IPL Chair Issues ‘Football’ Culture As Biggest Threat To Cricket’s Future: ارون دھومل کا انتباہ
کرکٹ کا بدلتا ہوا منظرنامہ اور فٹ بال کلچر کا اثر
آئی پی ایل (IPL) کے چیئرمین ارون دھومل نے کرکٹ کی موجودہ سمت اور اس کے مستقبل کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور فکر انگیز انتباہ جاری کیا ہے۔ ریو سپورٹس گلوبل (RevSportz Global) کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ اگر دنیا بھر میں فرنچائز ٹی 20 لیگز کا دائرہ کار بغیر کسی منصوبہ بندی کے اسی طرح بڑھتا رہا، تو کرکٹ کا کھیل بہت جلد فٹ بال کی طرح مکمل طور پر کلب کلچر میں تبدیل ہو جائے گا۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو دوطرفہ بین الاقوامی کرکٹ، خاص طور پر ٹیسٹ میچز، اپنی اہمیت اور افادیت کھو بیٹھیں گے۔ اگرچہ وہ اب بھی طویل ترین فارمیٹ کے لیے شائقین کے دلوں میں بے پناہ محبت دیکھتے ہیں، لیکن ان کا اصرار ہے کہ کرکٹ کے بڑے اسٹیک ہولڈرز کو بدلتی ہوئی حقیقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا اور وقت گزرنے سے پہلے اس کا حل تلاش کرنا ہوگا۔
فرنچائز کرکٹ کا بڑھتا ہوا اثر اور فٹ بال کا ماڈل
کرکٹ اس وقت بالکل اسی راستے پر گامزن دکھائی دے رہی ہے جس پر فٹ بال دہائیوں پہلے چل پڑا تھا۔ فٹ بال کی دنیا میں، انگلش پریمیئر لیگ (EPL)، لا لیگا (La Liga)، اور یوئیفا چیمپئنز لیگ (UEFA Champions League) جیسے کلب ٹورنامنٹس اربوں ڈالرز کا ریونیو پیدا کرتے ہیں۔ یہ کلبز کھلاڑیوں کو اتنے بھاری معاوضے دیتے ہیں کہ ورلڈ کپ اور یورپی چیمپئن شپ کے علاوہ دیگر تمام بین الاقوامی میچز ان کے سامنے چھوٹے نظر آتے ہیں۔ مانچسٹر سٹی یا ریال میڈرڈ جیسے بڑے کلبوں کے اسٹار کھلاڑی سال کا بیشتر حصہ اپنے کلبوں کے ساتھ گزارتے ہیں اور وہ اپنے ملک کی نمائندگی کے بجائے کلب کے لیے کھیلنے اور وہاں کے معاہدوں کو ترجیح دیتے ہیں۔
اب کرکٹ بھی اسی ڈگر پر چل نکلی ہے۔ انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کھلاڑیوں کو محض دو ماہ کے کام کے لیے زندگی بدل دینے والے کروڑوں ڈالرز کے معاوضے فراہم کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اب دنیا بھر میں نئی لیگز جیسے کہ SA20، میجر لیگ کرکٹ (MLC)، دی ہنڈریڈ (The Hundred)، اور ILT20 نے سال بھر کا ایک ایسا فرنچائز سرکٹ بنا دیا ہے جہاں کھلاڑیوں کے پاس کھیلنے کے مواقع ہی مواقع ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ چھوٹے ممالک کے کھلاڑی بہت کم عمری میں ہی بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے کر ٹی 20 فری لانسرز بن رہے ہیں۔ شائقین کی توجہ بھی اب دوطرفہ سیریز کے بجائے ان ہائی وولٹیج اور تفریح سے بھرپور فرنچائز ٹورنامنٹس کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔
ارون دھومل کا انتباہ اور مستقبل کی تیاری
ریو سپورٹس گلوبل کے بیورو چیف بوریا مجمدار سے گفتگو کرتے ہوئے ارون دھومل نے بہت کھل کر بات کی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ کرکٹ انتظامیہ کو آنے والے سالوں میں اس حقیقت کو اپنانا ہوگا، اور شاید یہ وقت بہت جلد آنے والا ہے۔ دھومل کا کہنا تھا، “میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے لوگوں کے دلوں میں بہت محبت ہے۔ پچھلے سال انگلینڈ میں ہونے والی بھارت اور انگلینڈ کی ٹیسٹ سیریز نے شائقین کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا اور لوگ یہ دیکھنے کے لیے بے تاب تھے کہ سیریز کا انجام کیا ہوگا۔ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے اب بھی بہت گنجائش موجود ہے، ہمیں صرف یہ سوچنا ہے کہ ہم اس کا بہترین استعمال کیسے کر سکتے ہیں۔” لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس مالیاتی طاقت کا بھی ذکر کیا جو اس بڑی تبدیلی کے پیچھے کارفرما ہے۔
مالیاتی محرکات اور نشریاتی اداروں کا کردار
دھومل نے وضاحت کی کہ کھیل کو چلانے میں پیسے کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا، “براڈکاسٹرز (نشریاتی ادارے) اس کھیل کے سب سے اہم اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ ان کے پاس بی سی سی آئی (BCCI) اور آئی پی ایل (IPL) دونوں کے میڈیا حقوق ہیں، اور ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا کا ہر کرکٹ بورڈ بھارت کے خلاف سیریز کھیلنا چاہتا ہے کیونکہ اس سے انہیں اپنے کھیل کو مالی طور پر مستحکم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ پیسہ بہت اہم ہے۔”
انہوں نے کووڈ-19 کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس مشکل وقت میں بھی بھارت نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں تاکہ کرکٹ عالمی سطح پر زندہ رہ سکے۔ تاہم، ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے دوطرفہ کرکٹ کھیلنے کی بھی ایک حد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب بگ بیش، دی ہنڈریڈ اور ایس اے 20 جیسی لیگز کا عروج دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہاں تک کہ کئی ایسی ایسوسی ایٹ قومیں جنہیں ابھی ون ڈے کا درجہ بھی حاصل نہیں ہے، وہ بھی اپنی لیگز شروع کر رہی ہیں۔ دھومل کے مطابق، “اگر کرکٹ فٹ بال کے راستے پر چلتی ہے، تو ہمیں اس حقیقت کے لیے تیار رہنا ہوگا، کیونکہ آخر کار یہ شائقین اور براڈکاسٹرز ہی ہیں جو اس کھیل کو فنڈز فراہم کرتے ہیں۔”
ٹیسٹ کرکٹ کو سب سے بڑا خطرہ کیوں ہے؟
فٹ بال ماڈل میں، بڑے ٹورنامنٹس کے علاوہ بین الاقوامی میچز کھلاڑیوں اور شائقین دونوں کے لیے ثانوی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ ارون دھومل کو سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ دوطرفہ ٹیسٹ کرکٹ اس لہر کا سب سے پہلا اور بڑا شکار بن سکتی ہے۔ ایک ٹیسٹ سیریز کئی ہفتوں تک محیط ہوتی ہے، یہ جسمانی طور پر انتہائی تھکا دینے والی ہوتی ہے، اور ایشز (The Ashes) یا بھارت اور آسٹریلیا کے درمیان ہونے والی بارڈر گاوسکر ٹرافی جیسی ہائی پروفائل سیریز کے علاوہ دیگر ٹیسٹ میچز بہت کم آمدنی پیدا کرتے ہیں۔
دوسری طرف، فرنچائز لیگز کھلاڑیوں کو بہت کم وقت میں، کم جسمانی مشقت کے ساتھ زیادہ پیسہ کمانے کا موقع دیتی ہیں۔ اگر دنیا کے بہترین کھلاڑی اپنے ملک کے بجائے ان لیگز کے معاہدوں کو ترجیح دینے لگیں گے، تو مختلف کرکٹ بورڈز کے پاس ٹیسٹ میچز کی تعداد کم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچے گا۔ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کے فائنل جیسے ایونٹس تو شاید توجہ حاصل کر لیں، لیکن مجموعی طور پر ٹیسٹ کرکٹ کا کیلنڈر سکڑ جائے گا اور صرف چند امیر ترین ممالک ہی اس فارمیٹ کو برقرار رکھنے کے قابل رہ جائیں گے۔
کھیل کے مستقبل کا منظرنامہ
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ کرکٹ بالکل فٹ بال کی کاربن کاپی بن جائے گی، کیونکہ کرکٹ کے سب سے بڑے تماشے اب بھی بین الاقوامی ٹورنامنٹس ہی ہیں۔ آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ، ٹی 20 ورلڈ کپ، اور روایتی حریفوں کے درمیان ٹیسٹ سیریز اب بھی آئی پی ایل کے علاوہ کسی بھی دوسری فرنچائز لیگ سے زیادہ عالمی توجہ حاصل کرتی ہیں۔
لیکن طاقت کا توازن تیزی سے بدل رہا ہے۔ مستقبل کا ایک حقیقت پسندانہ منظرنامہ یہ ہو سکتا ہے جہاں فرنچائز ٹی 20 کرکٹ ریونیو اور کھلاڑیوں کے کام کے بوجھ پر حاوی ہو جائے گی، جبکہ بین الاقوامی کرکٹ بنیادی طور پر صرف آئی سی سی ایونٹس اور چند اشرافیہ ممالک کے درمیان ٹیسٹ سیریز تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ ارون دھومل کا یہ پیغام کسی تباہی کی پیش گوئی نہیں ہے بلکہ دنیائے کرکٹ کے ارباب اختیار کے لیے ایک جرات مندانہ پکار ہے کہ وہ آنے والے وقت کی حقیقتوں کا سامنا کرنے اور ان کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کریں۔
