Dale Steyn hails Vaibhav Sooryavanshi as the future saviour of Test cricket – ڈیل اسٹین نے ویبھو سوریہ ونشی کو ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل کا نجات دہندہ قرار دیا: ایک نئی امید
کرکٹ کی دنیا میں ایک نئے ستارے کی چمک نظر آ رہی ہے، اور اس چمک نے ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ یہ ستارہ کوئی اور نہیں بلکہ 15 سالہ نوجوان ویبھو سوریہ ونشی ہیں، جنہوں نے حال ہی میں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 میں اپنی دھاک بٹھائی ہے۔ ان کی شاندار کارکردگی نے نہ صرف شائقین کو متاثر کیا ہے بلکہ کرکٹ کے ماہرین کو بھی ان کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں، جنوبی افریقہ کے سابق عظیم فاسٹ بولر ڈیل اسٹین نے ویبھو سوریہ ونشی کو ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل کا نجات دہندہ قرار دیا ہے، اور ان سے اس فارمیٹ کو اپنانے کی پرزور اپیل کی ہے۔
ویبھو سوریہ ونشی: آئی پی ایل 2026 کا چمکتا ستارہ
ویبھو سوریہ ونشی نے آئی پی ایل 2026 میں راجستھان رائلز کے لیے کھیلتے ہوئے اپنی بیٹنگ سے سب کو حیران کر دیا۔ ان کی دھماکہ خیز بلے بازی اور مشکل صورتحال میں رنز بنانے کی صلاحیت نے انہیں فوری طور پر مداحوں کا پسندیدہ بنا دیا۔ 16 میچوں میں 776 رنز کے ساتھ، انہوں نے اورنج کیپ اپنے نام کی، اور یہ کارنامہ انہوں نے سیزن کے صرف ایک میچ باقی رہتے ہوئے انجام دیا۔ اگرچہ راجستھان رائلز کو گجرات ٹائٹنز کے خلاف کوالیفائر 2 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا اور سوریہ ونشی کا سیزن ختم ہو گیا، لیکن ان کی کارکردگی نے ایک طویل عرصے تک یاد رکھی جانے والی کہانی رقم کی۔
سوریہ ونشی کے رنز 237 کے حیرت انگیز اسٹرائیک ریٹ سے آئے، جس نے انہیں ٹی 20 ٹورنامنٹ کی تاریخ کا پہلا کھلاڑی بنا دیا جس نے 600 یا اس سے زیادہ رنز 200 سے زیادہ کے اسٹرائیک ریٹ سے بنائے۔ یہ اعداد و شمار ان کی جارحانہ بلے بازی اور تیزی سے رنز بنانے کی صلاحیت کی گواہی دیتے ہیں۔ انہوں نے پورے ٹورنامنٹ میں 72 چھکے بھی لگائے، جس نے کرس گیل کا آئی پی ایل سیزن میں سب سے زیادہ چھکوں کا ریکارڈ توڑ دیا۔ ان کی یہ کارکردگی صرف ایک ٹورنامنٹ کی جھلک نہیں ہے بلکہ ایک ایسے کھلاڑی کی نشاندہی کرتی ہے جو کرکٹ کے میدان میں بڑے کارنامے انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ڈیل اسٹین کی پکار: ٹیسٹ کرکٹ کا مستقبل
ویبھو سوریہ ونشی کی آئی پی ایل میں دھوم مچانے کے بعد، ڈیل اسٹین نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اسٹین نے کہا کہ اگر سوریہ ونشی یہ کہیں کہ ان کا خواب ہندوستان کے لیے ریڈ بال کرکٹ کھیلنا ہے، تو یہ ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ایک بہترین اشتہار ہوگا۔ انہوں نے لکھا، “ٹیسٹ کرکٹ کے لیے اس سے بڑا کوئی اشتہار نہیں ہو سکتا کہ اگر سوریہ ونشی دنیا کو بتائیں کہ ان کا خواب ہندوستان کے لیے ریڈ بال کھیلنا ہے۔ ہماری امیدیں آپ کے ساتھ ہیں، جوان سر۔” اسٹین کا یہ بیان ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ان کے گہرے احترام اور اس فارمیٹ کو بچانے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈیل اسٹین جیسے تجربہ کار کھلاڑی کا یہ ماننا کہ سوریہ ونشی ٹیسٹ کرکٹ کے سب سے بڑے سفیر بن سکتے ہیں، اس نوجوان کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ کرکٹ کی دنیا میں بہت سے لوگ ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل کے بارے میں فکرمند ہیں اور وہ ایسے کھلاڑیوں کی تلاش میں ہیں جو اس فارمیٹ کو زندہ رکھ سکیں۔ سوریہ ونشی جیسے نوجوان کھلاڑی، جو اپنی جارحانہ بلے بازی کے لیے جانے جاتے ہیں، اگر ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اس جذبے کو برقرار رکھیں تو یہ کھیل کے لیے ایک نئی روح پھونکنے کے مترادف ہوگا۔
انڈیا اے میں انتخاب: بین الاقوامی خواب کی طرف ایک قدم
ویبھو سوریہ ونشی کا بین الاقوامی کرکٹ کھیلنے کا خواب حقیقت بننے کے ایک قدم اور قریب آ گیا ہے۔ آئی پی ایل میں شاندار کارکردگی کے بعد، انہیں جون میں سری لنکا اے اور افغانستان اے کے خلاف انڈیا اے کی سہ فریقی سیریز کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ یہ انتخاب اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ سلیکٹرز بھی اس نوجوان ٹیلنٹ پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور انہیں اعلیٰ سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔ یہ موقع سوریہ ونشی کے لیے ٹیسٹ کرکٹ سمیت طویل فارمیٹ میں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کا ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے۔
نوجوانوں کی کرکٹ سے سینئر کرکٹ تک کا سفر
ویبھو سوریہ ونشی کی بیشتر کارکردگی انڈر 19 سطح اور آئی پی ایل میں سامنے آئی ہے، لیکن انہوں نے سینئر کرکٹ میں بھی اپنی صلاحیتوں کی جھلک دکھائی ہے۔ 2026 میں، انہوں نے انڈر 19 ورلڈ کپ میں دوسرے سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی کے طور پر ٹورنامنٹ کا اختتام کیا، جہاں ہندوستان نے ٹائٹل جیتا۔ فائنل میں، انگلینڈ کے خلاف انہوں نے 80 گیندوں پر 175 رنز کی دھماکہ خیز اننگز کھیلی، جس سے ان کی صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔
ستمبر 2024 میں، انہوں نے صرف 13 سال کی عمر میں یوتھ ٹیسٹ میں دوسری تیز ترین سنچری اسکور کی، جب انہوں نے آسٹریلیا کے خلاف 58 گیندوں پر سنچری بنائی۔ سوریہ ونشی نے یوتھ ون ڈے میں بھی دوسری اور تیسری تیز ترین سنچریاں بنائی ہیں، جب انہوں نے انگلینڈ کے خلاف بالترتیب 52 اور 53 گیندوں پر سنچریاں اسکور کیں۔ دسمبر 2025 میں، انہوں نے وجے ہزارے ٹرافی میں اروناچل پردیش کے خلاف 36 گیندوں پر سنچری بنائی۔ اسی دن، انہوں نے لسٹ اے کی تاریخ میں تیز ترین 150 رنز بھی بنائے، جب وہ 59 گیندوں پر اس سنگ میل تک پہنچے، اور بالآخر 84 گیندوں پر 190 رنز کے ساتھ اننگز کا اختتام کیا۔
فرسٹ کلاس کرکٹ میں ایک مختلف چیلنج
فرسٹ کلاس کرکٹ میں، سوریہ ونشی نے 2024 میں رانجی ٹرافی میں 12 سال کی عمر میں ڈیبیو کرنے کے بعد صرف 8 میچ کھیلے ہیں۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں ان کے 207 رنز ہیں، جو 17.25 کی اوسط سے آئے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ریڈ بال کرکٹ میں بھی اپنے جارحانہ انداز کو نہیں چھوڑا ہے، اور اس فارمیٹ میں 90 کا اسٹرائیک ریٹ برقرار رکھا ہے۔ گزشتہ نومبر میں، انہوں نے میگھالیہ کے خلاف صرف 67 گیندوں پر 93 رنز بنا کر اپنی واحد فرسٹ کلاس نصف سنچری بنائی۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ طویل فارمیٹ میں بھی اپنی جارحانہ بیٹنگ کی صلاحیت رکھتے ہیں، لیکن انہیں ابھی اس فارمیٹ میں مزید مستقل مزاجی اور بڑے اسکور بنانے کی ضرورت ہے۔
ٹیسٹ کرکٹ کی بقا اور ویبھو سوریہ ونشی کا کردار
ڈیل اسٹین کی اپیل صرف ایک کھلاڑی سے نہیں بلکہ ٹیسٹ کرکٹ کے مستقبل سے متعلق ایک اہم تشویش کی عکاسی کرتی ہے۔ ٹی 20 کرکٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود، ٹیسٹ کرکٹ کو اس کھیل کی اصل روح سمجھا جاتا ہے۔ ویبھو سوریہ ونشی جیسے نوجوان، جو ہر فارمیٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں، اگر ٹیسٹ کرکٹ کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں اور اس میں کامیابی حاصل کریں، تو یہ یقیناً ٹیسٹ کرکٹ کے لیے ایک نئی زندگی کا پیغام ہو گا۔ ان کی موجودگی ٹیسٹ کرکٹ کو نوجوان نسل میں مزید مقبول بنا سکتی ہے اور اس فارمیٹ کے مداحوں کو ایک نئی امید دے سکتی ہے۔ یہ وقت بتائے گا کہ کیا ویبھو سوریہ ونشی ڈیل اسٹین کی توقعات پر پورا اترتے ہیں اور واقعی ٹیسٹ کرکٹ کے نجات دہندہ بن کر ابھرتے ہیں۔
