Netherlands opt to bowl under cloud, Gardner back, Hamilton in – نیدرلینڈز کا ٹاس جیت کر باؤلنگ کا فیصلہ
ٹاس کی تفصیلات اور نیدرلینڈز کا بڑا فیصلہ
ساؤتھمپٹن میں کھیلے جا رہے اس میچ میں نیدرلینڈز کی کپتان بابette ڈی لیڈے نے ٹاس جیتا اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پہلے باؤلنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ابر آلود موسم اور صبح کے جلد آغاز کو مدنظر رکھتے ہوئے نیدرلینڈز نے پچ پر موجود نمی اور ہوا میں سوئنگ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔ نیدرلینڈز کی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور وہ اسی پلیئنگ الیون کے ساتھ میدان میں اتری ہے جو بھارت کے خلاف لیڈز میں کھیلی تھی۔ کپتان کا ماننا ہے کہ ابتدائی اوورز میں وکٹیں حاصل کر کے آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم پر دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔
آسٹریلوی الیون میں اہم تبدیلیاں اور کھلاڑیوں کی واپسی
آسٹریلیا کی ٹیم میں اس میچ کے لیے کچھ اہم تبدیلیاں دیکھنے کو ملی ہیں۔ سب سے بڑی خبر آل راؤنڈر ایشلے گارڈنر کی واپسی ہے جو ٹخنوں کی معمولی چوٹ (ankle sprain) کے باعث بنگلہ دیش کے خلاف گزشتہ میچ میں شرکت نہیں کر سکی تھیں۔ گارڈنر کی واپسی سے آسٹریلیا کا مڈل آرڈر مزید مضبوط ہو گیا ہے، اور وہ گریس ہیرس کی جگہ ٹیم میں شامل ہوئی ہیں۔
اس کے علاوہ، آسٹریلوی سلیکٹرز نے فاسٹ باؤلر میگن شٹ کو آرام دینے کا فیصلہ کیا ہے، جن کی جگہ 19 سالہ نوجوان لیفٹ آرم سیمر لوسی ہیملٹن کو شامل کیا گیا ہے۔ لوسی ہیملٹن کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہے کیونکہ وہ اپنے کیریئر کا پہلا ٹی 20 ورلڈ کپ میچ کھیل رہی ہیں، اور یہ ان کا مجموعی طور پر صرف دوسرا ٹی 20 انٹرنیشنل میچ ہے۔ دوسری جانب، اوپنر فیبی لِچ فیلڈ اب بھی اپنی کواڈ انجری کی وجہ سے ٹیم سلیکشن کے لیے دستیاب نہیں ہیں، جس کی وجہ سے آسٹریلوی بیٹنگ لائن اپ میں کچھ تبدیلیاں برقرار ہیں۔
تاریخی سنگ میل اور ریکارڈز
یہ میچ دونوں ٹیموں کے کئی کھلاڑیوں کے لیے تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ آسٹریلیا کی مایہ ناز آل راؤنڈر ایلیس پیری نے ایک نیا ریکارڈ اپنے نام کر لیا ہے۔ وہ 50 ٹی 20 ورلڈ کپ میچز کھیلنے والی دنیا کی پہلی کرکٹر بن گئی ہیں۔ ان کا یہ طویل اور شاندار سفر خواتین کرکٹ میں ان کی مستقل مزاجی اور مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
دوسری طرف، نیدرلینڈز کی ٹیم کے لیے بھی یہ میچ جشن کا باعث ہے۔ کپتان بابette ڈی لیڈے اور تجربہ کار کھلاڑی روبین ریکس دونوں ہی اپنے کیریئر کا 100 واں ٹی 20 انٹرنیشنل میچ کھیل رہی ہیں۔ نیدرلینڈز کرکٹ کے لیے ان دونوں کھلاڑیوں کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، اور اس سنگ میل کو عبور کرنا ان کے کیریئر کی ایک بڑی کامیابی ہے۔
دونوں ٹیموں کی حالیہ کارکردگی کا جائزہ
اگر دونوں ٹیموں کی حالیہ کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو آسٹریلیا کی ٹیم انتہائی مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ کینگروز نے اپنے گزشتہ دو میچوں میں جنوبی افریقہ اور بنگلہ دیش کے خلاف یکطرفہ فتوحات حاصل کی ہیں۔ بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گئے آخری میچ میں آسٹریلوی باؤلرز نے حریف ٹیم کو مقررہ 20 اوورز میں صرف 77 رنز پر محدود کر دیا تھا، اور پھر یہ ہدف محض 9.3 اوورز میں حاصل کر کے نیٹ رن ریٹ کو مزید بہتر کر لیا۔
اس کے برعکس، نیدرلینڈز کی ٹیم کو اپنے ابتدائی دونوں میچوں میں بنگلہ دیش اور بھارت کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ نیدرلینڈز کے لیے آسٹریلیا جیسی عالمی چیمپئن ٹیم کا مقابلہ کرنا ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا، لیکن کھیل کے اس فارمیٹ میں کسی بھی ٹیم کو آسان نہیں لیا جا سکتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹی 20 انٹرنیشنل کرکٹ کی تاریخ میں یہ دونوں ٹیمیں پہلی بار ایک دوسرے کے خلاف میدان میں اتر رہی ہیں۔ اس سے قبل 1988 اور 2000 کے درمیان ان کے درمیان 5 ون ڈے میچز کھیلے گئے تھے، جن میں آسٹریلیا کا پلہ بھاری رہا تھا۔
دونوں ٹیموں کی فائنل پلیئنگ الیون
اس میچ کے لیے دونوں ٹیموں کی پلیئنگ الیون درج ذیل ہے:
آسٹریلیا کی پلیئنگ الیون:
- بیتھ مونی (وکٹ کیپر)
- جارجیا وول
- ایلیس پیری
- ایشلے گارڈنر
- جارجیا ویرہیم
- نکولا کیری
- اینابیل سدرلینڈ
- سوفی مولینیو (کپتان)
- کم گارتھ
- الانا کنگ
- لوسی ہیملٹن
نیدرلینڈز کی پلیئنگ الیون:
- ہیدر سیجرز
- فبی مولکنبوئر
- بابette ڈی لیڈے (کپتان، وکٹ کیپر)
- سٹیرے کالس
- روبین ریکس
- فریڈرک اوورڈیک
- آئرس زولنگ
- میرتھے وین ڈین راڈ
- کیرولین ڈی لانگے
- سلور سیجرز
- ازابیل وین ڈیر ووننگ
مجموعی طور پر، یہ میچ دونوں ٹیموں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ نیدرلینڈز کی ٹیم جہاں اپنی پہلی جیت کی تلاش میں ہے، وہیں آسٹریلیا کی ٹیم اپنی جیت کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے سیمی فائنل کی راہ ہموار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ساؤتھمپٹن کے ابر آلود حالات باؤلرز کے لیے سازگار ہو سکتے ہیں، جس سے میچ مزید سنسنی خیز ہونے کی امید ہے۔
