In Press, On Field, Always Cricket
News

پیٹ کمنز کا دو ٹوک اعلان: آسٹریلوی کرکٹ ہی میری اولین ترجیح ہے

Rahul Sharma · · 1 min read

پیٹ کمنز کا عزم: قومی مفاد سب سے مقدم

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے ٹیسٹ اور ون ڈے کپتان پیٹ کمنز نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے کہ آسٹریلیا کے بہترین کھلاڑی قومی ذمہ داریوں سے منہ موڑ کر فرنچائز کرکٹ کو ترجیح دیں گے۔ کمنز نے ایک حالیہ تقریب کے دوران واضح کیا کہ ان کی اولین ترجیح ہمیشہ آسٹریلوی کرکٹ، خاص طور پر ٹیسٹ کرکٹ رہی ہے اور رہے گی۔

ٹیسٹ کرکٹ کا تسلسل

پیٹ کمنز کا ماننا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ کھیل کی اصل روح ہے۔ انہوں نے کہا، “بطور ٹیسٹ کپتان، میں کبھی نہیں چاہتا کہ کوئی ٹیسٹ میچ مس کروں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ آسٹریلیا کے لیے زیادہ سے زیادہ دستیاب رہوں۔” ان کے مطابق آئی پی ایل ایک اچھا پلیٹ فارم ضرور ہے جو عام طور پر چھٹیوں کے دوران آتا ہے، لیکن ان کا بنیادی مرکز ہمیشہ قومی ٹیم ہی رہے گی۔

انجری سے بحالی اور مستقبل کے چیلنجز

کمنز نے پچھلے دو سالوں میں وائٹ بال کرکٹ میں کم شرکت کی ہے، جس کی بڑی وجہ جسمانی فٹنس کو ٹیسٹ کرکٹ کے لیے محفوظ رکھنا تھا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ کمر کی انجری کے بعد ان کا بحالی کا عمل کافی محتاط رہا تاکہ وہ اگلے 18 مہینوں میں شیڈول 20 ٹیسٹ میچوں کے لیے خود کو مکمل طور پر تیار رکھ سکیں۔ “میں نے بہت محتاط رویہ اپنایا تاکہ کمر کی انجری دوبارہ نہ ہو، کیونکہ میں ان 20 اہم ٹیسٹ میچوں کو کسی صورت گنوانا نہیں چاہتا تھا،” کمنز نے وضاحت کی۔

آئی پی ایل اور ٹیسٹ شیڈول کا توازن

آنے والے وقت میں کمنز، کرکٹ آسٹریلیا اور سن رائزرز حیدرآباد کے درمیان 2027 کے آئی پی ایل سیزن کے حوالے سے اہم بات چیت متوقع ہے۔ آسٹریلیا کا اگلا شیڈول انتہائی مصروف ہے جس میں بھارت کے خلاف پانچ ٹیسٹ، ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل اور انگلینڈ میں ایشز سیریز شامل ہیں۔ ماضی میں کمنز نے اس طرح کی مصروفیت کے دوران آئی پی ایل سے دوری اختیار کی تھی، جو ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے میں کتنے سنجیدہ ہیں۔

بی بی ایل اور کرکٹ کا مستقبل

جب ان سے بگ بیش لیگ (BBL) کی نجکاری اور کھلاڑیوں کے معاوضے کے تنازع کے بارے میں پوچھا گیا تو کمنز نے انتظامی امور پر بات کرنے سے گریز کیا تاہم یہ ضرور کہا کہ کھلاڑی ہمیشہ یہی چاہتے ہیں کہ ڈومیسٹک مقابلوں میں مزید بہتری آئے، شائقین کی تعداد بڑھے اور نوجوان کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے مواقع ملیں۔

مستقبل کے عزائم

پیٹ کمنز کا یہ بیان ان تمام شکوک و شبہات کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے جو حالیہ دنوں میں آسٹریلوی کھلاڑیوں کی فرنچائز لیگز کے ساتھ وابستگی پر اٹھ رہے تھے۔ کمنز کا یہ پیشہ ورانہ رویہ نہ صرف ان کی اپنی ٹیم کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ عالمی کرکٹ کے لیے بھی ایک بہترین مثال ہے کہ کس طرح ایک کھلاڑی اپنے ملک کے لیے مخلص رہ سکتا ہے۔ کمنز کے حالیہ بیانات سے یہ واضح ہے کہ آنے والے کئی برسوں تک آسٹریلوی کرکٹ کے مداح انہیں ٹیسٹ کرکٹ کی قیادت کرتے ہوئے دیکھیں گے، اور ان کی اولین ترجیح بدستور ملک کا وقار بلند کرنا رہے گی۔