لٹن داس کا انکشاف: کولکاتا نائٹ رائیڈرز کے ساتھ تلخ تجربات کی کہانی
لٹن داس اور کولکاتا نائٹ رائیڈرز: ایک تلخ تجربہ
بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز وکٹ کیپر بلے باز لٹن داس نے آئی پی ایل 2023 کے دوران اپنے مختصر اور مایوس کن دور کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں۔ ایک مشہور پوڈ کاسٹ ‘چار چوکا’ میں گفتگو کرتے ہوئے لٹن داس نے اپنی سابقہ فرنچائز کولکاتا نائٹ رائیڈرز (KKR) کے انتظام پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
مواصلات کا فقدان اور ٹیم کا رویہ
لٹن داس کا کہنا ہے کہ کے کے آر میں ان کے ساتھ برتاؤ توقعات کے برعکس تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فرنچائز نے انہیں وہ حمایت فراہم نہیں کی جس کی ایک غیر ملکی کھلاڑی کو ضرورت ہوتی ہے۔ لٹن کے مطابق، سب سے بڑا مسئلہ ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے مواصلات کا فقدان تھا۔ انہوں نے بتایا کہ کھلاڑی کو عام طور پر کافی پہلے آگاہ کیا جاتا ہے کہ وہ پلیئنگ الیون کا حصہ ہے یا نہیں، لیکن یہاں صورتحال مختلف تھی۔
لٹن نے اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ‘مجھے میچ سے ایک رات قبل رات 11 بجے بتایا گیا کہ میں اگلے دن کی پلیئنگ الیون میں شامل ہوں۔ اس طرح کے غیر متوقع فیصلوں سے کھلاڑی کی کارکردگی پر براہِ راست اثر پڑتا ہے۔’
پاکستان کے خلاف شاندار فارم
آئی پی ایل کے تلخ تجربات کو پیچھے چھوڑتے ہوئے، لٹن داس فی الحال اپنے ملک کے لیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پاکستان کے خلاف سلہٹ میں جاری دوسرے ٹیسٹ میچ میں لٹن نے اپنی بلے بازی کے جوہر دکھائے ہیں۔ انہوں نے پہلی اننگز میں 159 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 126 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، جس کی بدولت بنگلہ دیشی ٹیم 278 رنز تک پہنچنے میں کامیاب رہی۔
دوسری اننگز میں بھی لٹن داس نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور 92 گیندوں پر 69 رنز بنائے، جس میں پانچ چوکے شامل تھے۔ ان کی یہ کوشش بنگلہ دیش کو میچ میں مضبوط پوزیشن دلانے میں اہم ثابت ہوئی ہے۔
آئی پی ایل میں بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی تاریخ
آئی پی ایل کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کا سفر کافی اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے۔ 2008 میں بائیں ہاتھ کے اسپنر عبدالرزاق رائل چیلنجرز بنگلور کا حصہ بننے والے پہلے بنگلہ دیشی کھلاڑی تھے۔ اس کے بعد مشرفی مرتضیٰ کے کے آر کا حصہ بنے، جنہیں روہت شرما کے ہاتھوں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
تاہم، شکیب الحسن اور مستفیض الرحمٰن وہ دو نام ہیں جنہوں نے آئی پی ایل میں بنگلہ دیش کا نام روشن کیا۔ شکیب نے کولکاتا نائٹ رائیڈرز اور مستفیض نے سن رائزرز حیدرآباد کے ساتھ اپنی ٹیموں کو ٹائٹل جتوانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس فہرست میں محمد اشرفل اور تمیم اقبال کے نام بھی شامل ہیں جنہوں نے بالترتیب ممبئی انڈینز اور پونے واریئرز کی نمائندگی کی۔
نتیجہ
لٹن داس کا یہ بیان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی لیگز میں کھلاڑیوں کے لیے مواصلات اور ٹیم کا ماحول کتنی اہمیت رکھتا ہے۔ جہاں لٹن آئی پی ایل کے اس تجربے کو بھول کر اپنی قومی ٹیم کے ساتھ نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں، وہیں یہ معاملہ فرنچائز کرکٹ کے نظم و ضبط پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی ہے۔
