Irfan Pathan Thrashed For ‘Fatherly’ Defending Vaibhav Sooryavanshi – عرفان پٹھان شدید تنقید کی زد میں: ویبھو سوریابانشی کے حق میں بیان پر تنازعہ
آئی پی ایل 2026: ویبھو سوریابانشی کی جارحانہ اننگز اور ایک نیا تنازعہ
آئی پی ایل 2026 کے کوالیفائر 2 کے سنسنی خیز مقابلے میں، 15 سالہ نوجوان بلے باز ویبھو سوریابانشی نے اپنی جارحانہ بیٹنگ سے سب کو حیران کر دیا۔ راجستھان رائلز کے اس ابھرتے ہوئے ستارے نے محض 47 گیندوں پر 96 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔ تاہم، اس میچ میں ان کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ گجرات ٹائٹنز کے بولرز کی جانب سے ان کے خلاف اپنائی گئی حکمت عملی نے ایک بڑی بحث کو جنم دیا ہے۔
باڈی لائن بولنگ کا استعمال: کیا یہ کھیل کا حصہ ہے؟
گجرات ٹائٹنز کے تیز گیند بازوں، کگیسو ربادا اور محمد سراج نے ویبھو سوریابانشی کو نشانہ بنانے کے لیے ‘باڈی لائن’ یا ‘فاسٹ لیگ تھیوری’ کا سہارا لیا۔ یہ ایک ایسی تکنیک ہے جس میں گیند باز جان بوجھ کر شارٹ پچ گیندیں بلے باز کے جسم اور سر کی جانب کرواتا ہے تاکہ اسے خوفزدہ کیا جا سکے۔ یہ حربہ 1932-33 کی ایشیز سیریز میں ڈان بریڈمین کو روکنے کے لیے بدنام زمانہ طور پر استعمال کیا گیا تھا۔
عرفان پٹھان کا موقف اور مداحوں کا ردعمل
میچ کے دوران ویبھو کو ربادا اور سراج کی جانب سے مسلسل باڈی لائن باؤنسرز کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال پر سابق بھارتی آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے سوشل میڈیا پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایک 15 سالہ کھلاڑی کے خلاف اس قسم کی حکمت عملی انہیں پسند نہیں آئی۔ انہوں نے لکھا کہ اگرچہ وہ جانتے ہیں کہ ویبھو بڑے کھلاڑیوں کے خلاف کھیل رہا ہے، لیکن ایک ‘باپ’ ہونے کے ناطے ان کا ضمیر اس قسم کی جارحیت کو قبول نہیں کرتا۔
تاہم، یہ بیان مداحوں کو کچھ خاص پسند نہیں آیا۔ سوشل میڈیا صارفین نے عرفان پٹھان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کرکٹ کے میدان میں عمر کی تفریق نہیں ہوتی اور اگر کوئی کھلاڑی آئی پی ایل جیسی بڑی لیگ کھیل رہا ہے، تو اسے ہر قسم کی چیلنجنگ صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
ویبھو سوریابانشی کی ناقابل فراموش اننگز
تنقید اور سخت باؤنسرز کے باوجود، ویبھو سوریابانشی نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اپنی اننگز میں 8 چوکے اور 7 چھکے لگائے۔ راجستھان رائلز کے ابتدائی وکٹیں گرنے کے بعد انہوں نے رویندر جڈیجہ کے ساتھ مل کر ٹیم کو سہارا دیا۔ ویبھو اپنی سنچری کے قریب تھے لیکن کگیسو ربادا کی ایک شارٹ پچ گیند پر وہ ٹاپ ایج ہو کر آؤٹ ہو گئے۔
میچ کا نتیجہ: گجرات ٹائٹنز کی شاندار فتح
راجستھان رائلز نے 214 رنز کا ہدف دیا تھا، جس کے تعاقب میں گجرات ٹائٹنز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ شبمن گل کی شاندار 104 رنز کی سنچری اور سائی سدرشن کے 58 رنز کی بدولت گجرات ٹائٹنز نے یہ میچ 7 وکٹوں سے جیت لیا۔ اس ہار کے ساتھ ہی راجستھان رائلز کا ٹورنامنٹ میں سفر اختتام پذیر ہوا اور ویبھو سوریابانشی کی انتھک محنت رائیگاں گئی۔
یہ تنازعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پروفیشنل کرکٹ میں جذبات اور کھیل کی سختی کے درمیان توازن برقرار رکھنا کتنا مشکل ہے۔ کیا ایک نوجوان کھلاڑی کے لیے کرکٹ کے میدان میں ‘نرم گوشہ’ ہونا چاہیے، یا پھر مقابلہ اسی طرح بے رحم ہونا چاہیے؟ یہ سوال آنے والے وقتوں میں مزید بحث کا موضوع رہے گا۔
