In Press, On Field, Always Cricket
Cricket News

کیا ناہید رانا آئی پی ایل کی طرف جائیں گے؟ تمیم اقبال کا اہم بیان

Rahul Sharma · · 1 min read

فرنچائز کرکٹ بمقابلہ قومی ذمہ داری: ایک نئی بحث

موجودہ دور میں کرکٹ کی دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ آئی پی ایل، پی ایس ایل اور بگ بیش جیسی لیگز کی مقبولیت نے کھلاڑیوں کے سامنے ایک نیا انتخاب رکھ دیا ہے: کیا وہ مالی طور پر منافع بخش فرنچائز کرکٹ کو ترجیح دیں یا ملک کی نمائندگی کرتے رہیں؟ حال ہی میں بنگلہ دیش کے سابق کپتان اور بی سی بی کے عبوری صدر تمیم اقبال نے اس معاملے پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے، خاص طور پر نوجوان فاسٹ بولر ناہید رانا کے تناظر میں۔

تمیم اقبال کا واضح موقف

ایک حالیہ انٹرویو میں تمیم اقبال سے پوچھا گیا کہ کیا ناہید رانا جیسے ابھرتے ہوئے ستارے مالی فائدے کی خاطر بین الاقوامی کرکٹ سے کنارہ کشی اختیار کر سکتے ہیں؟ تمیم اقبال نے اس حوالے سے نہایت متوازن اور جذباتی نقطہ نظر پیش کیا۔ ان کا ماننا ہے کہ فرنچائز کرکٹ اپنی جگہ اہم ہے اور کھلاڑیوں کو مالی استحکام فراہم کرتی ہے، لیکن قومی ٹیم کے لیے کھیلنے کا جذبہ کسی بھی رقم سے خریدا نہیں جا سکتا۔

تمیم نے کہا، ‘ایسی چیزیں ہیں جو پیسہ نہیں خرید سکتا، اور وہ ملک کے لیے کھیلنے کا جذبہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو 80 فیصد کھلاڑی فرنچائز کرکٹ کی طرف چلے جاتے۔ مجھے فرنچائز کرکٹ کا احترام ہے، لیکن جب آپ اپنے ملک کے لیے کھیلتے ہیں، تو وہ احساس بالکل الگ ہوتا ہے۔’ انہوں نے فٹ بال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کروڑوں ڈالر کمانے کے باوجود کھلاڑی اپنے ملک کے لیے کھیلنے کے موقع کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

ناہید رانا: ایک ابھرتا ہوا فاسٹ بولنگ اسٹار

ناہید رانا کا نام حال ہی میں اس وقت سرخیوں میں آیا جب انہوں نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں اپنی طوفانی رفتار سے بلے بازوں کو پریشان کیا۔ بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف 2-0 سے تاریخی فتح میں ناہید رانا کا کردار کلیدی رہا۔ انہوں نے سیریز کی چار اننگز میں مجموعی طور پر 11 وکٹیں حاصل کیں، جس میں پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں 40 رنز کے عوض 5 وکٹیں حاصل کرنا ان کے کیریئر کا اہم سنگ میل ثابت ہوا۔

ان کی کارکردگی کا موازنہ اکثر پی ایس ایل کے دوران ان کے تجربے سے کیا جاتا ہے۔ ناہید رانا بابر اعظم کی قیادت میں پشاور زلمی کی جانب سے کھیل چکے ہیں، جہاں انہوں نے 5 اننگز میں 9 وکٹیں لے کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا تھا۔ یہ دلچسپ امر ہے کہ جس بابر اعظم کے ساتھ ناہید نے ڈریسنگ روم شیئر کیا، بعد میں وہی ان کی تیز رفتار گیندوں کے خلاف جدوجہد کرتے نظر آئے۔

مستقبل کی جانب ایک نظر

تمیم اقبال کا ماننا ہے کہ اگرچہ کچھ کھلاڑی فرنچائز کرکٹ کی طرف مائل ہو سکتے ہیں، لیکن اکثریت اب بھی بین الاقوامی کرکٹ کو ہی اولین ترجیح دے گی۔ ناہید رانا جیسے کھلاڑیوں کے لیے یہ ایک بڑا امتحان ہے کہ وہ کس طرح اپنے کیریئر کو آگے بڑھاتے ہیں۔ فرنچائز لیگز کا دباؤ اور اس میں ملنے والی بھاری رقوم نوجوان کھلاڑیوں کے لیے کشش کا باعث ضرور ہیں، مگر ناہید رانا کی حالیہ کامیابیوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں ملنے والی عزت اور شہرت کا کوئی نعم البدل نہیں۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کرکٹ کی دنیا میں کھلاڑیوں کا انتخاب اب صرف مہارت تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک کیریئر مینجمنٹ کا عمل بن چکا ہے۔ ناہید رانا جیسے نوجوان بولرز کو اب اپنے مستقبل کے فیصلوں میں جذبات اور حقیقت پسندی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا تاکہ وہ طویل عرصے تک کرکٹ کے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے رہیں۔