ایم ایس دھونی روتوراج گائیکواڈ کی بجائے جڈیجا کو سی ایس کے کا کپتان بنانا چاہتے تھے؟ چونکا دینے والا دعویٰ سامنے آیا
چنئی سپر کنگز (سی ایس کے) کی کپتانی کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے، جہاں ایک سابق سی ایس کے بلے باز اور ایم ایس دھونی کے ساتھی کھلاڑی نے ایک حیران کن دعویٰ کیا ہے جس نے کرکٹ حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایم ایس دھونی نے روتوراج گائیکواڈ کو اپنا جانشین منتخب نہیں کیا ہوگا اور اگر انہیں انتخاب کا موقع ملتا تو وہ رویندر جڈیجا کو یہ کردار سونپتے۔ یہ دعویٰ اس وقت سامنے آیا ہے جب سی ایس کے آئی پی ایل 2026 کے پوائنٹس ٹیبل میں ساتویں نمبر پر ہے اور پلے آف میں جگہ بنانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔
کپتانی کے فیصلے پر سوال
سابق کھلاڑی سبرامنیم بدری ناتھ نے اس بات پر سوال اٹھایا ہے کہ آیا دھونی نے واقعی روتوراج گائیکواڈ کو سی ایس کے کا کپتان بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ بدری ناتھ کے مطابق، اگر دھونی کو انتخاب کا موقع ملتا تو وہ رویندر جڈیجا کو اس کردار کے لیے منتخب کرتے۔ یہ بیان سی ایس کے کی موجودہ صورتحال اور ٹیم کے اندرونی ڈھانچے پر کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ دھونی کی کپتانی سے دستبرداری کے بعد روتوراج گائیکواڈ کو ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا تھا، لیکن اس فیصلے کی صداقت پر اب سابق کھلاڑی کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے۔
ایم ایس دھونی کی غیر موجودگی اور اس کے اثرات
سی ایس کے کے سیزن میں ایم ایس دھونی کی غیر موجودگی ایک مسلسل بحث کا موضوع رہی ہے۔ اگرچہ وہ راجیو گاندھی انٹرنیشنل اسٹیڈیم میں ٹیم کے ساتھ موجود تھے، لیکن وہ کسی بھی میچ میں نہیں کھیلے۔ ان کی غیر موجودگی کی وجوہات مداحوں کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہیں۔ سیزن کے آغاز میں انہیں پنڈلی کی چوٹ کی وجہ سے باہر کیا گیا تھا، اور بعد میں سیزن کے وسط میں انگوٹھے کی چوٹ کی وجہ سے بھی وہ کھیل سے دور رہے۔ تاہم، ان کی دستیابی کے باوجود، وہ یلو آرمی کی پلیئنگ الیون کا حصہ نہیں بن سکے۔
اس صورتحال پر بھی بدری ناتھ نے شدید تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہر میچ سے پہلے یہ سوالات مسلسل اٹھتے رہے ہیں کہ آیا وہ کھیلیں گے یا نہیں۔ دھونی کی پوری صورتحال کو اچھے طریقے سے سنبھالا نہیں گیا ہے۔ کسی کو اس کی وجہ نہیں معلوم۔ کیا یہ صرف میچ میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے ہے، یا یہ ایک کاروباری فیصلہ ہے؟ کیا یہ بھی اس عمل کا حصہ ہے؟” ان کے مطابق، دھونی کی موجودگی اور غیر موجودگی کا یہ پراسرار کھیل ٹیم کی مجموعی کارکردگی اور مداحوں کی توقعات پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔
انتظامیہ کی ذمہ داری اور دھونی کا کردار
بدری ناتھ نے واضح کیا کہ کپتانی کا فیصلہ ایم ایس دھونی کا نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ دھونی صرف مشورہ دے سکتے تھے، لیکن حتمی فیصلہ انتظامیہ کا ہی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا، “کسی کو نہیں معلوم کہ آیا یہ سچ ہے کہ ایم ایس دھونی روتوراج گائیکواڈ کو کپتان بنانا چاہتے تھے۔ یہ فیصلہ کسی بھی صورت میں دھونی کی طرف سے نہیں آ سکتا تھا۔ یہ انتظامیہ کا فیصلہ ہونا تھا۔ دھونی صرف مشورہ دے سکتے تھے۔” اس طرح، بدری ناتھ نے سی ایس کے کی انتظامیہ کو اس فیصلے کی مکمل ذمہ داری قبول کرنے کا مشورہ دیا۔
انہوں نے مزید کہا، “لہذا انتظامیہ کو ہی اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ دھونی کو جاننے والا کوئی بھی شخص یہ کہے گا کہ اگر ان کا اس میں کوئی کردار ہوتا تو وہ صرف رویندر جڈیجا کو ہی اگلے کپتان کے طور پر تجویز کرتے۔” یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سابق کھلاڑیوں اور ماہرین کے درمیان یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ رویندر جڈیجا، جن کے پاس پہلے بھی کپتانی کا تجربہ رہا ہے، دھونی کے قدرتی جانشین ہوتے۔ جڈیجا نے ماضی میں بھی سی ایس کے کی قیادت کی ہے، حالانکہ وہ تجربہ زیادہ کامیاب نہیں رہا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ ٹیم کے ایک اہم رکن اور دھونی کے قریبی ساتھی ہیں۔
سی ایس کے کی ناقص حکمت عملی اور کھلاڑیوں کی خریداری
سبرامنیم بدری ناتھ نے صرف کپتانی کے فیصلے پر ہی نہیں بلکہ سی ایس کے کی کھلاڑیوں کی خریداری کی حکمت عملی پر بھی گہری مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے چند سیزن میں، بشمول میگا-آکشن اور منی-آکشن، ٹیم کے فیصلے بہت ناقص رہے ہیں۔ بدری ناتھ نے کھلاڑیوں کی خریداری کو “مایوس کن” قرار دیا۔
- پلیئر سائننگز پر تنقید: بدری ناتھ کے مطابق، سی ایس کے نے ایسے کھلاڑیوں پر انحصار کیا ہے جو محض متبادل کے طور پر ٹیم میں آئے اور اتفاق سے کامیاب رہے۔ “بریویس، مہاترے اور ارویل پٹیل جیسے کھلاڑی بھی متبادل کھلاڑی تھے۔ سی ایس کے کو ان کے ساتھ محض قسمت سے کامیابی ملی۔ ایسا نہیں تھا کہ انہوں نے ان کو حاصل کرنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی یا عمل کیا ہو۔” یہ بیان اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ ٹیم نے اپنی کامیابیوں کے پیچھے کوئی گہری حکمت عملی نہیں رکھی، بلکہ یہ محض اتفاقی کامیابیاں تھیں۔
- تجارتی فیصلوں کی ناکامی: بدری ناتھ نے مزید کہا کہ ٹیم کے اہم تجارتی فیصلے بھی کامیاب نہیں رہے۔ “یہاں تک کہ سنجو سیمسن جیسی ایک اچھی خریداری بھی تجارت کے ذریعے ہوئی، جہاں انہیں جڈیجا اور سیم کرن کو چھوڑنا پڑا تھا۔ تو انہوں نے کوئی ایسا فیصلہ نہیں کیا جو اکیلے کام آیا ہو۔” یہ بیان سی ایس کے کی انتظامیہ کی فیصلہ سازی کی صلاحیت پر سوال اٹھاتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ ٹیم کو اچھے کھلاڑی حاصل کرنے کے لیے بھاری قیمت ادا کرنی پڑی یا ان کی اپنی حکمت عملی میں خامیاں تھیں۔
مستقبل کے لیے سوالات
سی ایس کے کی موجودہ صورتحال، ایم ایس دھونی کی غیر یقینی پوزیشن، اور سابق کھلاڑیوں کی جانب سے انتظامیہ پر تنقید ٹیم کے مستقبل کے لیے کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔ کیا روتوراج گائیکواڈ واقعی دھونی کے جانشین ہیں، یا یہ صرف انتظامیہ کا فیصلہ تھا؟ کیا سی ایس کے اپنی ناقص خریداری کی حکمت عملی کو بہتر کر سکے گی؟ اور سب سے اہم بات، کیا ٹیم پلے آف میں جگہ بنا کر اپنی عزت بچا پائے گی؟
اس سیزن میں سی ایس کے کی کارکردگی کچھ خاص نہیں رہی ہے، اور ان کے پاس اب صرف ایک میچ باقی ہے تاکہ وہ پلے آف میں اپنی جگہ یقینی بنا سکیں۔ تاہم، دھونی کی صحت اور میدان میں ان کی عدم موجودگی ٹیم کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوئی ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں سی ایس کے کی انتظامیہ ان تمام سوالات کا جواب کیسے دیتی ہے اور ٹیم کو کس سمت لے جاتی ہے۔ کرکٹ کے مداح اور تجزیہ کار سبھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ چنئی سپر کنگز جیسی ایک کامیاب فرنچائز کے لیے اس طرح کے اندرونی مسائل کا سامنا کرنا غیر معمولی بات ہے۔
