شکیب الحسن کے گرد گھیرا تنگ: اسٹاک مارکیٹ اسکینڈل میں ملوث ہونے کا انکشاف
شکیب الحسن کے گرد گھیرا تنگ: اسٹاک مارکیٹ اسکینڈل کی حقیقت
بنگلہ دیش کے مایہ ناز آل راؤنڈر شکیب الحسن ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں، لیکن اس بار وجہ کرکٹ نہیں بلکہ ایک سنگین مالیاتی فراڈ کا مقدمہ ہے۔ اینٹی کرپشن کمیشن (ACC) نے انکشاف کیا ہے کہ شکیب الحسن مبینہ طور پر اسٹاک مارکیٹ میں ہیرا پھیری کرنے والے ایک گروہ کا حصہ تھے، جس کے نتیجے میں عام سرمایہ کاروں کو 2.57 ارب ٹکہ کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

اسکینڈل کی تفصیلات اور ہیرا پھیری کا طریقہ کار
تفتیشی اداروں کے مطابق، یہ منصوبہ نہایت مہارت سے تیار کیا گیا تھا۔ اس کیس کے مرکزی کردار محمد ابول خیر (ابول خیر ہیرو) ہیں، جو محکمہ کوآپریٹوز میں ڈپٹی رجسٹرار کے عہدے پر فائز تھے۔ شکیب الحسن سمیت 14 افراد پر مشتمل اس گروہ نے پیراماؤنٹ انشورنس، کرسٹل انشورنس اور سونالی پیپر کے شیئرز کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
گروہ نے جعلی ٹریڈنگ اور سیریز ٹرانزیکشنز کے ذریعے ان کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھایا۔ جب عام سرمایہ کاروں نے قیمتیں اوپر جاتے دیکھیں تو انہوں نے منافع کی لالچ میں ان شیئرز میں سرمایہ کاری کر دی۔ جب قیمتیں اپنے عروج پر پہنچیں تو یہ گروہ اپنے حصص فروخت کر کے منظر سے غائب ہو گیا، جس سے عوام کو اربوں کا نقصان ہوا۔
شکیب الحسن کا کردار اور الزامات
اے سی سی کی چارج شیٹ میں شکیب الحسن پر سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ شکیب نے جان بوجھ کر اس فراڈ میں شمولیت اختیار کی۔ ایک سپر اسٹار ہونے کی حیثیت سے، ان کی سرمایہ کاری نے عام لوگوں کو بھروسہ دلایا، جس سے بہت سے لوگ اس جال میں پھنس گئے۔
مبینہ طور پر شکیب نے اس فراڈ کے ذریعے 29.5 ملین ٹکہ کا کیپیٹل گین حاصل کیا۔ ان پر تعزیراتِ بنگلہ دیش کے تحت غبن، مجرمانہ اعتماد شکنی، دھوکہ دہی اور جعلسازی جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
کرکٹ میں واپسی کے خواب چکنا چور؟
شکیب الحسن طویل عرصے سے اپنے کیریئر کے اختتام سے قبل بنگلہ دیش کے لیے ایک آخری سیریز کھیلنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔ تاہم، قانونی مشکلات نے ان کی واپسی کی راہ میں دیوار کھڑی کر دی ہے۔ بی سی بی کے عبوری صدر تمیم اقبال پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ قانونی مسائل حل کیے بغیر شکیب کو ٹیم میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ شکیب کے بینک اکاؤنٹس منجمد ہیں، ان پر بیرون ملک سفر کی پابندی عائد ہے، اور اے سی سی کی جانب سے ثبوت اکٹھے کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ اگست 2024 سے وہ بنگلہ دیش واپس نہیں آئے، جس سے ان کے کیریئر کے اختتام پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
تضاد: کرپشن مخالف سفیر سے ملزم تک
یہ انتہائی حیران کن بات ہے کہ شکیب الحسن کبھی بنگلہ دیش سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن اور اے سی سی کے برانڈ ایمبیسیڈر رہ چکے ہیں۔ 2018 میں، انہوں نے کرپشن کے خلاف مہم میں اے سی سی کی مدد کی تھی۔ آج وہی کھلاڑی ان اداروں کے ریڈار پر ہے جن کی وہ کبھی نمائندگی کرتے تھے۔
تحقیقات کا اگلا مرحلہ
اے سی سی نے حالیہ دنوں میں اسٹاک مارکیٹ ریگولیٹر کے دفاتر سے اہم دستاویزات قبضے میں لی ہیں۔ اے سی سی کے ترجمان محمد اختر الاسلام کے مطابق، یہ دستاویزات ٹریڈنگ کے پیٹرن اور مالیاتی بہاؤ کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ جیسے جیسے تفتیش گہری ہو رہی ہے، شکیب الحسن کے لیے قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اور ان کا کرکٹ کا میدان میں واپسی کا خواب دن بدن دور ہوتا جا رہا ہے۔
