In Press, On Field, Always Cricket
Latest Cricket News

Virat Kohli’s childhood coach breaks silence on arrogance claims ahead of IPL 20 – ویرات کوہلی کے بچپن کے کوچ نے آئی پی ایل 20 سے قبل غرور کے دعووں پر خاموشی توڑ دی

Rahul Sharma · · 1 min read

کرکٹ کی دنیا کے سب سے بڑے ناموں میں سے ایک، ویرات کوہلی، نہ صرف اپنی بے مثال کارکردگی بلکہ اپنے منفرد انداز اور میدان پر جارحانہ رویے کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ تاہم، اس رویے کو اکثر کچھ لوگ غرور یا تکبر سے تعبیر کرتے ہیں۔ حال ہی میں، ویرات کوہلی کے بچپن کے کوچ، راجکمار شرما نے ان دعوؤں پر اپنی خاموشی توڑ دی ہے، اور دنیا کو اپنے شاگرد کی حقیقی شخصیت کے بارے میں بصیرت فراہم کی ہے۔ شرما کے بیانات کوہلی کے مداحوں اور ناقدین دونوں کے لیے ایک اہم پیغام رکھتے ہیں، خاص طور پر آئی پی ایل 2026 کے فائنل سے قبل جب کوہلی نے رائل چیلنجرز بنگلور (RCB) کو ایک اور شاندار سیزن میں قیادت دی۔

ویرات کوہلی کی حقیقی شخصیت: غرور یا جذبہ؟

راجکمار شرما، جنہوں نے ویرات کوہلی کو ان کے ابتدائی دنوں سے کرکٹ کی تربیت دی ہے، نے اس تاثر کو سختی سے رد کیا ہے کہ کوہلی متکبر ہیں۔ ایک حالیہ انٹرویو میں، انہوں نے وضاحت کی کہ جو لوگ کوہلی کو قریب سے جانتے ہیں، وہ اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اپنی کامیابیوں کے باوجود وہ کتنے عاجز، باادب اور زمینی انسان ہیں۔ شرما کا کہنا ہے کہ میدان پر کوہلی کا جارحانہ انداز ان کے اندرونی جذبے اور جیتنے کی خواہش کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ کسی قسم کے غرور کی۔

انہوں نے مزید کہا، “ویرات ایک بہت ہی متواضع لڑکا ہے۔ لوگ اسے متکبر سمجھنے کی غلطی کرتے تھے، لیکن ہر وہ شخص جو اسے قریب سے جانتا ہے، اسے معلوم ہے کہ وہ کتنا عاجز اور باادب ہے۔ میرے لیے، وہ اب بھی ایک بچے کی طرح ہے۔” یہ الفاظ اس گہرے تعلق اور سمجھ کی عکاسی کرتے ہیں جو ایک کوچ اپنے شاگرد کے ساتھ بانٹتا ہے۔ شرما نے یاد دلایا کہ ویرات نو سال کے بھی نہیں تھے جب وہ ان کے پاس آئے تھے، اور تب سے وہ ان کے ساتھ ہیں۔ دنیاوی کرکٹ میں اتنی بلندیوں تک پہنچنے کے بعد بھی اسی احترام اور قدر کو برقرار رکھنا واقعی قابل ستائش ہے۔

میدان پر جارحیت: کوہلی کا ٹریڈ مارک

ویرات کوہلی کی عوامی شبیہ اکثر ان کے میدان پر شدید جشن، متحرک ردعمل اور مخالفین کے ساتھ میدان پر ہونے والی گرما گرمی سے بنتی ہے۔ دیگر بہت سے بھارتی کرکٹرز کے برعکس، جنہوں نے ایک پرسکون انداز کو ترجیح دی ہے، کوہلی نے ہمیشہ زیادہ جارحانہ انداز اپنایا ہے۔ وہ اس توانائی کو اپنے آپ کو اور اپنی ٹیم کو ترغیب دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ان کی شخصیت کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے، اور اسے محض غرور سمجھنا ان کے کھیل کے تئیں لگن اور عزم کو نظر انداز کرنا ہوگا۔ راجکمار شرما نے زور دیا کہ یہ جارحیت دراصل ان کے کھیل کے تئیں شدید جذبے اور جیت کی پیاس کا مظہر ہے، نہ کہ ذاتی تکبر کا۔ ان کا یہ انداز انہیں دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک بناتا ہے، جو ہر میچ کو آخری اوور تک جیتنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کوچ اور شاگرد کے درمیان انوکھا رشتہ

راجکمار شرما نے اپنے اور ویرات کوہلی کے درمیان موجود غیر معمولی بندھن کو یاد کرتے ہوئے سابق بھارتی کرکٹر انشومن گائیکواڑ کے ساتھ اپنی گفتگو کا ذکر کیا۔ شرما نے بتایا کہ گائیکواڑ ان کے اور کوہلی کے مضبوط رشتے اور ان کے کیریئر میں مسلسل رابطے میں رہنے کے طریقے پر حیران تھے۔ گائیکواڑ جی، جنہیں وہ اپنے بڑے بھائی کی طرح سمجھتے تھے، اکثر کہتے تھے کہ “میں نے بھارتی کرکٹ کو قریب سے دیکھا ہے۔ میں نے بھارت کے لیے کھیلا، بھارتی ٹیم کی کوچنگ کی، اور سب کچھ دیکھا۔ لیکن میں نے آپ اور ویرات جیسا رشتہ کبھی نہیں دیکھا۔” وہ مزید کہتے تھے، “آپ اس کی ہر ایک گیند کو نہیں چھوڑتے جو وہ دنیا میں کہیں بھی کھیلتا ہے، اور وہ میچ ختم ہوتے ہی آپ سے بات کرتا ہے۔” گائیکواڑ نے اکثر کہا کہ انہوں نے ایسا بندھن کبھی نہیں دیکھا، خاص طور پر ایک ایسے کھلاڑی کے ساتھ جو کرکٹ کی دنیا کی اعلیٰ ترین سطح پر پہنچ چکا ہو۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کامیابی کے عروج پر پہنچنے کے بعد بھی کوہلی نے اپنے ابتدائی سرپرست کے ساتھ اپنے تعلقات کو کتنا احترام دیا ہے۔

راجکمار شرما کو ویرات کوہلی کی شخصیت پر فخر ہے، باوجود اس کے کہ انہوں نے عالمی کرکٹ میں بے پناہ کامیابی حاصل کی ہے۔ تجربہ کار کوچ نے کہا کہ ان کا رشتہ بالکل بھی نہیں بدلا ہے جب سے اس بلے باز نے ایک نوجوان لڑکے کے طور پر ان کی اکیڈمی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ شرما کا کہنا تھا، “ویرات کی اتنی شاندار فطرت ہے اور وہ ناقابل یقین حد تک باادب ہیں۔ آج بھی، وہ میرے ساتھ بہت پیار سے پیش آتے ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ وہ میرے شاگرد ہیں۔” یہ الفاظ ان کے درمیان ایک مضبوط اور اٹوٹ رشتے کی گواہی دیتے ہیں، جو محض کوچنگ سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔

آئی پی ایل 2026 میں ویرات کوہلی کی متاثر کن کارکردگی

ویرات کوہلی نے آئی پی ایل 2026 میں ایک اور شاندار سیزن کا لطف اٹھایا۔ آر سی بی کے اوپنر نے بلے سے اہم کردار ادا کیا اور اپنی ٹیم کو آئی پی ایل 2026 کے فائنل میں پہنچانے میں مدد کی۔ اعداد و شمار کے مطابق، کوہلی نے 15 اننگز میں 600 رنز بنائے، جس میں ان کی اوسط 50.00 اور اسٹرائیک ریٹ 164.38 رہا۔ اس سیزن میں انہوں نے چار نصف سنچریاں اور کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کے خلاف ایک ناقابل شکست سنچری بھی بنائی۔ یہ کارکردگی نہ صرف ان کی فارم کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ان کی قائدانہ صلاحیتوں اور دباؤ میں کارکردگی دکھانے کی صلاحیت کو بھی نمایاں کرتی ہے۔ ان کی یہ مستقل مزاجی اور ٹیم کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا جذبہ ہی انہیں اپنے ساتھی کھلاڑیوں اور مداحوں میں ایک خاص مقام دیتا ہے۔

نتیجہ

ویرات کوہلی کے بچپن کے کوچ راجکمار شرما کے بیانات نے کرکٹ کے ایک بڑے ستارے کی شخصیت کے بارے میں ایک گہری بصیرت فراہم کی ہے۔ ان کی میدان پر جارحیت کو اکثر غلط سمجھا جاتا ہے، لیکن شرما نے واضح کیا ہے کہ یہ محض ان کے کھیل کے تئیں شدید جذبے اور جیتنے کی خواہش کا عکاس ہے۔ کوہلی کی عاجزی، احترام اور ان کا اپنے کوچ کے ساتھ اٹوٹ رشتہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کامیابی انہیں بدل نہیں سکی ہے۔ آئی پی ایل 2026 میں ان کی شاندار کارکردگی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ صرف ایک عظیم کرکٹر ہی نہیں بلکہ ایک عظیم شخصیت کے مالک بھی ہیں۔ یہ سب باتیں اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ ویرات کوہلی کا حقیقی جوہر میدان کے باہر ان کی عاجزی اور احترام میں پنہاں ہے۔