روہت شرما کا 2027 ورلڈ کپ کا خواب: کیا کیریئر کا اختتام قریب ہے؟
بھارتی کرکٹ میں تبدیلی کی لہر: روہت شرما کا مستقبل
بھارتی کرکٹ ٹیم کے موجودہ حالات اور افغانستان کے خلاف اعلان کردہ اسکواڈ نے کرکٹ کے حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ آئی پی ایل 2025 کے فوراً بعد ہونے والی اس سیریز میں روہت شرما کی شمولیت کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے، تاہم ان کا نام ‘فٹنس سے مشروط’ ہونے کی وجہ سے کئی سوالات نے جنم لیا ہے۔
2027 ورلڈ کپ کے لیے حکمت عملی
بی سی سی آئی (BCCI) کا موجودہ فوکس 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ پر مرکوز ہے۔ سلیکٹرز اس ایونٹ کے لیے ایک ایسی ٹیم تیار کرنا چاہتے ہیں جس میں تجربے کے ساتھ ساتھ نوجوان خون کا جوش بھی شامل ہو۔ اسی مقصد کے پیش نظر افغانستان کے خلاف اسکواڈ میں پرنس یادو، ہرش دوبے اور گرنور برار جیسے نئے چہروں کو موقع دیا گیا ہے۔
روہت شرما اور ورلڈ کپ: کیا امکانات ہیں؟
حال ہی میں اے بی پی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، روہت شرما کے 2027 ورلڈ کپ کھیلنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ انگلینڈ کے خلاف آئندہ ون ڈے سیریز سابق کپتان کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ سلیکٹرز یشسوی جیسوال اور رتوراج گائیکواڑ جیسے نوجوان اوپنرز کو مستقبل کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
فٹنس اور کارکردگی کا توازن
روہت شرما کی عمر اس وقت 39 برس ہے اور گزشتہ کچھ عرصے سے ان کی فٹنس، خاص طور پر ہیمسٹرنگ کی انجری، ایک بڑا چیلنج رہی ہے۔ آئی پی ایل 2026 میں انہوں نے 8 اننگز میں 160.80 کے اسٹرائیک ریٹ سے 283 رنز بنائے، جو ان کی بیٹنگ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تاہم، بین الاقوامی سطح پر طویل فارمیٹس کے لیے فٹنس کا معیار بالکل مختلف ہے۔
افغانستان کے خلاف بھارت کا اسکواڈ
سلیکٹرز نے ٹیم کی تشکیل میں متوازن نقطہ نظر اپنانے کی کوشش کی ہے۔ افغانستان کے خلاف سیریز کے لیے ٹیم درج ذیل ہے:
- شبمن گل (کپتان)
- روہت شرما (فٹنس سے مشروط)
- وراٹ کوہلی
- شریاس آئیر (نائب کپتان)
- کے ایل راہول (وکٹ کیپر)
- ایشان کشن (وکٹ کیپر)
- ہاردک پانڈیا (فٹنس سے مشروط)
- نتش کمار ریڈی
- واشنگٹن سندر
- کلدیپ یادو
- ارشدیت سنگھ
- پراسیدھ کرشنا
- پرنس یادو
- گرنور برار
- ہرش دوبے
مستقبل کی جانب پیش قدمی
بھارتی ٹیم انتظامیہ کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ ہے کہ وہ تجربہ کار کھلاڑیوں پر بھروسہ کرے یا مکمل طور پر نئی نسل کو ذمہ داری سونپے۔ ایشان کشن کی واپسی اور نوجوان باؤلرز کی شمولیت یہ واضح کرتی ہے کہ بی سی سی آئی اب طویل مدتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ اگر روہت شرما اپنی فٹنس اور فارم کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں، تو بھی ٹیم کی ترجیحات میں تبدیلی اب ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔
آنے والے چند مہینے بھارتی کرکٹ کے لیے انتہائی اہم ہوں گے، خاص طور پر انگلینڈ کے خلاف سیریز کے بعد ٹیم کی تشکیل میں واضح تبدیلیوں کی توقع کی جا سکتی ہے۔ کیا روہت شرما اپنے شاندار کیریئر کو ایک نئے عزم کے ساتھ جاری رکھیں گے یا یہ آنے والے وقت میں کرکٹ کی دنیا میں ایک بڑے عہد کے اختتام کا اشارہ ہے؟ اس کا جواب وقت ہی دے گا۔
