In Press, On Field, Always Cricket
Latest Cricket News

رویندر جڈیجہ کا CSK چھوڑ کر راجستھان رائلز میں جانے کا اصل سبب کیا ہے؟

Rahul Sharma · · 1 min read

رویندر جڈیجہ کا CSK سے انخلاء: ایک نیا انکشاف

آئی پی ایل کی تاریخ میں چنئی سپر کنگز (CSK) اور رویندر جڈیجہ کا ساتھ ایک سنہری دور کی حیثیت رکھتا ہے۔ 12 برسوں پر محیط اس سفر میں جڈیجہ نے نہ صرف تین ٹائٹل جتوائے بلکہ 2023 کے فائنل میں آخری دو گیندوں پر دس رنز بنا کر ٹیم کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا۔ تاہم، آئی پی ایل 2026 سے قبل ان کا راجستھان رائلز (RR) میں ٹریڈ ہونا مداحوں کے لیے ایک حیران کن قدم تھا۔

ٹریڈ کی تفصیلات اور پس منظر

آئی پی ایل 2026 سے قبل ہونے والی اس ٹریڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ رویندر جڈیجہ اور سیم کرن، جو 2025 میں CSK کا حصہ تھے، کو راجستھان رائلز بھیج دیا گیا اور بدلے میں وکٹ کیپر سنجو سیمسن چنئی کا حصہ بنے۔ اس معاہدے میں جڈیجہ کی تنخواہ 18 کروڑ روپے سے کم ہو کر 14 کروڑ روپے کر دی گئی، جو خود میں ایک بڑا سوالیہ نشان تھا۔

کپتانی کی خواہش اور جڈیجہ کا ارادہ

کرکٹ بلاگر کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، جڈیجہ کے CSK چھوڑنے کی بنیادی وجہ ان کی کپتانی کرنے کی دیرینہ خواہش تھی۔ رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ جڈیجہ اپنے قریبی حلقوں میں راجستھان رائلز کی کپتانی کے حصول کے بارے میں بات کر چکے تھے۔ جب یہ بات CSK کی انتظامیہ تک پہنچی، تو انہوں نے جڈیجہ کو جانے دینے کا فیصلہ کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ راجستھان رائلز کے ساتھ جڈیجہ کا پرانا تعلق رہا ہے؛ وہ 2008 میں اس ٹیم کا حصہ تھے جب شین وارن نے انہیں ‘راک اسٹار’ کا لقب دیا تھا اور ٹیم نے پہلا آئی پی ایل ٹائٹل جیتا تھا۔

ریان پراگ اور قیادت کا بحران

سنجو سیمسن کی انجری کے بعد ریان پراگ نے راجستھان رائلز کی کپتانی سنبھالی تھی، مگر ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی اور وہ پوائنٹس ٹیبل پر نویں نمبر پر رہی۔ سیمسن کے باہر ہونے کے بعد، انتظامیہ نے یشسوی جیسوال اور رویندر جڈیجہ سمیت کئی ناموں پر غور کیا، لیکن بالآخر قیادت ریان پراگ کے سپرد کر دی گئی۔

ایم ایس دھونی کا ردعمل

رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ اس بڑی ٹریڈ کے حوالے سے ایم ایس دھونی کو مکمل طور پر اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا، جس سے وہ خوش نہیں تھے۔ اگرچہ دھونی باضابطہ طور پر کپتان نہیں ہیں، لیکن میدان میں ان کی حکمت عملی کا اثر ناقابل تردید ہے۔

جڈیجہ کا کپتانی کا ریکارڈ

تاریخ پر نظر ڈالیں تو 2022 میں جب جڈیجہ کو CSK کی کپتانی سونپی گئی تھی، تو نتیجہ بہت حوصلہ افزا نہیں تھا۔ آٹھ میچوں میں سے صرف دو جیت کے بعد انہیں کپتانی سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد دھونی نے دوبارہ باگ ڈور سنبھالی مگر ٹیم کا سیزن مایوس کن رہا۔

موجودہ صورتحال

موجودہ سیزن میں جڈیجہ کی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو انہوں نے 11 میچوں میں 8 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اگرچہ وہ اپنی کفایت شعاری کے لیے مشہور ہیں، لیکن ان کے اعداد و شمار ان کی بیٹنگ اور فیلڈنگ کے معیار کے مقابلے میں کم دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ شاید جڈیجہ نے اپنے کیریئر کے اس موڑ پر کپتانی کے نئے چیلنج کو ترجیح دی، جس کے لیے انہیں اپنی پرانی ٹیم اور دھونی کا ساتھ چھوڑنا پڑا۔ کیا یہ فیصلہ ان کے حق میں بہتر ثابت ہوگا؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

  • رویندر جڈیجہ کا کیریئر: 2008 میں راجستھان رائلز سے آغاز۔
  • CSK کے ساتھ کامیابی: 3 آئی پی ایل ٹائٹلز میں اہم کردار۔
  • کپتانی کا تجربہ: 2022 میں CSK کی قیادت میں جدوجہد۔
  • مستقبل کے امکانات: راجستھان رائلز میں نئے کردار کی تلاش۔