچہ لیام ڈاؤسن نے ٹام بینٹن کو بولڈ کر کے اور اسکاٹ کیوری نے ول سمیڈ کو آؤٹ کر کے ہیمپشائر کو کچھ امید دلائی، لیکن سمرسیٹ کے مڈل آرڈر بلے بازوں نے کوئی غلطی نہیں کی۔ ٹام ایبل کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد، جیمز ریو اور تھامس ریو نے کریز پر قدم جمائے۔ دونوں بھائیوں نے چوتھی وکٹ کے لیے 52 رنز کی ناقابل شکست شراکت قائم کی اور میچ کو ہیمپشائر کی پہنچ سے دور کر دیا۔
جیمز ریو نے خاص طور پر بہترین کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے 29 گیندوں پر 47 رنز کی اننگز کھیلی، جس میں کوئی غیر ضروری خطرہ مول نہیں لیا گیا۔ سمرسیٹ نے مطلوبہ ہدف 16.4 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔ اس جیت کے ساتھ ہی سمرسیٹ نے اپنے ٹائٹل کے دفاع کا آغاز انتہائی شاندار انداز میں کیا ہے، جبکہ ہیمپشائر کے لیے ٹورنامنٹ کی شروعات انتہائی مایوس کن رہی ہے اور انہیں اپنی خامیوں پر قابو پانے کے لیے سخت محنت کرنی ہوگی۔
