“He doesn’t have the same juice” – Ambati Rayudu raises concerns over Arshdeep S | آئی پی ایل 2026 میں ارشدیپ سنگھ کی فارم پر سوالات
پنجاب کنگز کی فتح اور ارشدیپ سنگھ کی حالیہ جدوجہد
آئی پی ایل 2026 کا سیزن جہاں کئی کھلاڑیوں کے لیے نئی امیدیں لے کر آیا ہے، وہاں پنجاب کنگز کے اہم ترین فاسٹ بولر ارشدیپ سنگھ کے لیے یہ ایک مشکل ترین سفر ثابت ہو رہا ہے۔ لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے خلاف ٹیم کی شاندار فتح کے باوجود، ارشدیپ کی انفرادی کارکردگی اور بولنگ فارم پر کئی سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ سابق مایہ ناز بھارتی بلے باز اور چھ بار کے آئی پی ایل چیمپیئن امباتی رائیڈو نے ان کی موجودہ فٹنس اور کارکردگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رائیڈو کا ماننا ہے کہ بائیں ہاتھ کا یہ گیند باز اس وقت شدید ذہنی اور جسمانی تھکن کا شکار ہے، جس کا منفی اثر براہ راست ان کی بولنگ کی لینتھ اور مجموعی اثر پذیری پر پڑ رہا ہے۔
لکھنؤ سپر جائنٹس کے خلاف میچ کا احوال
لکھنؤ کے ایکانا کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پنجاب کنگز نے لکھنؤ سپر جائنٹس کو سات وکٹوں سے شکست دے کر اپنی مسلسل چھ میچوں کی شکست کا سلسلہ ختم کیا۔ 197 رنز کا ہدف پنجاب کنگز نے شریس अय्यर کی قیادت میں شاندار انداز میں دو اوورز قبل ہی حاصل کر لیا۔ تاہم، اس بڑی کامیابی کے باوجود، ارشدیپ سنگھ کے لیے یہ میچ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے تین اوورز کے اسپیل میں بغیر کوئی وکٹ حاصل کیے 52 رنز لٹائے، جس کے دوران ان کا اکانومی ریٹ 17.33 رہا۔ ان کی ناقص بولنگ اور رنز روکنے میں ناکامی کی وجہ سے کپتان نے انہیں ان کا کوٹہ مکمل کرنے کا موقع بھی نہیں دیا اور ان کا چوتھا اوور روک لیا گیا۔
امباتی رائیڈو کا تکنیکی تجزیہ اور مشورے
امباتی رائیڈو نے ارشدیپ سنگھ کی بولنگ کے تکنیکی پہلوؤں پر تفصیلی بات کرتے ہوئے کہا کہ بائیں ہاتھ کے اس بولر میں وہ روایتی تیزی اور دھار نظر نہیں آ رہی جو ماضی میں ان کی پہچان تھی۔ رائیڈو کا کہنا تھا کہ ارشدیپ کو اپنی بولنگ کی لینتھ کو ایڈجسٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے اور انہیں زیادہ سے زیادہ فلر گیندیں کرنی چاہئیں۔ رائیڈو نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کیونکہ ان کے پاس فی الحال ایک مؤثر باؤنسر پھینکنے کی صلاحیت ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جس کی بڑی وجہ ان کے جسم کا تھکا ہوا ہونا یا شاید ان کے پاس وہ پہلے جیسی طاقت اور توانائی موجود نہیں ہے۔ لیکن انہیں اس کی تلافی کرنی ہوگی۔ اگر وہ تلافی کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنی بولنگ کو فل لینتھ پر رکھنا ہوگا تاکہ بلے باز آسانی سے شاٹس نہ کھیل سکیں۔
پاور پلے اور ڈیتھ اوورز میں حکمت عملی کی خامیاں
امباتی رائیڈو نے ارشدیپ کی ٹیکٹیکل اپروچ پر بھی کڑی تنقید کی، خاص طور پر پاور پلے اور ڈیتھ اوورز میں ان کی حکمت عملی کو غیر مؤثر قرار دیا۔ انہوں نے ارشدیپ کو مشورہ دیا کہ وہ شارٹ پچ گیندیں کرنے سے گریز کریں اور اپنی توجہ یارکرز اور فلر ڈیلیوریز پر مرکوز کریں۔ رائیڈو کے مطابق، جب بھی ارشدیپ نے نئی گیند کے ساتھ فل لینتھ بولنگ کی ہے، وہ زیادہ رنز دینے سے محفوظ رہے ہیں، سوائے اس پہلی گیند کے جو کورز کی جانب باؤنڈری کے لیے کھیلی گئی۔ لیکن جیسے ہی وہ شارٹ آف لینتھ یا شارٹ بالز کا سہارا لیتے ہیں، بلے باز ان پر آسانی سے حاوی ہو جاتے ہیں۔ ڈیتھ اوورز میں یارکرز ہی ان کا اصل ہتھیار رہے ہیں اور انہیں اسی بنیادی تکنیک کی طرف واپس لوٹنا ہوگا۔
اعداد و شمار کی روشنی میں ارشدیپ کا مشکل ترین سیزن
اعداد و شمار کے لحاظ سے بھی یہ سیزن ارشدیپ سنگھ کے لیے انتہائی مایوس کن ثابت ہو رہا ہے۔ ان کی کارکردگی کے چند اہم پہلو درج ذیل ہیں: ارشدیپ اس سیزن میں اب تک 14 میچوں میں 541 رنز دے چکے ہیں، جو ٹورنامنٹ کے کسی بھی بولر کی طرف سے سب سے زیادہ رنز دینے کا ریکارڈ ہے۔ اگرچہ وہ 14 وکٹوں کے ساتھ اب بھی پنجاب کنگز کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند باز ہیں، لیکن ان کا اکانومی ریٹ 10.20 رہا ہے، جو کہ ایک فرنٹ لائن بولر کے لیے انتہائی مہنگا ہے۔ لکھنؤ کے خلاف میچ میں انہوں نے 4 وائڈ بالز پھینکیں، جس کے بعد اس سیزن میں ان کی کل وائڈز کی تعداد 28 ہو گئی ہے۔ وہ متیشا پتھیرانا کے ایک سیزن میں 32 وائڈز کے ریکارڈ کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں جو کہ تشویشناک ہے۔
مارک باؤچر کا دفاع: کیا مسلسل کھیل اور تھکن اصل وجہ ہے؟
دوسری طرف، جنوبی افریقہ کے سابق کرکٹر اور کوچ مارک باؤچر نے ارشدیپ سنگھ کا دفاع کیا ہے۔ باؤچر کا کہنا ہے کہ ارشدیپ کی اس خراب فارم کا تعلق ان کی مہارت یا ٹیلنٹ کی کمی سے نہیں ہے، بلکہ مسلسل کھیلنے کی وجہ سے پیدا ہونے والی تھکن اس کا اصل سبب ہے۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے فوراً بعد آئی پی ایل جیسے سخت ٹورنامنٹ میں حصہ لینے کی وجہ سے ان کے جسم پر بہت زیادہ کام کا بوجھ پڑا ہے۔ مارک باؤچر نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ صرف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد کی تھکن ہے اور پھر اس کے فوراً بعد انہیں آئی پی ایل کھیلنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس وقت ایسی کارکردگی کا ظاہر کر رہے ہیں۔ میرا نہیں خیال کہ اس کا تعلق ان کی مہارت یا ٹیلنٹ سے ہے۔ کسی نہ کسی مرحلے پر تھکن کھلاڑیوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور یہ ایک بالکل قدرتی عمل ہے۔
نتیجہ اور مستقبل کی حکمت عملی
خلاصہ یہ کہ ارشدیپ سنگھ اس وقت ایک مشکل عبوری دور سے گزر رہے ہیں۔ جہاں امباتی رائیڈو کے اٹھائے گئے تکنیکی سوالات اور لائن و لینتھ کی تبدیلیاں درست معلوم ہوتی ہیں، وہاں مارک باؤچر کی پیش کردہ تھکن اور ورک لوڈ کی دلیل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پنجاب کنگز اور ہندوستانی ٹیم کے لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ ارشدیپ کی فٹنس اور کارکردگی پر توجہ دی جائے تاکہ وہ مستقبل کے اہم بین الاقوامی مقابلوں میں دوبارہ اپنی بہترین فارم اور رفتار کے ساتھ ٹیم میں واپس آ سکیں۔
