ایڈن مارکرم لکھنؤ سپر جائنٹس کے نئے کپتان؟ مائیکل وان کا رشبھ پنت کو ہٹانے کا مشورہ
آئی پی ایل 2026 میں لکھنؤ سپر جائنٹس کی ناکامی اور کپتانی کا بحران
لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے لیے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کا سیزن کسی ڈراؤنے خواب سے کم ثابت نہیں ہوا۔ ٹیم پلے آف کی دوڑ سے باہر ہونے والی پہلی ٹیم بنی اور اب پوائنٹس ٹیبل پر سب سے نیچے موجود ہے۔ اس مایوس کن کارکردگی کے بعد، انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیکل وان نے لکھنؤ سپر جائنٹس کی انتظامیہ کو ایک بڑا اور جرات مندانہ مشورہ دیا ہے۔ مائیکل وان کا ماننا ہے کہ فرنچائز کو رشبھ پنت کو کپتانی سے برطرف کر دینا چاہیے اور ان کی جگہ جنوبی افریقہ کے مایہ ناز کھلاڑی ایڈن مارکرم کو کپتان بنانا چاہیے۔
رشبھ پنت کی کپتانی اور حکمت عملی پر سوالات
رشبھ پنت کو ایک بہترین وکٹ کیپر بلے باز مانا جاتا ہے، لیکن بطور کپتان ان کی کارکردگی اور حکمت عملی شدید تنقید کی زد میں رہی ہے۔ لکھنؤ سپر جائنٹس مسلسل دوسرے سیزن میں گروپ مرحلے سے آگے بڑھنے میں ناکام رہی ہے۔ آئی پی ایل 2026 میں پنت کے کئی فیصلے ایسے تھے جنہوں نے ماہرین اور شائقین دونوں کو حیران کیا۔ خاص طور پر بیٹنگ آرڈر میں بار بار تبدیلیاں اور نازک لمحات میں غلط باؤلنگ تبدیلیاں ٹیم کی شکست کا سبب بنیں۔
حالیہ میچوں میں لکھنؤ کی ٹیم راجستھان رائلز کے خلاف جے پور میں اپنا نوواں میچ ہار گئی، جس کے بعد پلے آف کی امیدیں مکمل طور پر دم توڑ گئیں۔ اب تک کھیلے گئے 13 میچوں میں لکھنؤ سپر جائنٹس صرف 4 میچ جیتنے میں کامیاب رہی ہے جبکہ اسے 9 میچوں میں عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس خراب کارکردگی نے رشبھ پنت کی قیادت پر بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
لکھنؤ سپر جائنٹس کے سیزن کا سفر: اتار چڑھاؤ اور مسلسل ناکامیاں
لکھنؤ سپر جائنٹس نے سیزن کا آغاز نسبتاً بہتر انداز میں کیا تھا، جہاں انہوں نے اپنے پہلے تین میچوں میں سے دو میں فتح حاصل کی تھی۔ تاہم، یہ کامیابی عارضی ثابت ہوئی اور جلد ہی ٹیم کا شیرازہ بکھر گیا۔ لکھنؤ کو مسلسل 6 میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس نے یہ واضح کر دیا کہ رشبھ پنت کی قیادت میں ٹیم پلے آف کی دوڑ سے باہر ہونے والی پہلی ٹیم بن جائے گی۔
اس مسلسل شکست کے سلسلے کے بعد، ٹیم نے کچھ سنبھلنے کی کوشش کی اور اگلے تین میچوں میں سے دو میں فتح حاصل کی، لیکن ویبھو سوریاونشی کی طوفانی بیٹنگ نے لکھنؤ کی باؤلنگ لائن کو تباہ کر کے رکھ دیا اور انہیں ایک بار پھر شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اب لکھنؤ سپر جائنٹس کا اس سیزن میں صرف ایک میچ باقی ہے اور وہ اگلے سیزن یعنی آئی پی ایل 2027 کی تیاریوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ لکھنؤ اپنا آخری میچ 23 مئی کو پنجاب کنگز کے خلاف اپنے ہوم گراؤنڈ لکھنؤ میں کھیلے گی۔
مائیکل وان کا تجزیہ: ایڈن مارکرم کو کپتان بنانے کی تجویز
کرک بز پر گفتگو کرتے ہوئے مائیکل وان نے لکھنؤ سپر جائنٹس کے مستقبل اور کپتانی کے ڈھانچے پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ لکھنؤ کے پاس اگلے سیزن کے لیے ایک اچھا بنیادی اسکواڈ موجود ہے، لیکن انہیں رشبھ پنت کو کپتانی سے ہٹانا ہوگا، یا پھر انہیں ٹیم سے فارغ کرنا ہوگا۔
مائیکل وان نے ٹیم کے اندرونی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا:
“میرا خیال ہے کہ لکھنؤ کو کچھ اہم فیصلے کرنے ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ ہیڈ کوچ جسٹن لینگر پر کافی دباؤ ہوگا۔ میں ٹام موڈی کو دیکھ رہا ہوں جو لکھنؤ کی ٹیم کے ڈائریکٹر آف کرکٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور وہ مجموعی طور پر باس ہیں۔ اگر آپ کپتان کو دیکھیں تو فرنچائز کے مالک، کوچ اور کپتان کے درمیان تال میل درست نظر نہیں آ رہا۔ یہ سب ایک پیج پر نظر نہیں آ رہے جو کہ کسی بھی کامیاب فرنچائز کے لیے سب سے اہم چیز ہے۔”
وان نے ٹیم کے کمبینیشن پر بات کرتے ہوئے مزید کہا:
“انہوں نے ٹاپ آرڈر میں جوش انگلس اور مچل مارش کی صورت میں ایک اچھا کمبینیشن تلاش کر لیا ہے۔ نکولس پوران نمبر 3 پر کھیل رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آپ اپنے ٹاپ 3 میں تمام غیر ملکی کھلاڑیوں کو رکھنا چاہتے ہیں؟ شاید نہیں، اس لیے اگلے سال کے لیے ان میں سے کسی ایک کو باہر بیٹھنا پڑ سکتا ہے۔”
ایڈن مارکرم کو کپتان بنانے کے حوالے سے وان نے اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا:
“میرا خیال ہے کہ انہیں ایک نئے کپتان کی ضرورت ہے، اور وہ ایڈن مارکرم ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس صورت میں، آپ کے پاس ٹاپ فائیو میں ایک اور غیر ملکی کھلاڑی شامل ہو جائے گا۔ آئی پی ایل کی تاریخ میں جن ٹیموں نے ٹرافی جیتی ہے، ان کے ٹاپ فائیو میں زیادہ تر ہندوستانی کھلاڑی رہے ہیں۔ اگر لکھنؤ مارکرم کو کپتان بناتی ہے تو یہ آئی پی ایل کی روایتی حکمت عملی کے خلاف ہوگا۔”
مائیکل وان نے باؤلنگ اور فیلڈنگ کے شعبوں پر بھی بات کی اور کہا کہ باؤلنگ میں کچھ تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ دیگر ٹیموں کے مقابلے میں کمزور رہی ہے۔ ان کے مطابق، پچھلے دو مہینوں کے دوران لکھنؤ کی کارکردگی کسی بھی شعبے میں معیار کے مطابق نہیں رہی۔
رشبھ پنت کی ذاتی کارکردگی کا جائزہ
نہ صرف رشبھ پنت کی کپتانی مایوس کن رہی بلکہ بطور بلے باز بھی وہ اس سیزن میں بری طرح ناکام ثابت ہوئے۔ پنت نے آئی پی ایل 2026 کے 13 میچوں میں صرف 286 رنز بنائے، جس کے دوران ان کی بیٹنگ اوسط محض 28.60 رہی۔ وہ پورے ٹورنامنٹ میں صرف ایک نصف سنچری بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی 140 کے آس پاس رہا، جو کہ جدید دور کی ٹی 20 کرکٹ اور ان کے اپنے معیار کے مطابق انتہائی کم ہے۔
بیٹنگ میں اس خراب فارم کے علاوہ، پنت نے میدان میں کئی ایسے فیصلے کیے جن پر کڑی تنقید کی گئی۔ بیٹنگ آرڈر میں غیر ضروری تبدیلیاں اور باؤلرز کا غلط استعمال ٹیم کی پے در پے شکستوں کی بڑی وجہ بنا۔ اب لکھنؤ سپر جائنٹس کو اپنے آخری میچ کے بعد اگلے سیزن کے لیے ٹیم کی تعمیرِ نو پر توجہ دینی ہوگی اور مائیکل وان کے مشورے کے مطابق قیادت میں تبدیلی ان کا پہلا قدم ہو سکتا ہے۔
