In Press, On Field, Always Cricket
Latest Cricket News

آئی پی ایل 2026: امباتی رائیڈو کا لکھنؤ سپر جائنٹس کی جیت سے متعلق بڑا دعویٰ

Rahul Sharma · · 1 min read

لکھنؤ سپر جائنٹس کی ناکامی اور امباتی رائیڈو کا حیران کن دفاع

انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2026 کا سیزن لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم ثابت نہیں ہوا، جہاں ٹیم مسلسل تیسرے سال گروپ اسٹیج سے باہر ہو گئی۔ تاہم، اس مایوس کن کارکردگی کے باوجود سابق بھارتی کرکٹر امباتی رائیڈو نے ٹیم کی موجودہ فارم پر غیر معمولی اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ رائیڈو کا کہنا ہے کہ لکھنؤ کی ٹیم اس وقت جس طرح کی کرکٹ کھیل رہی ہے، اگر وہ پلے آف میں ہوتے تو یقیناً ٹرافی اٹھانے کے سب سے مضبوط امیدوار ہوتے۔

مسلسل تیسری بار گروپ اسٹیج سے اخراج

لکھنؤ سپر جائنٹس کی کہانی اس سیزن میں نشیب و فراز سے بھرپور رہی ہے۔ سیزن کا آغاز کافی امید افزا تھا جہاں انہوں نے اپنے پہلے تین میچوں میں سے دو میں کامیابی حاصل کی تھی۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ایل ایس جی اس بار ٹائٹل کی دوڑ میں شامل رہے گی، لیکن پھر ایک ایسا کریش آیا جس نے سب کو حیران کر دیا۔ ٹیم کو مسلسل 6 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس نے ان کے پلے آف کے تمام امکانات ختم کر دیے۔

آئی پی ایل 2026 میں لکھنؤ سپر جائنٹس پہلی ٹیم تھی جو باضابطہ طور پر ٹورنامنٹ سے باہر ہوئی۔ اب تک کھیلے گئے 12 میچوں میں سے انہیں صرف 4 میں کامیابی ملی ہے اور وہ پوائنٹس ٹیبل پر دسویں نمبر پر موجود ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اخراج کے بعد ٹیم نے ایک بار پھر اپنی فارم واپس پالی ہے اور گزشتہ تین میں سے دو میچ جیت کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔

جوش انگلیس کی آمد اور بیٹنگ میں استحکام

امباتی رائیڈو نے لکھنؤ کی بیٹنگ میں بہتری کا سہرا آسٹریلوی بلے باز جوش انگلیس کے سر باندھا ہے۔ انگلیس سیزن کے ابتدائی حصے میں دستیاب نہیں تھے، لیکن ان کی شمولیت نے ٹیم کے ڈھانچے کو بدل کر رکھ دیا ہے۔

ای ایس پی این کرک انفو سے گفتگو کرتے ہوئے رائیڈو نے کہا: “میرا خیال ہے کہ اگر آپ انہیں پلے آف میں جگہ دے دیں، تو وہ آئی پی ایل جیت جائیں گے۔ وہ اس وقت اتنے اچھے نظر آ رہے ہیں۔” انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جوش انگلیس نے الیون میں آ کر بیٹنگ آرڈر کو مستحکم کر دیا ہے۔ انگلیس کی موجودگی سے دیگر بلے بازوں، بشمول نکولس پورن، کو کھل کر کھیلنے کا موقع مل رہا ہے جو اب فارم میں واپس آتے دکھائی دے رہے ہیں۔

باؤلنگ کی طاقت اور بیٹنگ کے مسائل

لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے اس سیزن میں سب سے مثبت پہلو ان کی باؤلنگ رہی ہے۔ پرنس یادو اور محسن خان نے اپنی گیند بازی سے سب کو متاثر کیا ہے اور ٹیم کو کئی میچوں میں لڑنے کا موقع فراہم کیا۔ تاہم، بیٹنگ لائن اپ مچل مارش کے علاوہ مسلسل جدوجہد کرتی دکھائی دی۔ ٹیم مینجمنٹ نے بیٹنگ آرڈر میں کئی تبدیلیاں کیں، لیکن تسلسل حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

راجستھان رائلز کے خلاف بڑا چیلنج

منگل کے روز جے پور میں لکھنؤ سپر جائنٹس کا سامنا راجستھان رائلز (RR) سے ہونا ہے۔ رائیڈو کا ماننا ہے کہ اس میچ میں راجستھان کے لیے لکھنؤ کو روکنا مشکل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا:

  • لکھنؤ اس وقت ہر میچ میں 200 سے 220 رنز بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
  • ان کے پاس جو باؤلنگ اٹیک ہے، وہ اس اسکور کا دفاع کرنے یا حریف کو کم اسکور پر روکنے کے لیے کافی ہے۔
  • اگر لکھنؤ اپنی پوری صلاحیت کے مطابق کھیلتی ہے، تو وہ اس وقت راجستھان رائلز سے کہیں آگے ہیں۔

پلے آف کی دوڑ میں ‘پارٹی پوپر’ کا کردار

اگرچہ لکھنؤ سپر جائنٹس خود ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکی ہے، لیکن وہ دیگر ٹیموں کا کھیل خراب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے بقیہ دو میچز راجستھان رائلز اور پنجاب کنگز (PBKS) کے خلاف ہیں۔ یہ دونوں میچز حریف ٹیموں کے لیے ‘کرو یا مرو’ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لکھنؤ کی ایک جیت راجستھان یا پنجاب کو پلے آف کی دوڑ سے باہر کر سکتی ہے، جو اس ٹورنامنٹ کے اختتامی مرحلے کو مزید سنسنی خیز بنا دے گا۔

نتیجہ

امباتی رائیڈو کا یہ تجزیہ لکھنؤ سپر جائنٹس کے مداحوں کے لیے ایک حوصلہ افزا پیغام ہے کہ ٹیم میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ اگرچہ سیزن کے درمیان میں ہونے والی مسلسل ناکامیوں نے انہیں ٹائٹل سے دور کر دیا، لیکن ٹیم کے پاس اگلے سیزن کے لیے ایک مضبوط بنیاد موجود ہے۔ لکھنؤ کو اب صرف اس تسلسل کی ضرورت ہے جس کا ذکر رائیڈو نے اپنے حالیہ بیان میں کیا ہے۔