Vaibhav Sooryavanshi handed ‘blank cheque’ by…. – ویبھو سوریاونشی: آئی پی ایل 2026 کے بعد برانڈ اینڈورسمنٹ میں “بلینک چیک” کی پیشکش
آئی پی ایل 2026 میں ویبھو سوریاونشی کا دھماکہ
ویبھو سوریاونشی، جو صرف 15 سال کے ہیں، نے آئی پی ایل 2026 میں اپنی دھماکے دار بیٹنگ سے نہ صرف کرکٹ کے میدانوں پر راج کیا ہے بلکہ اب وہ برانڈ اینڈورسمنٹ کی دنیا میں بھی ایک بڑا نام بنتے جا رہے ہیں۔ راجستھان رائلز (RR) کے لیے اپنی غیر معمولی کارکردگی کے بعد، کئی بڑی کمپنیاں اب ویبھو سوریاونشی کو برانڈ ڈیلز کے لیے سائن کرنے کی خواہشمند ہیں۔ بہار سے تعلق رکھنے والے اس نو عمر سنسنی نے ہندوستانی کرکٹ میں سب سے زیادہ زیر بحث چہروں میں سے ایک کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اتنی کم عمری میں ان کی بے خوف بیٹنگ، تفریحی چھکے اور شدید دباؤ میں بھی پرسکون رویے نے راجستھان رائلز کے اس اوپنر کو مداحوں میں بے حد مقبول بنا دیا ہے۔ یہ محض ایک کرکٹر کی کامیابی نہیں، بلکہ ایک ایسا رجحان ہے جس نے کھیل اور کارپوریٹ سیکٹر دونوں کو یکساں طور پر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان کی آمد نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عمر صرف ایک ہندسہ ہے جب بات ٹیلنٹ اور پرفارمنس کی ہو۔
اسپانسرشپ کی دوڑ میں شامل بڑی کمپنیاں
اب کئی بڑی کمپنیاں 15 سالہ بیٹنگ سنسنی کی مقبولیت کو اپنے برانڈز کو فروغ دینے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ کرک بلاگر کی رپورٹ کے مطابق، ویبھو سوریاونشی کی موجودہ بیٹ سپانسرشپ ڈیل تقریباً اختتام پذیر ہونے والی ہے، اور کئی بڑی کمپنیوں نے انہیں سائن کرنے کی دوڑ میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ یہ مقابلہ اس قدر شدید ہے کہ ہر کوئی اس نوجوان اسٹار کو اپنے ساتھ جوڑنا چاہتا ہے۔ ان کی مارکیٹ ویلیو میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے برانڈز کے درمیان انہیں حاصل کرنے کی خواہش میں مزید تیزی آئی ہے۔
“بلینک چیک” کی سنسنی خیز پیشکش
کچھ ہندوستانی ٹائر برانڈز بھی اس نوجوان میں ان کے خوابوں کے آئی پی ایل سیزن کے بعد بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ویبھو کے گرد جنون اتنا بڑھ گیا ہے کہ ایک کمپنی نے مبینہ طور پر انہیں ایک بلینک چیک کی پیشکش بھی کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کمپنی صرف نوجوان کے بیٹ پر اپنا لوگو حاصل کرنے کے لیے جو بھی رقم درکار ہوگی، ادا کرنے کو تیار ہے۔ یہ پیشکش اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ویبھو کی مارکیٹ میں کتنی اہمیت ہے۔ ان کی غیر معمولی صلاحیتوں اور کھیل پر گہری گرفت نے انہیں برانڈز کے لیے ایک پرکشش اثاثہ بنا دیا ہے۔
مالی معاہدوں میں غیر معمولی چھلانگ
اب تک، ویبھو اپنی بیٹ سپانسرشپ ڈیل سے ہر سال تقریباً 50 لاکھ روپے کما رہے تھے۔ لیکن آئی پی ایل 2026 کے بعد، ان کی قدر میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ اس بائیں ہاتھ کے بلے باز کو اب صرف بیٹ سپانسرشپ کے لیے سالانہ 12 کروڑ روپے سے زیادہ کی پیشکشیں ملی ہیں۔ یہ واقعی ناقابل یقین ہے، جیسا کہ کرک بلاگر نے دعویٰ کیا ہے کہ ‘ویبھو کو اپنی بیٹ سپانسرشپ کے لیے سالانہ 12 کروڑ روپے سے زیادہ کی فلکیاتی رقم کی پیشکش کی گئی ہے۔’ یہ پیشکش ان کے پچھلے بیٹ سپانسرشپ معاہدے سے تقریباً 24 گنا زیادہ ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک ایسے نوجوان کے لیے غیر معمولی ہیں جس نے ابھی اپنا بین الاقوامی کیریئر شروع بھی نہیں کیا۔ یہ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور مستقبل کے امکانات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بڑے ستاروں کو پیچھے چھوڑنے کا امکان؟
صرف یہی نہیں، بلکہ کچھ برانڈز اب ویبھو کے ساتھ تین سالہ معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے بھی تیار ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وہ آئی پی ایل 2026 کے بعد برانڈ ویلیو اور مارکیٹ ڈیمانڈ کے لحاظ سے ویرات کوہلی اور شبمن گل جیسے ہندوستان کے کچھ بڑے ناموں کو پیچھے چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ ایک ایسے نوجوان کے لیے ایک بہت بڑا سنگ میل ہے جس نے اپنی کم عمری میں ہی یہ مقام حاصل کر لیا ہے۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ پورے ہندوستانی کرکٹ کے لیے ایک فخر کا باعث ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح ایک نوجوان کھلاڑی اپنی کارکردگی سے مارکیٹ کے رجحانات کو تبدیل کر سکتا ہے۔
ماہرین کی آراء اور درپیش چیلنجز
بہت سے ماہرین نے تجویز دی ہے کہ برانڈز RR کے اس اوپنر کو ان کی بے خوف بیٹنگ اور بڑے مداحوں کی پیروی کی وجہ سے ہندوستانی کرکٹ کا مستقبل کا چہرہ سمجھتے ہیں۔ بہت سے لوگ محسوس کرتے ہیں کہ 15 سال کی عمر میں اتنی اچانک شہرت اور دولت کو سنبھالنا اس نوجوان کے لیے بہت اہم ہوگا۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا سامنا ہر کامیاب کھلاڑی کو کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر اس عمر میں جہاں صحیح رہنمائی اور فیصلے بہت اہم ہوتے ہیں۔ ان کی کارکردگی انہیں بلندیوں پر لے گئی ہے، لیکن اب ان کی شخصیت اور کردار کا امتحان ہوگا۔ یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے کھیل پر توجہ مرکوز رکھیں اور صحیح سمت میں آگے بڑھیں۔
ٹائر برانڈز کا کردار اور رشبھ پنت کا موازنہ
چونکہ یہ نو عمر سنسنی ہندوستانی کھیلوں میں سب سے زیادہ قیمتی نوجوان چہروں میں سے ایک بن رہا ہے، روایتی بیٹ کمپنیوں کو اتنی بڑی رقم کا مقابلہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے کیونکہ وہ عام طور پر سپانسرشپ پر اتنا زیادہ پیسہ خرچ نہیں کرتیں۔ لیکن بڑی ٹائر کمپنیاں کرکٹ میں بھاری سرمایہ کاری کے لیے جانی جاتی ہیں، اور ایم آر ایف (MRF) اور سی ای اے ٹی (CEAT) جیسے برانڈز اکثر سرفہرست کرکٹرز کے ساتھ مہنگے بیٹ ڈیلز میں شامل ہوتے ہیں۔ کچھ کا خیال تھا کہ اگر رشبھ پنت کو سالانہ 8 کروڑ روپے ملتے ہیں، تو ویبھو کو ان کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اس سے زیادہ ملنے پر کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ ایک ذرائع نے بتایا، “اگر رشبھ پنت، جو صرف ایک فارمیٹ کھیل رہے ہیں، سالانہ 8 کروڑ کا مطالبہ کر سکتے ہیں، تو یہ بالکل واضح ہے کہ سوریاونشی نے اپنی سنسنی خیز بیٹنگ سے سب کو حیران کر دیا ہے۔” یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ویبھو کی موجودگی نے مارکیٹ کے اصولوں کو کس طرح تبدیل کر دیا ہے اور ان کی مارکیٹ کی قدر کس قدر بلند ہو چکی ہے۔
مستقبل کی روشن راہیں
مجموعی طور پر، ویبھو سوریاونشی کی کہانی نہ صرف میدان میں ان کی شاندار کارکردگی کا نتیجہ ہے بلکہ ان کی مارکیٹ کی صلاحیت کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک 15 سالہ نوجوان کرکٹر کا اتنا بڑا مقام حاصل کرنا ہندوستانی کرکٹ کی مستقبل کی سمت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ان کی سفر ابھی شروع ہوا ہے، اور ان کی کامیابی کی کہانی ابھی بہت سی نئی کہانیاں رقم کرے گی۔ ان کے پاس صلاحیت ہے کہ وہ نہ صرف ایک بہترین کرکٹر بنیں بلکہ برانڈ ورلڈ میں بھی ایک غیر متنازعہ لیڈر بن کر ابھریں۔
