روہت شرما کی بھارتی کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں بڑی پیشگوئی
روہت شرما کا بھارتی کرکٹ کے لیے وژن
آئی پی ایل 2026 کے جاری سیزن میں ممبئی انڈینز کی ٹیم اپنے آخری مقابلے کے لیے تیار ہے، جہاں ان کا سامنا 24 مئی کو وانکھیڈے اسٹیڈیم میں راجستھان رائلز سے ہوگا۔ اس اہم میچ سے قبل، بھارتی ٹیم کے سابق کپتان روہت شرما نے بھارتی کرکٹ کے مستقبل کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور بصیرت افروز بیان دیا ہے۔
بھارت: دنیا کا اگلا کرکٹ پاور ہاؤس
روہت شرما، جن کی قیادت میں بھارتی ٹیم نے 2024 کا ٹی 20 ورلڈ کپ اپنے نام کیا تھا، کا ماننا ہے کہ جس رفتار سے بھارتی کرکٹ ترقی کر رہی ہے، وہ وقت دور نہیں جب بھارت دنیا کی نمبر ایک کرکٹ کھیلنے والی قوم بن جائے گا۔ روہت نے ممبئی انڈینز کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو میں کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ بھارت عالمی کرکٹ کا پاور ہاؤس بنے۔
انہوں نے مزید کہا: ‘میں چاہتا ہوں کہ بھارت عالمی کرکٹ کا مرکز بنے۔ گزشتہ تین برسوں میں ہم نے جس طرح کی کارکردگی دکھائی ہے، وہ شاندار ہے۔ 2024 کا ورلڈ کپ ہو، ویمنز ورلڈ کپ، انڈر 19 ورلڈ کپ یا چیمپئنز ٹرافی، ہماری فتوحات کا سلسلہ جاری ہے۔ میری دعا ہے کہ ہم اسی تسلسل کو برقرار رکھیں۔’
نئی نسل اور کھیل کا لطف
ممبئی انڈینز اور راجستھان رائلز کے درمیان ہونے والے آخری میچ کے لیے ایک خاص اہتمام کیا گیا ہے، جس میں 20 ہزار بچے اسٹیڈیم میں میچ دیکھیں گے۔ اس حوالے سے روہت شرما نے بچوں پر دباؤ نہ ڈالنے کی نصیحت کی۔ انہوں نے کہا کہ چھ سے 18 سال کی عمر کے بچوں کو کھیل سے لطف اندوز ہونا چاہیے نہ کہ ان پر کامیابی کا دباؤ ڈالنا چاہیے۔
روہت نے اپنے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ‘کھیل میں کوئی بھی سفر ہموار نہیں ہوتا۔ اتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ ہیں، اور یہ وہی چیزیں ہیں جو ہمیں سب سے زیادہ سکھاتی ہیں۔ مجھے اپنے ڈیبیو سے اب تک بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔’
کپتانی اور ٹیم کی اہمیت
39 سالہ روہت شرما، جنہوں نے ممبئی انڈینز کو 5 بار آئی پی ایل ٹائٹل جتوایا، کا ماننا ہے کہ ٹیم کے مفادات ذاتی کارکردگی سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ انہوں نے کپتانی اور ایک کھلاڑی کے طور پر کھیلنے کے فرق کو واضح کرتے ہوئے کہا:
- کپتانی میں آپ کو صرف اپنی نہیں بلکہ پوری ٹیم کی کارکردگی کی فکر کرنی پڑتی ہے۔
- اگر آپ سنچری بھی اسکور کر لیں لیکن ٹیم میچ ہار جائے، تو وہ سکون نہیں ملتا۔
- کھیل نے مجھے نہ صرف میدان میں بلکہ عملی زندگی میں بھی فیصلے لینے اور معاملات کو سمجھنے کا ہنر سکھایا ہے۔
روہت کا یہ ماننا ہے کہ کھیل انسان کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اور ایک کپتان کے طور پر انہوں نے جو کچھ سیکھا ہے، وہ ان کی زندگی کے ہر پہلو پر اثر انداز ہوا ہے۔ یہ جذبہ اور عزم ہی ہے جو روہت شرما کو ایک لیڈر کے طور پر ممتاز کرتا ہے۔
جیسے جیسے ممبئی انڈینز اپنے اس سیزن کو مکمل کرنے کی طرف بڑھ رہی ہے، روہت کے یہ خیالات نہ صرف موجودہ کھلاڑیوں بلکہ آنے والی نسل کے لیے بھی ایک مشعل راہ ہیں۔ بھارت کا مستقبل یقیناً ان جیسے کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں محفوظ نظر آتا ہے جو کھیل کو صرف ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک جذبہ سمجھتے ہیں۔
