In Press, On Field, Always Cricket
Cricket News

Why Rohit Sharma Is A Complete No Go For Mumbai Indians’ Captaincy? – ممبئی انڈینز کی کپتانی: کیا روہت شرما کی واپسی ایک درست فیصلہ ہے؟

Ahmed Khan · · 1 min read

ممبئی انڈینز اور کپتانی کا بحران: ایک حقیقت پسندانہ جائزہ

روہت شرما بلاشبہ آئی پی ایل کی تاریخ کے عظیم ترین کپتانوں میں سے ایک مانے جاتے ہیں، جنہوں نے ممبئی انڈینز کو پانچ بار چیمپئن بنا کر ایک ناقابلِ تسخیر ٹیم میں تبدیل کیا۔ تاہم، جدید دور کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں فیصلے جذباتی بنیادوں پر نہیں بلکہ مستقبل کی منصوبہ بندی کے تحت لیے جاتے ہیں۔ حالیہ خبروں کے مطابق، ہاردک پانڈیا کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیوں کے درمیان ایک بار پھر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا روہت شرما کو دوبارہ کپتان بنایا جانا چاہیے؟ اس تجزیے میں، ہم ان تین اہم وجوہات پر بات کریں گے جن کی بنا پر روہت شرما کا دوبارہ ممبئی انڈینز کا کپتان بننا ٹیم کے مفاد میں نہیں دکھائی دیتا۔

1. آئی پی ایل میں روہت شرما کی بیٹنگ فارم

ایک ٹاپ آرڈر بلے باز کے طور پر روہت شرما کی کارکردگی گزشتہ ایک دہائی میں ان کی ساکھ کے مطابق نہیں رہی ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اپنی طویل آئی پی ایل کیریئر کے باوجود، وہ کبھی بھی ایک سیزن میں 600 رنز کا ہندسہ عبور نہیں کر سکے۔ آخری بار جب انہوں نے ایک سیزن میں 500 سے زائد رنز بنائے تھے، وہ 2013 کا سال تھا۔ موجودہ آئی پی ایل میں ٹیموں کی کامیابی کا انحصار ٹاپ آرڈر کے بلے بازوں کی مسلسل کارکردگی پر ہوتا ہے۔ جبکہ ویرات کوہلی، شبمن گل اور دیگر نوجوان کھلاڑی مسلسل رنز بنا رہے ہیں، روہت شرما کی بیٹنگ میں وہ تسلسل نظر نہیں آتا جس کی ٹیم کو ضرورت ہے۔ مزید برآں، ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی گزشتہ پانچ برسوں میں زیادہ تر سیزنز میں 150 سے کم رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں، کپتانی کا اضافی دباؤ ان کی بیٹنگ پر مزید منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

2. طویل مدتی کپتانی کا تقاضا

ممبئی انڈینز نے ہاردک پانڈیا کو کپتان بنا کر ایک واضح اشارہ دیا تھا کہ وہ ایک نوجوان قیادت کی طرف منتقل ہونا چاہتے ہیں۔ روہت شرما اب 39 برس کے ہو چکے ہیں اور اگلے سال وہ 40 سال کے ہو جائیں گے۔ کسی بھی ٹیم کے لیے جو اگلے میگا آکشن اور طویل مدتی اہداف پر نظر رکھے ہوئے ہے، روہت جیسے تجربہ کار کھلاڑی کو دوبارہ کپتان بنانا صرف ایک عارضی حل ہوگا۔ فرنچائز کو ضرورت ہے کہ وہ مستقبل کے کپتان کی تلاش کرے اور اسے تیار کرے تاکہ 2028 کے سائیکل تک ٹیم ایک مستحکم قیادت کے ساتھ میدان میں اتر سکے۔ روہت کو دوبارہ کپتان بنانا وقت کی ضرورت کے برعکس ایک جذباتی اقدام ثابت ہو سکتا ہے۔

3. کپتانی کا حالیہ ریکارڈ اور ٹرافیوں کا قحط

یہ سچ ہے کہ روہت شرما نے ممبئی انڈینز کو پانچ ٹرافیاں جتوائیں، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ٹیم کے موجودہ ‘ٹرافی لیس’ دور کا آغاز بھی ان کی کپتانی میں ہی ہوا تھا۔ 2020 میں پانچویں ٹائٹل کے بعد، روہت شرما نے 2021 سے 2023 تک تین سیزن میں ٹیم کی قیادت کی، لیکن وہ کوئی ٹرافی نہیں جیت سکے۔ اس طویل قحط نے یہ ثابت کیا کہ ٹیم میں تبدیلی کی ضرورت پہلے سے موجود تھی۔ جب لاسیتھ ملنگا اور کیرون پولارڈ جیسے لیجنڈز ٹیم سے رخصت ہوئے، تو ممبئی انڈینز کی کارکردگی میں واضح گراوٹ دیکھنے میں آئی، اور اس دوران روہت شرما کی قیادت ٹیم کو سنبھالنے میں ناکام رہی۔

نتیجہ

ممبئی انڈینز کی کامیابی کا راز ہمیشہ مستقبل کی منصوبہ بندی میں رہا ہے۔ اگرچہ روہت شرما کا اس فرنچائز کے لیے کردار سنہری حروف میں لکھا جائے گا، لیکن ٹیم کا مستقبل اب کسی نئے اور نوجوان کپتان کے ہاتھوں میں ہے۔ ماضی کی کامیابیوں کی بنیاد پر مستقبل کے فیصلے کرنا کسی بھی بڑی فرنچائز کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔