In Press, On Field, Always Cricket
News

SLC relieved at ICC’s mild response to Transformation Committee

Ahmed Khan · · 1 min read

سری لنکا کرکٹ میں انتظامی تبدیلیوں پر آئی سی سی کا محتاط رویہ

سری لنکا کرکٹ (SLC) کے لیے حال ہی میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں بورڈ کے اراکین نے آئی سی سی کی جانب سے ٹرانسفارمیشن کمیٹی پر کسی قسم کی پابندی نہ لگانے کے فیصلے پر خاموشی سے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ احمد آباد میں ہونے والے آئی سی سی کے سہ ماہی اجلاس میں اگرچہ سری لنکا کرکٹ کے کسی نمائندے کو مدعو نہیں کیا گیا تھا، لیکن حکومتی مداخلت کے باوجود کسی قسم کی سخت کارروائی نہ ہونا بورڈ کے لیے ایک غنیمت ثابت ہوا ہے۔

پس منظر اور حکومتی اقدامات

سری لنکا میں مئی کے مہینے میں حکومت کی جانب سے ایک ‘ٹرانسفارمیشن کمیٹی’ تشکیل دی گئی تھی، جس نے منتخب شدہ عہدیداران کی جگہ لی۔ ماضی میں، 2015 اور 2023 میں آئی سی سی نے سری لنکا میں حکومتی مداخلت پر سخت نوٹس لیتے ہوئے پابندیاں عائد کی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار کرکٹ حلقوں میں سخت تشویش پائی جا رہی تھی، لیکن آئی سی سی نے اب تک کوئی سخت ایکشن نہیں لیا ہے۔

آئی سی سی کا مؤقف

اگرچہ آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ نے مئی میں کولمبو کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا تھا، تاہم تازہ ترین اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں صرف اتنا کہا گیا کہ آئی سی سی کے وفد نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات کر کے پیش رفت کا جائزہ لیا ہے۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ آئی سی سی ابھی تک کسی سخت فیصلے کے بجائے صورتحال کو قریب سے دیکھ رہی ہے۔ ٹرانسفارمیشن کمیٹی کے ایک رکن نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ابھی تک کوئی خبر نہ آنا خود ایک اچھی خبر ہے’۔

ٹرانسفارمیشن کمیٹی کے مقاصد

ٹرانسفارمیشن کمیٹی کے چیئرمین ایرن وکرما رتنے کا کہنا ہے کہ ان کا بنیادی مقصد سری لنکا کرکٹ کے پرانے اور فرسودہ آئین کو تبدیل کرنا ہے۔ ان کے مطابق، یہ تبدیلی سری لنکا کے عوام کی خواہشات کے مطابق ہونی چاہیے۔ وکرما رتنے کا ماننا ہے کہ پارلیمنٹ میں بھی اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ سری لنکا کرکٹ کے ڈھانچے میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے مشورے سن رہے ہیں تاکہ ایک ایسا آئین تیار کیا جا سکے جو کرکٹ کی بہتری کے لیے ہو۔

مستقبل کی توقعات

سری لنکا کرکٹ انتظامیہ کو امید ہے کہ مستقبل کے اجلاسوں میں ٹرانسفارمیشن کمیٹی کے اراکین کو آئی سی سی میں نمائندگی کا موقع ملے گا۔ اگرچہ آئی سی سی نے ابھی تک ان کی شرکت کے حوالے سے کوئی واضح جواب نہیں دیا ہے، لیکن پابندیوں سے بچنا سری لنکا کے لیے ایک بڑی राहत ہے۔ کرکٹ کے تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ٹرانسفارمیشن کمیٹی اپنی اصلاحات میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ سری لنکا کرکٹ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔

بہرحال، فی الحال سری لنکا کرکٹ ایک ایسے مرحلے پر ہے جہاں اسے آئی سی سی کے اعتماد کو بحال کرنے اور مقامی سطح پر شفافیت لانے کے لیے سخت محنت کرنی ہوگی۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا آئی سی سی آنے والے وقتوں میں اس کمیٹی کو تسلیم کرتی ہے یا نہیں۔