ویرات کوہلی کا آئی پی ایل کی ‘کانٹینٹ فرسٹ’ پالیسی پر سخت موقف
ویرات کوہلی کی آئی پی ایل کے ڈیجیٹل کلچر پر تنقید
گزشتہ کچھ برسوں میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائزز نے سوشل میڈیا پر اپنی سرگرمیوں میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ ٹیموں کی ڈیجیٹل ٹیمیں کھلاڑیوں کے ہر قدم پر نظر رکھتی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ ویوز حاصل کیے جا سکیں اور فین بیس کو بڑھایا جا سکے۔ تاہم، اس رجحان نے کرکٹرز کے لیے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ ویرات کوہلی، جو خود ایک عالمی سپر اسٹار ہیں، نے اس بڑھتے ہوئے ‘کانٹینٹ کلچر’ پر کھل کر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
کھلاڑیوں کی آزادی اور پرائیویسی کا سوال
ایک ایسے دور میں جہاں کوہلی اپنی نجی زندگی کو کیمروں کی آنکھ سے دور رکھنے کے لیے کوشاں رہتے ہیں—یہاں تک کہ انہوں نے اس مقصد کے لیے لندن میں رہائش اختیار کی ہے—وہیں آئی پی ایل کے دوران انہیں ہر وقت کیمروں کے حصار میں رہنا پڑتا ہے۔ آر سی بی کے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کوہلی نے کہا، ‘مجھے کھیل کے دوران آنے والا دباؤ تو پسند ہے، لیکن اس کے علاوہ کسی اور قسم کا دباؤ قبول نہیں’۔
ڈیجیٹل کوریج اور تیاری پر اثرات
کوہلی کا ماننا ہے کہ کھلاڑیوں کا ہر وقت فلمایا جانا انہیں فطری طور پر کام کرنے سے روکتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جب کھلاڑی پریکٹس سیشن کے لیے گراؤنڈ میں جاتے ہیں تو چھ چھ کیمرے ان کے پیچھے لگے ہوتے ہیں۔ کوہلی کے الفاظ میں: ‘آپ کو اپنے کھیل پر کام کرنے کے لیے آزادی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہر چیز فلمائی جا رہی ہو تو آپ قدرتی نہیں رہتے۔ جب ہر حرکت ریکارڈ ہو رہی ہو تو نئے تجربات کرنا مشکل ہو جاتا ہے’۔
نجی گفتگو میں رکاوٹ
کوہلی نے ایک دلچسپ مگر تشویشناک واقعہ بھی شیئر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ اپنے دوست کین ولیمسن کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے، تو وہاں موجود ایک روبوٹک ڈاگ (Champak) نے ان کی پرائیویسی میں دخل اندازی کی۔ کوہلی نے اس کے آپریٹر کو ہدایت کی کہ اسے دور لے جائیں تاکہ وہ اپنے ساتھی کے ساتھ آزادانہ بات کر سکیں۔ کوہلی نے زور دیا کہ آفیشلز اور ڈیجیٹل ٹیموں کو ایک لکیر کھینچنی چاہیے اور کھلاڑیوں کی مرضی کا احترام کرنا چاہیے۔
میدان میں کوہلی کی کارکردگی
آئی پی ایل 2026 میں اپنی ٹیم رائل چیلنجرز بنگلورو کی قیادت کرتے ہوئے، کوہلی نے بہترین فارم کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ اب تک 400 سے زائد رنز بنا چکے ہیں اور اورنج کیپ کی دوڑ میں شامل ہیں۔ کوہلی نے آئی پی ایل کی تاریخ میں 9 سنچریاں اور 14 ہزار رنز کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ آر سی بی نے پلے آف میں اپنی جگہ پکی کر لی ہے اور ٹیم کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے وہ ٹائٹل کے مضبوط امیدوار دکھائی دیتے ہیں۔
نتیجہ
ویرات کوہلی کا یہ مؤقف کرکٹ کی دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز کرتا ہے۔ کیا فرنچائزز کو اپنی مارکیٹنگ اور کانٹینٹ کی بھوک میں کھلاڑیوں کے بنیادی حقوق اور پرائیویسی کو قربان کر دینا چاہیے؟ کوہلی کا ماننا ہے کہ کھلاڑی کی جانچ صرف اس کی کارکردگی کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ اس پر کہ وہ پریکٹس کے دوران کیا کر رہا ہے۔ کرکٹ حکام کے لیے اب وقت آ گیا ہے کہ وہ ان ڈیجیٹل قوانین کو کھلاڑیوں کی سہولت کے مطابق ترتیب دیں۔
