ریشabh پنٹ کی قیادت میں ایل ایس جی کی ناکامی، آئی پی ایل 2027 سے پہلے تبدیلی کا امکان
ریشabh پنٹ کی قیادت میں لاکھنو سپر جائنٹس کی ناکامی: قیادت بدلنے کا امکان
آئی پی ایل 2026 میں لاکھنو سپر جائنٹس کا سیزن انتہائی ناکامی کے ساتھ ختم ہو گیا۔ ٹیم نے پنجاب کنگز کے خلاف اپنا آخری گروپ اسٹیج میچ بھی ہار کر خود کو پوائنٹس ٹیبل کی دسویں پوزیشن تک محدود کر لیا۔ اس شکست کے بعد ریشabh پنٹ کی قیادت پر سنجیدہ سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں، اور اب فرنچائز کے سی ای او اور کرکٹ ڈائریکٹر دونوں کے بیانات نے ان کی کپتانی کے خاتمے کی طرف واضح اشارہ دیا ہے۔
مہنگے ترین کھلاڑی کی مایوس کن کارکردگی
ریشabh پنٹ کو دہلی کیپیٹلز کے بعد آئی پی ایل 2025 میں لاکھنو سپر جائنٹس نے 27 کروڑ روپے کی rekord رقم دے کر سب سے مہنگے کھلاڑی کے طور پر حاصل کیا تھا۔ اُمید تھی کہ وہ بیٹنگ اور قیادت دونوں میں ٹیم کو نئی بلندیوں تک لے جائیں گے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس رہی۔
2025 میں وہ صرف 269 رنز بنا سکے، جن کی اوسط 24.45 رہی۔ آئی پی ایل 2026 میں بھی کچھ خاص بہتری نہیں آئی۔ 13 اننگز میں 312 رنز، اوسط 30 سے کم اور اسٹرائک ریٹ 138.05 کے ساتھ۔ یہ اعداد و شمار کسی بھی ٹاپ آرڈر بیٹسمین کے لیے مطمئن کن نہیں، خاص طور پر ایک کپتان کے لیے جو ٹیم کی رہنمائی کر رہا ہو۔
کپتانی کا اوسط معیار
پنٹ نے اب تک لاکھنو سپر جائنٹس کی قیادت میں 28 میچ کھیلے ہیں، جس میں 17 میچ ہارے ہیں۔ دو مرتبہ مسلسل گروپ اسٹیج میں ہی سیزن ختم ہونا فرنچائز کے لیے قابل قبول نہیں رہا۔ فینز کی طرف سے بھی تنقید بڑھ رہی ہے، اور اب انتظامیہ بھی حرکت میں آ چکی ہے۔
فرنچائز کی طرف سے واضح اشارہ
میچ کے بعد پریس کانفرنس میں لاکھنو سپر جائنٹس کے کرکٹ ڈائریکٹر ٹام مودی نے کہا: “قیادت کے حوالے سے ہم سنجیدگی سے غور کریں گے کہ آئندہ سیزن میں یہ کیسی نظر آنی چاہیے۔ ہر شعبے کی طرح، سیزن کا جائزہ لینے کے بعد ہم کچھ غور و فکر کے بعد فیصلے کریں گے۔”
یہ بیان زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں چھوڑتا۔ ریشabh پنٹ کو اگلے سیزن تک کپتانی کا موقع ملنے کے امکانات بہت کم ہیں۔
نویں کپتان کون ہو سکتا ہے؟
دو نام سامنے آ رہے ہیں: مچل مارش اور ایڈن مارکرام۔ مارش کی عمر 36 سال ہے اور وہ مسلسل چوٹوں کا شکار رہتے ہیں۔ اس تناظر میں وہ پائیدار آپشن نہیں ہو سکتے۔
دوسری طرف، ایڈن مارکرام کا ریکارڈ قابل تعریف ہے۔ وہ جنوبی افریقہ کی ٹی 20 ٹیم کے کپتان رہے ہیں اور 110 میچز میں 56 جیت کے ساتھ ایک مضبوط قائد کے طور پر ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے سنسائیزرز ایسٹرن کیپ کو ایس اے 20 ٹورنامنٹ کا ٹائٹل بھی دلایا ہے۔
لاکھنو سپر جائنٹس کے لیے وہ ایک منطقی، تجربہ کار اور کامیابی والا آپشن نظر آتے ہیں۔
نتیجہ: تبدیلی کا وقت آ گیا ہے
ریشabh پنٹ کی قیادت میں ٹیم کی مسلسل ناکامیوں کے بعد، فرنچائز کے لیے کچھ نہ کچھ بدلنا ضروری ہے۔ اگر لاکھنو سپر جائنٹس آئی پی ایل 2027 میں واپسی کرنا چاہتی ہے، تو قیادت میں تبدیلی اب لا محالہ نظر آ رہی ہے۔
اگر ایڈن مارکرام کو کپتانی دی جاتی ہے تو یہ ایک حکمت عملی کے مطابق فیصلہ ہو گا — تجربے، سوچ اور کامیابی کی بنیاد پر۔
ریشabh پنٹ ابھی بھی ایک قابل قدر کھلاڑی ہیں، مگر اب وقت یہ طے کرے گا کہ کیا وہ لاکھنو میں صرف بیٹسمین کے طور پر کھیلتے رہیں گے، یا قیادت کا بوجھ اُتار کر اپنی کارکردگی پر توجہ دیں گے۔
