Pakistan bowl; Australia bring in Zampa for Stanlake – دوسرا ون ڈے
لاہور میں کرکٹ کا میدان سجے گا
پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان تین ون ڈے میچوں کی سیریز کا دوسرا معرکہ لاہور کے تاریخی قذافی اسٹیڈیم میں جاری ہے۔ پاکستان کی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد ہوم کنڈیشنز کا بھرپور فائدہ اٹھانا ہے۔ شاہین شاہ آفریدی کی قیادت میں میزبان ٹیم اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اسپن پچز پر حکمت عملی
پاکستان کی ٹیم نے اس میچ کے لیے اپنی حکمت عملی کو اسپن بولنگ کے گرد گھمایا ہے۔ کپتان شاہین شاہ آفریدی کا ماننا ہے کہ پچ کو خاص طور پر اسپنرز کے لیے تیار کیا گیا ہے تاکہ آسٹریلوی بلے بازوں کو مشکلات میں ڈالا جا سکے۔ ٹیم میں چار اسپنرز شامل کیے گئے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کنڈیشنز کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے پچ کے حوالے سے جاری تنقید کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2027 کے ورلڈ کپ کے پیش نظر اسپن پچز پر کھیلنا ضروری ہے۔ یہ ٹورنامنٹ جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں کھیلا جائے گا، جہاں اسپنرز کا کردار کلیدی ہوگا۔
آسٹریلیا کی ٹیم میں تبدیلی
آسٹریلوی کپتان جوش انگلس نے ٹاس کے موقع پر کہا کہ ٹیم کو حالات کے مطابق ڈھلنے کی ضرورت ہے۔ Pakistan bowl; Australia bring in Zampa for Stanlake کی تبدیلی کے ساتھ آسٹریلیا نے اپنے اسپن اٹیک کو مضبوط کیا ہے۔ ایڈم زیمپا، جو گردن کے پٹھوں میں کھنچاؤ کے باعث پہلا ون ڈے نہیں کھیل سکے تھے، اب ٹیم کا حصہ ہیں۔ وہ بلی اسٹینلیک کی جگہ میدان میں اترے ہیں۔
ٹیموں کا اسکواڈ
دونوں ٹیموں کی حتمی پلینگ الیون درج ذیل ہے:
- پاکستان: صاحبزادہ فرحان، معاذ صداقت، بابر اعظم، غازی غوری (وکٹ کیپر)، سلمان علی آغا، عبدل صمد، شاداب خان، عرفات منہاس، شاہین شاہ آفریدی (کپتان)، حارث رؤف، ابرار احمد۔
- آسٹریلیا: میٹ شارٹ، ایلکس کیری، جوش انگلس، میٹ رینشا، کیمرون گرین، مارنس لیبوشین، اولیور پیک، ناتھن ایلس، میٹ کوہن مین، ایڈم زیمپا، تنویر سنگھا۔
سیریز کی صورتحال
تین میچوں کی اس سیریز میں پاکستان کو 0-1 کی برتری حاصل ہے۔ آسٹریلیا کے لیے یہ میچ انتہائی اہم ہے کیونکہ وہ لگاتار تیسری ون ڈے سیریز میں پاکستان کے ہاتھوں شکست سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ گزشتہ میچ میں آسٹریلوی ٹیم صرف 200 رنز پر آؤٹ ہو گئی تھی، اور اب انہیں سیریز میں واپسی کے لیے ایک مضبوط کارکردگی درکار ہے۔
قذافی اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی بڑی تعداد موجود ہے اور کرکٹ شائقین ایک دلچسپ مقابلے کی امید کر رہے ہیں۔ کیا پاکستان اپنے اسپنرز کے جال میں آسٹریلیا کو ایک بار پھر پھنسا پائے گا یا مہمان ٹیم اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کے ساتھ میچ کا پانسہ پلٹ دے گی، یہ آنے والے گھنٹوں میں واضح ہو جائے گا۔
