In Press, On Field, Always Cricket
Cricket News

آئی سی سی کرکٹ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں پر غور: ایک ہی ٹیسٹ میں گلابی اور سرخ گیند، کوچز کی میدان میں موجودگی، اور ٹی ٹوئنٹی بریک

Rahul Sharma · · 1 min read

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کرکٹ کے کھیل میں کئی بڑے اور اہم تبدیلیوں پر غور کر رہی ہے جو نہ صرف ٹیسٹ بلکہ ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی فارمیٹس پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ چیئرمین جے شاہ کی قیادت میں آئی سی سی، کھیل کے حالات، بال کے رنگ، اور یہاں تک کہ ہیڈ کوچز کے کردار کے حوالے سے نئی تجاویز پر غور کر رہی ہے۔ ان میں سے سب سے اہم اور نمایاں تبدیلی ایک ہی ٹیسٹ میچ کے دوران سرخ گیند سے گلابی گیند کی طرف سوئچ کرنے کا امکان ہے۔

ایک ہی ٹیسٹ میں گلابی اور سرخ گیند کا استعمال: روایت میں جدت

ٹیسٹ کرکٹ کی ابتدا سے ہی سرخ گیند اس فارمیٹ کی پہچان رہی ہے۔ اس کی مخصوص خصوصیات، جیسے سیم اور سوئنگ کے لیے اس کا رویہ، نے ٹیسٹ کرکٹ کو اس کی منفرد شناخت دی ہے۔ اب آئی سی سی ایک ایسے اقدام پر غور کر رہی ہے جو اس روایت سے ہٹ کر ایک ہی ٹیسٹ میچ میں سرخ گیند کے ساتھ ساتھ گلابی گیند کو بھی استعمال کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ یہ بلاشبہ کرکٹ کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور انقلابی قدم ہوگا۔

آئی سی سی گلابی گیند کے استعمال پر اس لیے غور کر رہی ہے تاکہ ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچز کو مزید فروغ دیا جا سکے اور روشنی کے مسائل کی صورت میں کھیل کو جاری رکھا جا سکے۔ اگرچہ ڈے اینڈ نائٹ ٹیسٹ میچز میں گلابی گیند کا استعمال معمول بن چکا ہے، لیکن روایتی ڈے ٹیسٹ میچ میں سرخ گیند کے بجائے گلابی گیند کو متعارف کرانا ایک نیا تجربہ ہوگا۔

ایک کرک بز رپورٹ کے مطابق، موجودہ تجاویز کے تحت، ٹیموں کو سرخ گیند کے بجائے گلابی گیند استعمال کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے اگر دونوں فریق خراب موسم یا کم روشنی کی صورت میں کھیل کو مصنوعی روشنی میں جاری رکھنے پر متفق ہوں۔ یہ صورتحال اکثر برصغیر میں یا موسم کے غیر یقینی حالات والے ممالک میں پیش آتی ہے جہاں خراب روشنی کی وجہ سے کھیل میں خلل پڑتا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد کھیل کے دوران ہونے والی رکاوٹوں کو کم کرنا اور شائقین کو مکمل کھیل فراہم کرنا ہے۔

سرخ سے گلابی گیند کی تبدیلی کیسے ہو سکتی ہے؟

اس مجوزہ تبدیلی کے تمام پہلوؤں پر ابھی کام جاری ہے، اور یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ایک ٹیسٹ میچ کے دوران سرخ گیند سے گلابی گیند کی طرف منتقلی کو کس طرح منظم کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق، گیند کی تبدیلی کے لیے دونوں ٹیموں کی