بھارت کی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ مہم: گوتم گمبھیر کا اہم فیصلہ
بھارتی کرکٹ کا بدلتا رخ: گمبھیر کی نئی حکمت عملی
بھارتی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سے وائٹ بال کرکٹ میں تو کافی کامیابیاں سمیٹی ہیں، لیکن ریڈ بال یعنی ٹیسٹ کرکٹ کا میدان ان کے لیے مسلسل چیلنج ثابت ہو رہا ہے۔ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کے موجودہ سائیکل میں بھارتی ٹیم کی کارکردگی میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے، خاص طور پر ہوم کنڈیشنز میں شکستوں نے ٹیم کی فائنل تک رسائی کی راہ میں کانٹے بچھا دیے ہیں۔
ہوم گراؤنڈ پر ناکامی کی وجوہات
بھارتی ٹیم کو حالیہ عرصے میں جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر شرمناک شکستوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ سات ہوم ٹیسٹ میچوں میں سے بھارت کو پانچ میں شکست ہوئی ہے، جو کہ ایک تشویشناک صورتحال ہے۔ ٹیسٹ کرکٹ کے ماہرین کے مطابق، پچوں کا بہت زیادہ ٹرننگ ہونا اور پہلے دن سے ہی گیند کا گھومنا بھارتی بلے بازوں کے لیے ہی مصیبت کا باعث بن رہا ہے۔ مچل سینٹنر اور سائمن ہارمر جیسے گیند بازوں نے بھارتی اسپن کے جال کو انہی کی زمین پر بے نقاب کیا ہے۔
پچز کے انتخاب میں بڑی تبدیلی
ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، گوتم گمبھیر اور ان کی ٹیم انتظامیہ نے اب ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ ٹیم مینجمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ایسی پچز تیار کی جائیں گی جو پانچ دن تک چل سکیں اور جن میں سرخ مٹی (Red-soil) کے بجائے کالی مٹی (Black-soil) کا استعمال زیادہ ہو۔
سرخ مٹی والی پچیں جلدی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں جس سے اسپنرز کو پہلے دن سے ہی مدد ملنا شروع ہو جاتی ہے، جبکہ کالی مٹی میں پانی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے پچ زیادہ دیر تک مستحکم رہتی ہے۔ بی سی سی آئی کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ملاپور، ناگپور، چنئی، گوہاٹی، رانچی اور احمد آباد کے مقامات کا انتخاب اسی بنیاد پر کیا گیا ہے کہ وہاں ایسی پچیں تیار کی جا سکیں جو بلے بازوں کے لیے بھی سازگار ہوں اور براڈکاسٹرز کے لیے بھی میچ کا طویل دورانیہ فائدہ مند ہو۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی دوڑ اور بھارت
بھارت کے لیے اب ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کا فائنل کھیلنا کسی امتحان سے کم نہیں ہے۔ بنگلہ دیش کی پاکستان کے خلاف شاندار کارکردگی کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر بھارت کی پوزیشن مزید کمزور ہوئی ہے۔ اب بھارت کے پاس نو میچز باقی ہیں، جن میں سے پانچ ہوم گراؤنڈ پر کھیلے جائیں گے۔ آسٹریلیا کے خلاف ہونے والی بارڈر-گواسکر ٹرافی اب بھارت کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوگی۔
مستقبل کا لائحہ عمل
گوتم گمبھیر کا یہ فیصلہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ٹیم انتظامیہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہوم کنڈیشنز کا فائدہ اٹھانے کے بجائے، اب ایک متوازن حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے تاکہ بلے باز کریز پر وقت گزار سکیں اور ٹیم ایک بہتر اسکور بورڈ پوزیشن حاصل کر سکے۔ افغانستان کے خلاف ایک روزہ ٹیسٹ میچ اس نئی حکمت عملی کا پہلا امتحان ہوگا، جہاں شائقین یہ دیکھنا چاہیں گے کہ کیا یہ ‘کالی مٹی’ کا فارمولا بھارتی ٹیم کو دوبارہ اپنی کھوئی ہوئی ٹیسٹ شان واپس دلا سکتا ہے یا نہیں۔
ٹیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بیٹنگ تکنیک کو بہتر بنائے اور کنڈیشنز کے مطابق خود کو ڈھالے۔ کیا یہ تبدیلی بھارت کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل تک پہنچانے میں کامیاب ہوگی؟ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن ایک بات واضح ہے کہ گمبھیر اب کسی بھی قسم کی غفلت برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔
