In Press, On Field, Always Cricket
News

‘High-quality’ Saleem limits damage despite extreme heat and unhelpful pitch

Rahul Sharma · · 1 min read

محمد سلیم کی شاندار بولنگ کا مظاہرہ

نئی چندی گڑھ میں کھیلے جا رہے واحد ٹیسٹ میچ کے دوران افغانستان کے فاسٹ بولر محمد سلیم نے اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کیا ہے۔ سلیم نے بھارت کی پہلی اننگز میں 140 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں، جو اس مشکل پچ پر ایک غیر معمولی کارنامہ ہے۔ اگرچہ افغان بلے بازوں کی کارکردگی مایوس کن رہی اور دوسرے دن کے کھیل کے اختتام تک ٹیم 113 رنز پر 5 وکٹیں گنوا چکی تھی، تاہم سلیم کی بولنگ نے ٹیم کو مکمل تباہی سے بچائے رکھا۔

انتہائی حالات میں صبر آزما بولنگ

محمد سلیم نے شدید گرمی کے عالم میں تقریباً 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل بولنگ کی۔ انہوں نے نہ صرف شوبھن گل کو 126 رنز پر آؤٹ کیا بلکہ دھرو جریل، مانو ستھار اور محمد سراج کو بھی پویلین کی راہ دکھائی۔ سلیم کی مسلسل ایک ہی لینتھ پر گیند بازی نے بھارتی بلے بازوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع نہیں دیا۔

کوچ اور کھلاڑیوں کی جانب سے تعریف

افغانستان کے ہیڈ کوچ رچرڈ پائبس نے سلیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس قدر گرمی میں اعلیٰ درجے کی بیٹنگ لائن کے خلاف 6 وکٹیں حاصل کرنا بہت بڑی کامیابی ہے۔ دوسری جانب بھارتی آل راؤنڈر واشنگٹن سندر نے بھی سلیم کی بولنگ کی تعریف کرتے ہوئے کہا: ‘یہ واقعی ہائی کوالٹی بولنگ تھی۔ پچ میں فاسٹ بولرز کے لیے کچھ خاص نہیں تھا، لیکن سلیم نے مستقل مزاجی کے ساتھ گیند کو سیم پر ہٹ کیا جو کہ اعلیٰ مہارت اور کردار کا ثبوت ہے۔’

ڈی آر ایس کے استعمال میں کوتاہی

افغانستان کے لیے میچ کا ایک تاریک پہلو ڈی آر ایس (DRS) کا غلط یا نہ استعمال کرنا رہا۔ رچرڈ پائبس نے تسلیم کیا کہ ٹیم فیصلہ سازی میں سست روی کا شکار رہی۔ خاص طور پر شوبھن گل اور رشبھ پنت کے خلاف فیصلوں میں ڈی آر ایس نہ لینا ٹیم کو مہنگا پڑا۔ اس سے قبل کے ایل راہول کو بھی آؤٹ نہ کرنے کا خمیازہ افغانستان کو بھگتنا پڑا تھا۔ پائبس کے مطابق، کپتان اور فیلڈرز کے درمیان رابطے کا فقدان تھا جس پر بعد میں ٹیم کے اندر تفصیلی بات چیت کی گئی ہے۔

مستقبل کے چیلنجز

افغانستان کی ٹیم کو اپنی بیٹنگ لائن پر کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ 564 رنز کے بڑے ہدف کے سامنے ان کی بیٹنگ بری طرح ناکام رہی ہے۔ اگرچہ محمد سلیم نے گیند کے ساتھ اپنا کام بخوبی انجام دیا، لیکن ٹیسٹ کرکٹ میں کامیابی کے لیے بیٹنگ اور فیلڈنگ کے شعبوں میں یکسانیت لانا ضروری ہے۔ ٹیم کے لیے اب چیلنج یہ ہے کہ وہ بقیہ میچ میں کس طرح بھارتی اسپنرز اور فاسٹ بولرز کا سامنا کرتی ہے اور کیا وہ میچ کو بچانے میں کامیاب ہو پائیں گے یا نہیں۔

خلاصہ

محمد سلیم کی محنت اور عزم نے ثابت کیا ہے کہ اگر بولر اپنی لائن اور لینتھ پر قائم رہے تو وہ مشکل ترین حالات میں بھی حریف ٹیم کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ افغانستان کے لیے یہ ٹیسٹ ایک سیکھنے کا عمل ہے، خاص طور پر فیصلہ سازی اور مشکل حالات میں صبر برقرار رکھنے کے حوالے سے۔ سلیم کی یہ کارکردگی آنے والے میچوں میں ان کے اعتماد کو بڑھانے کے لیے کافی ہوگی۔