“Yes, of course”: Rajat Patidar replacing Suryakumar Yadav in Team India gets ap – رجت پاٹیدار کی شاندار کارکردگی: کیا وہ سوریا کمار یادیو کی جگہ لینے کے لیے تیار ہیں؟
رجت پاٹیدار: ہندوستانی کرکٹ کا نیا ابھرتا ہوا ستارہ
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کا سیزن رائل چیلنجرز بنگلورو (آر سی بی) کے کپتان رجت پاٹیدار کے لیے ایک خواب جیسا ثابت ہوا ہے۔ کوالیفائر 1 میں گجرات ٹائٹنز کے خلاف ان کی 93 رنز کی دھواں دار اننگز نے نہ صرف ان کی ٹیم کو فائنل میں پہنچایا بلکہ کرکٹ کے ماہرین کو بھی یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا اب وقت آگیا ہے کہ انہیں ہندوستانی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شامل کیا جائے۔
گجرات ٹائٹنز کے خلاف تاریخ ساز اننگز
رجت پاٹیدار نے دباؤ کے لمحات میں جس طرح کی بیٹنگ کا مظاہرہ کیا، وہ کسی بھی بڑے کھلاڑی کی پہچان ہے۔ انہوں نے صرف 33 گیندوں پر 93 رنز بنائے، جس میں 5 چوکے اور 9 فلک شگاف چھکے شامل تھے۔ گجرات ٹائٹنز کے مضبوط بولنگ اٹیک کے خلاف ان کا یہ جارحانہ انداز یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی بھی صورتحال میں میچ کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کی رائے: کیا سوریا کمار یادیو کا متبادل مل گیا؟
سابق ہندوستانی بلے باز امباتی رائیڈو نے رجت پاٹیدار کی حمایت میں واضح الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا پاٹیدار ہندوستانی ٹیم میں سوریا کمار یادیو کی جگہ لے سکتے ہیں، تو انہوں نے بلا جھجھک جواب دیا: “جی ہاں، بالکل۔” رائیڈو کا ماننا ہے کہ پاٹیدار ان چند کھلاڑیوں میں سے ہیں جنہیں ٹیم کی تعمیر کے لیے سب سے پہلے منتخب کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب، آکاش چوپڑا نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے مطالبہ کیا ہے کہ پاٹیدار کو جلد از جلد ہندوستانی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا حصہ بنانا چاہیے۔ ان کا ماننا ہے کہ پاٹیدار کا موجودہ فارم اور میچ جیتنے کی صلاحیت انہیں ٹیم کے لیے ایک قیمتی اثاثہ بناتی ہے۔
سوریا کمار یادیو کے لیے مشکلات
دوسری طرف، سوریا کمار یادیو کے لیے آئی پی ایل 2026 ایک مشکل سیزن رہا ہے۔ اپنی عام کارکردگی کے برعکس، وہ اس بار رنز بنانے کے لیے جدوجہد کرتے دکھائی دیے۔ جب ہندوستانی کرکٹ ایک نئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سائیکل کی جانب بڑھ رہی ہے، تو سلیکٹرز کا دھیان قدرتی طور پر ان کھلاڑیوں کی طرف جا رہا ہے جو مسلسل فارم میں ہیں اور دباؤ میں پرفارم کر رہے ہیں۔
آر سی بی کی کامیابی کا سفر
اس جیت کے ساتھ، آر سی بی نے لگاتار دوسری بار آئی پی ایل فائنل میں جگہ بنا کر ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔ رجت پاٹیدار نہ صرف ایک بلے باز کے طور پر بلکہ ایک کپتان کے طور پر بھی اپنی اہلیت ثابت کر چکے ہیں۔ انہیں کوالیفائر 1 میں ‘پلیئر آف دی میچ’ کا ایوارڈ ملا، جس سے وہ ایم ایس دھونی، روہت شرما اور ہاردک پانڈیا جیسے لیجنڈز کی فہرست میں شامل ہو گئے جنہوں نے پلے آف میچوں میں یہ اعزاز حاصل کیا ہے۔
نتیجہ
رجت پاٹیدار کی حالیہ کارکردگی محض اتفاق نہیں ہے۔ ان کی میچ کی سمجھ بوجھ، دباؤ کو جذب کرنے کی صلاحیت، اور جارحانہ شارٹس کھیلنے کی مہارت انہیں ایک مکمل ٹی ٹوئنٹی کھلاڑی بناتی ہے۔ اگر سلیکٹرز مستقبل کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، تو پاٹیدار کا نام یقیناً فہرست میں سب سے اوپر ہونا چاہیے۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا ہندوستانی ٹیم انتظامیہ انہیں کب تک نیلی جرسی میں دیکھنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
