Prasidh grabs five in Chennai, Afghanistan fold for 218: چنائی میں پرسیدھ کا شاندار کارنامہ
چنائی میں کھیلے گئے انڈیا اور افغانستان کے درمیان تیسرے ایک روزہ بین الاقوامی (ون ڈے) میچ میں، ہندوستانی فاسٹ باؤلر پرسیدھ کرشنا نے اپنی کیریئر کی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں حاصل کیں، جس کے نتیجے میں افغانستان کی پوری ٹیم 218 رنز پر آؤٹ ہو گئی۔ یہ پرسیدھ کا انڈیا کی شرٹ میں پہلا پانچ وکٹوں کا ہول تھا، اور ان کی تباہ کن ابتدائی سپیل نے افغانستان کو دباؤ میں ڈال دیا۔ اس کے باوجود، کپتان ہاشمت اللہ شاہدی کی شاندار سنچری اور عظمت اللہ عمرحی کی نصف سنچری نے افغانستان کو ایک معقول مجموعی سکور تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پرسیدھ کرشنا کی ابتدائی تباہی اور افغانستان کا جدوجہد بھرا آغاز
پرسیدھ کرشنا نے میچ کے آغاز سے ہی اپنی رفتار اور سوئنگ کا شاندار مظاہرہ کیا۔ انہوں نے اپنے پہلے پانچ اوورز میں صرف 6 رنز کے عوض 4 وکٹیں حاصل کرکے افغانستان کی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی۔ یہ وہی ابتدائی دباؤ تھا جس نے افغانستان کو کبھی بھی میچ میں مکمل طور پر مستحکم نہیں ہونے دیا۔ ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کرنے والی افغان ٹیم کے لیے یہ ایک خوفناک آغاز ثابت ہوا۔ پچ پر ابتدائی طور پر کافی سوئنگ اور اضافی اچھال موجود تھا، جس نے ہندوستانی تیز گیند بازوں کو فائدہ پہنچایا۔ گیند اکثر بلے بازوں کو چکما دے رہی تھی، اور یہی وجہ تھی کہ افغان اوپنرز کو جدوجہد کرنا پڑی۔
روہت شرما کے شاندار کیچز
رحمان اللہ گرباز نے پرسیدھ کی گیند پر اپر کٹ کھیلنے کی کوشش کی لیکن گیند نے ان کے بلے کا کنارہ لیا اور پہلی سلپ پر کھڑے روہت شرما نے ایک آسان کیچ لے لیا۔ اس کے بعد رحمت شاہ نے لیگ سائیڈ پر فلک کرنے کی کوشش کی لیکن لیڈنگ ایج لے کر گیند روہت شرما کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ ابراہیم زادران بھی گرباز کی طرح آؤٹ ہوئے، ان کا کیچ بھی پہلی سلپ پر روہت شرما نے پکڑا۔ اس طرح ابتدائی وکٹیں تیزی سے گریں، اور افغانستان 36 رنز پر 4 وکٹیں گنوا کر شدید مشکلات کا شکار ہو گیا۔ درویش رسولی نے پرسیدھ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی لیکن ان کا سکائیڈ ڈرائیو کور سے بھاگتے ہوئے شریس ایئر نے کامیابی سے پکڑا، جس سے افغانستان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔
شاہدی اور عمرحی کی مزاحمت اور سنچری شراکت
36 رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد، ہاشمت اللہ شاہدی اور عظمت اللہ عمرحی نے افغان اننگز کو سنبھالنے کی ذمہ داری سنبھالی۔ عمرحی نے گیارہویں سے چودہویں اوور کے درمیان چار چوکے لگا کر کچھ دباؤ کم کیا۔ شاہدی کو شروع میں باؤنسرز کھیلنے میں دشواری کا سامنا تھا لیکن انہوں نے پرنس یادو کی گیند پر ایک شاندار پل شاٹ کھیل کر چوکا حاصل کیا۔ دونوں بلے بازوں نے آہستہ آہستہ اپنی شراکت کو مضبوط کیا اور ہندوستانی گیند بازوں کے خلاف مزاحمت کی۔
سپنرز کا تعارف اور رن ریٹ میں اضافہ
پندرہ اوورز کے بعد نتیش کمار ریڈی اور ہرش دوبے کی سپن گیند بازی کو متعارف کرایا گیا۔ ریگولر باؤنڈریز نے افغان اننگز کے رن ریٹ کو بڑھانا شروع کر دیا، اور واشنگٹن سندر کے تعارف کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ شاہدی نے دوبے کو ایک چوکا اور ایک چھکا لگا کر دباؤ میں لایا، جس کے بعد دوبے کو اٹیک سے ہٹا دیا گیا۔ شاہدی اور عمرحی نے دو اوورز کے وقفے سے اپنی اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں اور ان کے درمیان 105 رنز کی قیمتی سنچری شراکت بھی مکمل ہوئی۔ یہ شراکت افغان اننگز کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئی اور ٹیم کو ایک قابل دفاع مجموعے کی امید دلائی۔
شراکت کا اختتام اور انڈیا کو پینلٹی کا فائدہ
پرنس یادو کی تیز گیند بازی کی واپسی نے اس شراکت کا خاتمہ کیا۔ عمرحی نے ایک باؤنسر پر ہک کرنے کی کوشش کی لیکن گیند سیدھی ڈیپ فائن لیگ پر موجود فیلڈر کے ہاتھوں میں چلی گئی اور وہ 50 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ ان کے آؤٹ ہونے کے بعد شاہدی نے محمد نبی کے ساتھ مل کر 57 رنز کی ایک اور اہم شراکت قائم کی۔ شاہدی نے اپنی باؤنسر کھیلنے کی کمزوری پر قابو پایا اور 36 ویں اوور تک پل اور ریمپ شاٹس کے ذریعے پانچ باؤنڈریز حاصل کیں۔ تاہم، اسی دوران انہیں پچ کے خطرناک علاقے میں دوڑنے پر دوسری وارننگ بھی ملی۔
میچ کا ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب شاہدی نے 40 ویں اوور کے اختتام پر دوبارہ پچ کے ڈینجر ایریا میں دوڑ لگائی، جس کے نتیجے میں افغانستان کو پانچ رنز کی پینلٹی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ نہ صرف پانچ رنز کا نقصان تھا بلکہ شاہدی کو اپنی سٹرائیک بھی گنوانی پڑی، جس نے افغان اننگز کے آخری اوورز میں تیزی سے وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔
آخری لمحات کا ڈرامہ اور شاہدی کی سنچری
پینلٹی کے بعد افغانستان کی قسمت ڈرامائی طور پر بدل گئی۔ اگلے سات گیندوں میں تین وکٹیں گر گئیں۔ راشد خان نے دوبے کی گیند پر بڑا ہٹ لگانے کی کوشش میں ڈیپ کور پر کیچ آؤٹ ہوئے۔ اسی اوور کے اختتام پر اللہ غضنفر رن آؤٹ ہوگئے جب شاہدی نے سٹرائیک اپنے پاس رکھنے کی کوشش کی۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن طور پر فرید احمد اگلی ہی گیند پر رن آؤٹ ہوگئے۔ شاہدی نے سٹرائیک گھمانے کی کوشش میں ایک غیر موجود سنگل کے لیے دوڑ لگائی، اور شبمن گل نے دو گیندوں میں اپنا دوسرا رن آؤٹ کر کے افغانستان کو مزید گہرے بحران میں دھکیل دیا۔
افغانستان کا سکور 203 پر 6 وکٹوں سے گر کر 206 پر 9 وکٹیں ہو گیا، جس سے شاہدی کی سنچری خطرے میں پڑ گئی۔ ضیاء الرحمن نے پانچ گیندوں کا سامنا کیا اور شاہدی نے اگلے 12 میں سے 11 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنی 128 گیندوں پر مشتمل شاندار سنچری مکمل کی۔ تاہم، وہ سنچری مکمل کرنے کے بعد زیادہ دیر کریز پر نہ ٹھہر سکے اور پرسیدھ کی ایک باؤنسر پر پل شاٹ کھیلتے ہوئے ڈیپ مڈ وکٹ پر آؤٹ ہوگئے۔ ان کی وکٹ کے ساتھ ہی افغان اننگز 28 گیندیں باقی رہتے ہوئے 218 رنز پر تمام ہو گئی۔
نتیجہ
پرسیدھ کرشنا کی شاندار گیند بازی اور کپتان شبمن گل کی فیلڈنگ کی مہارت نے انڈیا کو اس میچ میں بالادستی حاصل کرنے میں مدد دی۔ افغانستان کی ٹیم نے شاہدی اور عمرحی کی بہترین شراکتوں کے باوجود، وکٹوں کے گچھوں میں گرنے اور پینلٹی رنز کے نقصان کی وجہ سے ایک بڑا مجموعہ حاصل نہ کر سکی۔ یہ میچ پرسیدھ کرشنا کے لیے یادگار ثابت ہوا، جنہوں نے اپنی پہلی ون ڈے پانچ وکٹوں کے ساتھ کرکٹ کی دنیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
